المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
نماز میں جائز اور ناجائز کاموں کا بیان
حدیث نمبر: 215
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، قَالَ: ثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ ، قَالَ: ثَنَا نَافِعٌ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى قُبَاءٍ يُصَلِّي فِيهِ، قَالَ: فَجَاءَتِ الأَنْصَارُ فَسَلَّمُوا عَلَيْهِ وَهُوَ يُصَلِّي، قَالَ: فَقُلْتُ: يَا بِلالُ كَيْفَ رَأَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرُدُّ عَلَيْهِمْ حِينَ كَانُوا يُسَلِّمُونَ عَلَيْهِ وَهُوَ يُصَلِّي؟ قَالَ:" يَقُولُ هَكَذَا، وَبَسَطَ كَفَّهُ" .
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد قبا میں نماز پڑھنے کے لیے تشریف لے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے کہ انصار نے آکر سلام کہا، سیدنا عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: میں نے پوچھا: اے بلال! آپ نے نماز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کس طرح سلام کا جواب دیتے ہوئے دیکھا ہے؟ انہوں نے اپنی تھیلی کو پھیلا دیا اور کہا: اس طرح۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الصلاة/حدیث: 215]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده حسن: مسند الإمام أحمد: 6/12، سنن أبي داود: 927، سنن الترمذي: 368، اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن صحیح اور نووی رحمہ اللہ (خلاصتہ الاحکام: 1/508) نے صحیح کہا ہے۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده حسن
الرواة الحديث:
Al-Muntaqa Ibn al-Jarud Hadith 215 in Urdu
نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي