مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
24. (السخلة) (تحسب) على صاحب الغنم
بھیڑ کا بچہ کیا بکریوں کے مالک پر حساب کیا جائیگا؟
ترقیم عوامۃ: 10079 ترقیم الشثری: -- 10254
١٠٢٥٤ - حدثنا ابن عيينة عن بشر (بن) (١) عاصم (بن سفيان) (٢) عن ابيه (ان) (٣) عمر استعمل اباه على الطائف و (مخاليفها) (٤) ، (وكان) (٥) يصدق (فاعتد) (٦) ⦗١٩٩⦘ عليهم بالغذاء، فقال له الناس: إن كنت (معتدا) (٧) بالغذاء (فخذ) (٨) (منه) (٩) ، فامسك (عنهم) (١٠) حتى لقي عمر فاخبره بالذي قالوا، فقال: (اعتد) (١١) (عليهم) (١٢) (بالغذاء) (١٣) وإن جاء بها الراعي يحملها على يده، واخبرهم انك تدع لهم (الربى) (١٤) و (الماخض) (١٥) والاكيلة و (فحل) (١٦) الغنم و (خذ) (١٧) العناق: الجذعة والثنية، فذلك عدل بين خيار (المال) (١٨) والغذاء (١٩) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ص]: (عن).
(٢) سقط من: [ب، ص، ح، ز، ك].
(٣) في [أ، ب، هـ]: (عن).
(٤) في [ب، ص]: (مخالفها) وفي [ب، ز]: (محالفها) وفي [ك]: (مخالفيها) وفي [هـ]: (مجاهدًا).
(٥) في [ح، ص، ك]: (فكان).
(٦) في [ص]: (فاعيد).
(٧) في [ح]: (تعتدا) وفي [ص]: (معيدا).
(٨) في [ص]: (فجد).
(٩) في [أ، ب]: (عنه).
(١٠) في [هـ]: (منهم) وفي [ح]: (عمم).
(١١) في [ص]: (اعيد).
(١٢) في [ح] سقطت: (عليهم).
(١٣) في [ح]: (بالسخلة).
(١٤) في [هـ]: (الشاة) وفي [ح]: (الشاء).
(١٥) في [ب]: (الماحضر).
(١٦) في [ص]: (فحل).
(١٧) في [أ، ب]: (حد).
(١٨) في [ص]: (الماء).
(١٩) حسن؛ عاصم صدوق.
حدثنا حدثنا ابن عيينة، عن بشر بن عاصم بن سفيان، عن ابيه، ان عمر ، استعمل اباه على الطائف ومخاليفها، وكان يصدق فاعتد عليهم بالغذاء، فقال له الناس: إن كنت معتدا بالغذاء فخذ منه، فامسك عنهم حتى لقي عمر فاخبره بالذي , قالوا، فقال: " اعتد عليهم بالغذاء وإن جاء بها الراعي يحملها على يده، واخبرهم انك تدع لهم الربى والماخض والاكيلة وفحل الغنم وخذ العناق الجذعة والثنية فذلك عدل بين خيار المال والغذاء"
حضرت بشر بن عاصم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر نے میرے والد کو طائف کے علاقوں میں زکوٰۃ وصول کرنے کا فریضہ سونپا، (میرے والد نے) انکی بکریوں کو چھوٹے بچوں کو ملا کر شمار کیا، لوگوں نے میرے والد سے کہا: اگر آپ زکوٰۃ وصول کرتے وقت اس چھوٹے بچے کو بھی شمار کر رہے ہیں تو پھر زکوٰۃ میں بھی اسی چھوٹے کو وصول کرلو۔ وہ رک گئے ان سے یہاں تک کہ ان کی حضرت عمر سے ملاقات ہوئی، تو انہوں نے حضرت عمر کے سامنے سارا ماجرا بیان کیا، آپ نے فرمایا: انکی بکریوں کو شمار کرتے وقت چھوٹے بچوں کو بھی ساتھ شمار کرو اگرچہ (وہ اتنا چھوٹا ہو کہ) چرواہا اس کو اپنے ہاتھوں پہ اٹھا کر لائے، اور ان کو بتادو کہ بیشک تمہارے لئے چھوٹا دودھ پیتا بچہ، حاملہ بکری، وہ بکری جس کو ذبح کرنے کی غرض موٹا اور فربہ کیا ہو اور سانڈ (نر) جانور چھوڑ دیا گیا ہے (یعنی زکوٰۃ لیتے وقت ان کا شمار نہیں ہوگا) ہاں البتہ لیا جائے گا وہ بچہ جس پر ابھی سال مکمل نہ گذرا ہو اور اسی طرح بکری کا آٹھ ماہ کا بچہ اور وہ بکری جس کے سامنے والے چار دانتوں میں سے دو ظاہر ہوگئے ہوں۔ اس طرح کرنے سے بہترین مال اور چھوٹے مال کے درمیان انصاف اور مساوات ہوجائے گی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزكاة/حدیث: 10254]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10254، ترقيم محمد عوامة 10079)
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 10254 in Urdu