مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
63. من رخص في الأذان بالجنازة
بعض حضرات نے جنازے کے اعلان کی اجازت دی ہے
ترقیم عوامۃ: 11335 ترقیم الشثری: -- 11553
١١٥٥٣ - حدثنا سعيد بن يحيى (الحميري) (١) عن سفيان بن حسين عن الزهري عن ابي امامة بن سهل عن ابيه قال: كان رسول الله ﷺ يعود فقراء اهل المدينة ويشهد جنائزهم إذا ماتوا قال: فتوفيت امراة من اهل العوالي فقال رسول الله ﷺ:"إذا حضرت فآذنوني (بها) (٢) " قال: فاتوه (ليؤذنوه) (٣) فوجدوه نائما وقد ذهب من الليل فكرهوا ان يوقظوه، وتخوفوا عليه ظلمة الليل وهوام الارض، فلما اصبح سال عنها فقالوا: يا رسول الله اتيناك لنؤذنك بها فوجدناك نائما فكرهنا ان نوقظك، وتخوفنا عليك ظلمة الليل وهوام الارض، قال: فدفناها (هناك) (٤) ، فمشى رسول الله ﷺ إلى قبرها فصلى عليها وكبر اربعا (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ص]: (الحمير).
(٢) سقط من: [أ، ب].
(٣) في [ز]: (فليؤذنوه).
(٤) سقط من: [أ، ص].
(٥) ضعيف؛ رواية سفيان بن حسين عن الزهري ضعيفة، أخرجه الطحاوي ١/ ٤٩٤، والطبراني (٥٥٨٦)، والخطيب ٩/ ٧٥، والحارث كما في المطالب (٨٧٨)، والبيهقي ٤/ ٤٨، وابن عبد البر في التمهيد ٦/ ٢٦٣، وقد أخرجه مرسلًا مالك في الموطأ ص ٢٢٦، والشافعي في الأم ١/ ٢٧٠، والنسائي ٤/ ٤٠، وعبد الرزاق (٦٥٤٢).
حدثنا سعيد بن يحيى الحميري ، عن سفيان بن حسين ، عن الزهري ، عن ابي امامة بن سهل ، عن ابيه ، قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يعود فقراء اهل المدينة ويشهد جنائزهم إذا ماتوا قال: فتوفيت امراة من اهل العوالي، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" إذا حضرت فآذنوني بها" قال: فاتوه ليؤذنوه فوجدوه نائما، وقد ذهب من الليل، فكرهوا ان يوقظوه وتخوفوا عليه ظلمة الليل وهوام الارض، فلما اصبح سال عنها، فقالوا: يا رسول الله اتيناك لنؤذنك بها , فوجدناك نائما , فكرهنا ان نوقظك , وتخوفنا عليك ظلمة الليل وهوام الارض. قال: فدفناها هناك، فمشى رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى قبرها فصلى عليها , وكبر اربعا"
حضرت ابوامامہ بن سھل اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اھل مدینہ کے فقراء کی عیادت فرماتے اور ان کے جنازے میں شرکت فرماتے، اھل عوالی میں سے ایک عورت مرگئی آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب اس کے پاس موت آجائے تو مجھے اطلاع دینا۔ جب لوگ اطلاع دینے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے تو آپ کو آرام کرتا ہوا پایا اور اس وقت رات کا کچھ حصہ گذر چکا تھا۔ انہوں نے اس بات کو ناپسند کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نیند سے جگایا جائے، انہوں نے خوف محسوس کیا رات کی تاریکی اور زمین کے کیڑے پتنگوں کی وجہ سے۔ جب صبح ہوئی تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس عورت کے بارے میں دریافت فرمایا: لوگوں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! ہم اطلاع دینے کے لیے حاضر ہوئے تھے لیکن ہم نے آپ کو نیند میں پایا تو جگانا مناسب نہ سمجھا اور رات کی تاریکی اور زمین کے شیر نے ہمیں خوف زدہ کردیا۔ اس لیے ہم نے اس کو دفن کردیا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (یہ سن کر) ہمارے ساتھ چلے اور اس خاتون کی قبر پر تشریف لائے اور اس پر نماز پڑھی اور چار تکبیریں پڑھیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنائز/حدیث: 11553]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11553، ترقيم محمد عوامة 11335)
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 11553 in Urdu