المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
خلع کا بیان
حدیث نمبر: 751
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، قَالَ: ثنا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَفْضَلُ الصَّدَقَةِ مَا تُصُدِّقَ بِهِ عَنْ ظَهْرِ غِنًى، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ" ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: تَقُولُ امْرَأَتُكَ: أَنْفِقْ عَلَيَّ أَوْ طَلِّقْنِي، وَيَقُولُ وَلَدُكَ: أَنْفِقْ عَلَيَّ إِلَى مَنْ تَكِلُنِي؟ وَيَقُولُ خَادِمُكَ: أَنْفِقْ عَلَيَّ أَوْ بِعْنِي.
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: افضل صدقہ وہ ہے، جو اپنی ضرورت پوری کرنے کے بعد ہو اور ان لوگوں سے شروع کریں، جن کا خرچ آپ کے ذمہ ہے۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: تیری بیوی کہتی ہے کہ مجھے خرچ دے یا مجھے طلاق دے دے، بیٹا کہتا ہے: مجھے کس کے حوالے کر رہے ہو، مجھ پر خرچ کرو، غلام کہتا ہے: مجھے خرچ دو یا مجھے بیچ دو۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 751]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح: یہ روایت صحیح بخاری (5355) میں اعمش کی سند جو ابوصالح سے بیان کرتے ہیں، وہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں، سے بھی آتی ہے، اسی طرح صحیح بخاری (1426، 5356) میں سعید بن مسیب رحمہ اللہ کی سند ہے، جو کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
الرواة الحديث:
عبد الرحمن بن هرمز الأعرج ← أبو هريرة الدوسي