🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
126. ما ذكر في الكنز والبخل (بالحق) في المال
مال میں بخل اور خزانے سے متعلق جو مذکور ہے اسکا بیان
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 10802 ترقیم الشثری: -- 11007
١١٠٠٧ - حدثنا يعلى بن عبيد قال: (حدثنا) (١) عبد الملك (بن) (٢) ابي سليمان عن ابي الزبير عن جابر قال: قال رسول الله ﷺ:"ما من صاحب إبل ولا ⦗٣٨٩⦘ بقر ولا غنم (٣) لا يؤدي حقها إلا (اقعد) (٤) لها يوم القيامة بقاع قرقر، تطاه ذات الظلف بظلفها، (وتنطحه) (٥) ذات القرن بقرنها وليس فيها يومئذ جماء ولا مكسورة القرن"، (قالوا) (٦) : يا رسول الله وما حقها؟ قال:"إطراق فحلها وإعارة دلوها ومنيحتها و (حلبها) (٧) على الماء وحمل عليها في سبيل الله" (٨) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ص]: (نا).
(٢) سقط من: [هـ].
(٣) في [ص] زيادة: (و).
(٤) في [ص]: (قعد).
(٥) في [ح، ص]: (وينطحه)
(٦) في [ب]: (قلنا).
(٧) في [هـ]: (حليبها).
(٨) صحيح، أخرجه مسلم (٩٨٨)، وأحمد (١٤٤٤٢).

حدثنا يعلى بن عبيد ، قال: حدثنا عبد الملك بن ابي سليمان ، عن ابي الزبير ، عن جابر ، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " ما من صاحب إبل ولا بقر ولا غنم لا يؤدي حقها إلا اقعد لها يوم القيامة بقاع قرقر، يطؤه ذات الظلف بظلفها، وتنطحه ذات القرن بقرنها، وليس فيها يومئذ جماء ولا مكسورة القرن" قالوا: يا رسول الله , وما حقها؟ قال:" إطراق فحلها، وإعارة دلوها، ومنيحتها وحلبها على الماء، وحمل عليها في سبيل الله"
حضرت جابر سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: نہیں ہے کوئی اونٹوں، گائے اور بکریوں والا شخص جس نے ان کا حق ادا نہیں کیا رکھا جائے گا قیامت کے دن برابر اور چٹیل میدان میں، جہاں ہر کھر والا جانور اس کو کھروں سے روندے گا اور ہر سینگ والا جانور اس کو سینگ سے مارے گا، اس دن کوئی جانور ایسا نہ ہوگا جس کے سینگ نہ ہوں یا ٹوٹے ہوئے ہوں۔ صحابہ کرام نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! ان کا حق کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جفتی کیلئے اونٹ کسی کو (عاریۃ) دے دینا، اور اس کے ڈول کا عاریۃ دینا، اور اس کو کسی کی ضرورت پوری کرنے کیلئے عاریۃ دینا، اور اونٹنی کا دودھ پانی کے گھاٹ کے پاس نکالنا (تاکہ مساکین بھی پی سکیں) اس کے دودھ کو پانی سے دور رکھنا، اور اس پر اللہ تعالیٰ کے راستہ میں سواری کرنا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزكاة/حدیث: 11007]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11007، ترقيم محمد عوامة 10802)


Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 11007 in Urdu