المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
کنوارے اور شادی شدہ زانی کی حد کا بیان
حدیث نمبر: 814
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، وَأَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ ، قَالا: ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أنا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ صَامِتِ ابْنِ أَخِي أَبِي هُرَيْرَةَ، أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: جَاءَ الأَسْلَمِيُّ إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَشَهِدَ عَلَى نَفْسِهِ أَنَّهُ أَصَابَ امْرَأَةً حَرَامًا أَرْبَعَ مَرَّاتٍ، كُلَّ ذَلِكَ يُعْرِضُ عَنْهُ، فَأَقْبَلَ عَلَيْهِ الْخَامِسَةَ، فَقَالَ: " أَنِكْتَهَا؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: حَتَّى غَابَ ذَلِكَ مِنْكَ فِي ذَلِكَ مِنْهَا كَمَا يَغِيبُ الْمِرْوَدُ فِي الْمُكْحُلَةِ وَالرِّشَاءُ فِي الْبِئْرِ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: تَدْرِي مَا الزِّنَا؟ قَالَ: نَعَمْ، أَتَيْتُ مِنْهَا حَرَامًا مَا يَأْتِي الرَّجُلُ مِنِ امْرَأَتِهِ حَلالا، قَالَ: فَمَا تُرِيدُ بِهَذَا الْقَوْلِ؟ قَالَ: أُرِيدُ أَنْ تُطَهِّرَنِي، قَالَ: فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُجِمَ، فَسَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلَيْنِ مِنْ أَصْحَابِهِ يَقُولُ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ: انْظُرْ إِلَى هَذَا الَّذِي سَتَرَ اللَّهُ عَلَيْهِ فَلَمْ تَدَعْهُ نَفْسُهُ حَتَّى رُجِمَ رَجْمَ الْكَلْبِ، فَسَكَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُمَا، ثُمَّ سَارَ سَاعَةً حَتَّى مَرَّ بِجِيفَةِ حِمَارٍ شَائِلٍ بِرِجْلِهِ، فَقَالَ: أَيْنَ فُلانٌ وَفُلانٌ؟ فَقَالا: نَحْنُ ذَانِ، وَقَالَ السُّلَمِيُّ: ذَيْنِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ: انْزِلا فَكُلا مِنْ جِيفَةِ هَذَا الْحِمَارِ، فَقَالا: يَا نَبِيَّ اللَّهِ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ، وَمَنْ يَأْكُلُ مِنْ هَذَا؟ قَالَ: فَمَا نِلْتُمَا مِنْ عِرْضِ أَخِيكُمَا آنِفًا أَشَدُّ مِنْ أَكَلِ الْمَيْتَةِ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّهُ الآنَ لَفِي أَنْهَارِ الْجَنَّةِ يَنْغَمِسُ فِيهَا" ، وَقَالَ السُّلَمِيُّ: يَنْقَمِصُ فِيهَا.
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ماعز اسلمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر چار مرتبہ اقرار کیا کہ اس نے ایک عورت سے حرام طریقے سے ہم بستری کی ہے، آپ ہر مرتبہ اس سے چہرہ موڑ لیتے، پھر پانچویں دفعہ اس کی طرف متوجہ ہوئے اور پوچھا: کیا آپ نے اس سے صحبت کی ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں! فرمایا: حتیٰ کہ تیری شرمگاہ اس کی شرمگاہ میں یوں داخل ہوگئی، جس طرح سلائی سرمہ دانی میں اور ڈول کی رسی کنویں میں چلی جاتی ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں! آپ نے پوچھا: معلوم ہے کہ زنا کیا ہوتا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں! میں اس کے پاس حرام طریقے سے آیا ہوں، جس طرح آدمی اپنی بیوی کے پاس حلال طریقے سے آتا ہے۔ آپ نے فرمایا: اس قول (اقرار) سے کیا چاہتے ہو؟ اس نے کہا: میں چاہتا ہوں کہ آپ مجھے پاک کر دیں۔ آپ نے اس کے بارے میں حکم دیا، تو اسے رجم کر دیا گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دو صحابہ کو سنا، جن میں سے ایک دوسرے سے کہہ رہا تھا، اس (ماعز) کو دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی ستر پوشی کی تھی لیکن اس کے نفس نے اسے نہیں چھوڑا حتیٰ کہ کتے کی طرح سنگسار کیا گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔ پھر آپ تھوڑی دیر چلے حتیٰ کہ ایک مردار گدھے کے پاس سے گزرے، جس کی ٹانگ اٹھی ہوئی تھی، آپ نے فرمایا: فلاں اور فلاں کہاں ہیں؟ ان دونوں نے کہا: اللہ کے رسول! ہم حاضر ہیں۔ آپ نے فرمایا: نیچے اترو اور اس مردار گدھے کا گوشت کھاؤ۔ ان دونوں نے کہا: اللہ کے نبی! اللہ آپ کو معاف فرمائے، اسے کون کھاتا ہے؟ فرمایا: تم نے ابھی ابھی اپنے بھائی کی جو ہتک کی ہے، وہ اس (مردار) کے کھانے سے بھی شدید تر ہے، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! وہ تو اب بھی جنت کی نہروں میں غوطے لگا رہا ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 814]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده حسن: مصنف عبدالرزاق: 13340، سنن أبي داود: 4428، السنن الكبرى للنسائي: 7163، اس حدیث کو امام ابن حبان رحمہ اللہ (4399) اور علامہ عینی حنفی رحمہ اللہ (نخب الافکار: 467/15) نے صحیح کہا ہے۔ عبدالرحمن بن الصامت حسن الحدیث ہے۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده حسن
الرواة الحديث:
عبد الرحمن بن الصامت الدوسي ← أبو هريرة الدوسي