الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
دھوکہ دہی اور دیگر ممنوعہ خرید و فروخت کا بیان
حدیث نمبر: 594
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ: ثنا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، سَمِعَ أَبَا الْمِنْهَالِ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ إِيَاسَ بْنَ عَبْدٍ الْمُزَنِيِّ ، يَقُولُ: لا تَبِيعُوا الْمَاءَ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَنْهَى عَنْ بَيْعِ الْمَاءِ" ، لا أَدْرِي أَيَّ مَاءٍ هُوَ، وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً أُخْرَى: أَخْبَرَهُ أَبُو الْمِنْهَالِ.
سیدنا ایاس بن عبد مزنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ پانی نہ بیچا کریں، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پانی بیچنے سے منع فرما رہے تھے، معلوم نہیں کہ کون سا پانی مراد ہے؟ سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ کی ایک روایت میں ’مسمع‘ کی جگہ ’اخبرہ‘ کے الفاظ ہیں۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب البيوع والتجارات/حدیث: 594]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده صحيح: مسند الحميدي: 936، مسند الإمام أحمد: 417/3، 4/138، سنن أبي داود: 3478، سنن النسائي: 4666، سنن الترمذي: 1271، سنن ابن ماجه: 2476، اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن صحیح، امام ابن حبان رحمہ اللہ (4952) نے صحیح کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ (تلخیص المستدرک: 2/44) نے امام مسلم رحمہ اللہ کی شرط پر صحیح کہا ہے۔ امام سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ نے سماع کی تصریح کر رکھی ہے، ان کے متابع بھی ہیں۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده صحيح
الرواة الحديث:
عبد الرحمن بن مطعم البناني ← إياس بن عبد المزني