پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
پانی کی طہارت اور وہ مقدار جس سے پانی ناپاک ہوتا ہے یا نہیں
حدیث نمبر: 60
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَافِعٍ ، وَحَدَّثَنِي مُطَرِّفُ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ حُمَيْدَةَ بِنْتِ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ ، عَنْ كَبْشَةَ بِنْتِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ وَكَانَتْ تَحْتَ ابْنِ أَبِي قَتَادَةَ، أَنَّ أَبَا قَتَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ دَخَلَ عَلَيْهَا فَسَكَبَتْ لَهُ وُضُوءًا فَجَاءَتْ هِرَّةٌ تَشْرَبُ مِنْهُ فَأَصْغَى لَهَا الإِنَاءَ حَتَّى شَرِبَتْ، قَالَتْ كَبْشَةُ: فَرَآنِي أَنْظُرُ إِلَيْهِ، فَقَالَ: أَتَعْجَبِينَ يَا ابْنَةَ أَخِي؟ قَالَتْ: فَقُلْتُ: نَعَمْ، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّهَا لَيْسَتْ بِنَجِسٍ إِنَّهَا مِنَ الطَّوَّافِينَ عَلَيْكُمْ أَوِ الطَّوَّافَاتِ" .
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کی بیٹی اور ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کی بہو، کبشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ابو قتادہ رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے، تو انہوں نے انہیں وضو کے لیے پانی ڈال کر دیا۔ بلی آئی اور پینے لگی۔ انہوں نے اس کی طرف برتن جھکا دیا حتی کہ اس نے سیر ہو کر پی لیا، کبشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: آپ نے مجھے دیکھ کر کہ میں انہیں دیکھ رہی ہوں فرمایا: اے بھتیجی! کیا آپ تعجب کر رہی ہیں؟ میں نے کہا: جی ہاں! فرمایا: بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: یہ (بلی) پلید نہیں ہے، کیوں کہ یہ تم پر گھومنے پھرنے والے مرد یا عورتوں میں سے ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطهارة/حدیث: 60]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده صحيح: موطأ الإمام مالك: 23,22/1، مسند الإمام أحمد: 303/5-309، سنن أبي داود: 75، سنن النسائي: 68، سنن الترمذي: 92، سنن ابن ماجه: 367، اس حديث كو امام ترمذي رحمہ اللہ نے ”حسن صحيح“، امام ابن خزيمه رحمہ اللہ 104، امام ابن حبان رحمہ اللہ 1299 اور امام حاكم رحمہ اللہ 160/1 نے ”صحيح“ كہا ہے، حافظ ذہبي رحمہ اللہ نے ان كي موافقت كي ہے. امام عقيلی رحمہ اللہ فرماتے ہيں: هذا اسناد ثابت صحيح: [الضعفاء الكبير: 141/2] ، حافظ نووي رحمہ اللہ [الجموع: 1/ 118] اور حافظ ابن حجر رحمہ اللہ [المطالب العالية: 111/2] نے ”صحيح“ كہا ہے. امام دارقطني رحمہ اللہ فرماتے هيں: احسنها إسنادا ما رواه مالك.... [العلل: 163/6] »
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده صحيح
الرواة الحديث:
Al-Muntaqa Ibn al-Jarud Hadith 60 in Urdu
كبشة بنت كعب الأنصارية ← الحارث بن ربعي السلمي