المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
جان بوجھ کر زخمی کرنے کے احکام کا بیان
حدیث نمبر: 851
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا مُوسَى بْنُ هَارُونَ الْبُرْدِيُّ ، قَالَ: أنا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ فَيَّاضٍ الأَبْنَاوِيِّ ، عَنْ خَلادِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَجُلا مِنْ بَنِي بَكْرِ بْنِ لَيْثٍ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَقَرَّ أَنَّهُ زَنَى بِامْرَأَةٍ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ، فَجَلَدَهُ مِائَةً، وَكَانَ بِكْرًا، ثُمَّ سَأَلَهُ الْبَيِّنَةَ عَلَى الْمَرْأَةِ، فَقَالَتِ الْمَرْأَةُ: كَذَبَ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَجَلَدَهُ حَدَّ الْفِرْيَةِ ثَمَانِينَ".
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ بنو بکر بن لیث قبیلے کا ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے چار مرتبہ اقرار کیا کہ اس نے فلاں عورت سے زنا کیا ہے، وہ کنوارا تھا، آپ نے اسے سو کوڑے لگائے، پھر آپ نے اس سے عورت کے خلاف دلیل مانگی، تو وہ عورت کہنے لگی: اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! یہ جھوٹ بول رہا ہے۔ آپ نے اسے حد قذف (تہمت) میں (80) کوڑے لگائے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 851]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده ضعيف: سنن أبي داود: 4467، السنن الكبرى للنسائي: 7348، اس حدیث کو امام نسائی رحمہ اللہ نے ”منکر“ کہا ہے، جبکہ امام حاکم رحمہ اللہ (370/4، 371) نے اس کی سند کو صحیح کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ ان کے رد و تعاقب میں کہتے ہیں: ”القاسم ضعیف“۔ قاسم بن فیاض ابناوی راوی جمہور محدثین کے نزدیک ضعیف ہے۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده ضعيف
الرواة الحديث:
سعيد بن المسيب القرشي ← عبد الله بن العباس القرشي