مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
63. من رخص في الأذان بالجنازة
بعض حضرات نے جنازے کے اعلان کی اجازت دی ہے
ترقیم عوامۃ: 11329 ترقیم الشثری: -- 11547
١١٥٤٧ - حدثنا هشيم قال: اخبرنا عثمان بن حكيم عن (خارجة) (١) بن زيد عن عمه يزيد بن ثابت وكان اكبر من زيد قال: خرجنا مع رسول الله ﷺ فلما وردنا البقيع إذا هو بقبر جديد (فسال) (٢) عنه فقالوا: فلانة فعرفها، قال: فقال:"افلا آذنتموني بها"، قالوا: كنت قائلا (صائما) (٣) فكرهنا ان نؤذنك، فقال:"لا تفعلوا، لا اعرفن، ما مات منكم ميت ما (كنت) (٤) بين اظهركم إلا آذنتموني به ⦗٥٣٥⦘ فإن صلاتي عليه (له) (٥) رحمة" (٦) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ص]: (خاجته).
(٢) في [أ، ب، ز، ط]: (فسألوا).
(٣) سقط من: [أ، ص، ز].
(٤) في [ص، ز]: (دمت).
(٥) سقط من: [أ، ص، ز].
(٦) منقطع، خارجة لم يسمع من عمه يريد، أخرجه أحمد (١٩٤٥٢)، وابن ماجة (١٥٢٨)، والنسائي ٤/ ٨٤، وابن حبان (٣٠٨٧)، والحاكم ٣/ ٥٩١، وابن عاصم في الآحاد (١٩٧٠)، وابن قانع ٣/ ٢٢٨، وأبو يعلى (٩٣٧)، وابن الأثير ٥/ ٤٨٠، والطبراني ٢٢/ ٦٢٨، والبيهقي ٤/ ٣٥، وابن عبد البر في التمهيد ٦/ ٢٧١.
حدثنا هشيم قال: اخبرنا عثمان بن حكيم ، عن خارجة بن زيد ، عن عمه يزيد بن ثابت ، وكان اكبر من زيد، قال: خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم، فلما وردنا البقيع إذا هو بقبر جديد فسال عنه، فقالوا: فلانة، فعرفها قال: فقال:" افلا آذنتموني بها" قالوا: كنت قائلا صائما فكرهنا ان نؤذنك، فقال:" لا تفعلوا، لا اعرفن ما مات منكم ميت ما دمت بين اظهركم إلا آذنتموني به , فإن صلاتي عليه له رحمة"
حضرت خارجہ بن زید انپے چچا حضرت یزید بن ثابت سے روایت کرتے ہیں وہ حضرت زید سے بڑے تھے، فرماتے ہیں کہ ایک دن ہم نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نکلے، جب ہم جنت البقیع میں آئے تو وہاں پر ایک نئی قبر تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے بارے میں دریافت فرمایا: لوگوں نے عرض کیا فلاں عورت کی قبر ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو پہچان لیا اور فرمایا: تم نے مجھے اس کی اطلاع کیوں نہ دی؟ لوگوں نے عرض کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود فرمایا تھا اس لیے ہم نے آپ کو اطلاع دینا ناپسند سمجھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص فوت ہوجائے تو تم ہرگز اس کا اعلان مت کرو مگر مجھے اس کے بارے میں اطلاع دیدو۔ بیشک میرا اس پر نماز پڑھنا اسکے لیے رحمت کا باعث ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنائز/حدیث: 11547]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11547، ترقيم محمد عوامة 11329)
ترقیم عوامۃ: 11330 ترقیم الشثری: -- 11548
١١٥٤٨ - حدثنا محمد بن ابي عدي عن ابن عون عن محمد انه كان لا يرى باسا ان يؤذن الرجل حميمه وصديقه بالجنازة.
حدثنا محمد بن ابي عدي، عن ابن عون، عن محمد، انه كان " لا يرى باسا ان يؤذن الرجل حميمه وصديقه بالجنازة"
حضرت ابن عون فرماتے ہیں حضرت محمد اس بات مںْ کوئی حرج نہیں سمجھتے کہ آدمی جنازے کی اطلاع رشتہ داروں اور دوستوں کو کر دے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنائز/حدیث: 11548]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11548، ترقيم محمد عوامة 11330)
ترقیم عوامۃ: 11331 ترقیم الشثری: -- 11549
١١٥٤٩ - حدثنا عبدة عن هشام بن عروة (عن عبد الله بن عروة) (١) ان ابا هريرة كان يؤذن بالجنازة فيمر بالمسجد فيقول: عبد الله دعي فاجاب او امة الله دعيت فاجابت، فلا يقوم معه إلا القليل منهم (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ص].
(٢) صحيح.
حدثنا حدثنا عبدة، عن هشام بن عروة، عن عبد الله بن عروة، ان ابا هريرة ، كان يؤذن بالجنازة , فيمر بالمسجد , فيقول: عبد الله دعي , فاجاب او امة الله دعيت , فاجابت، فلا يقوم معها إلا القليل منهم
حضرت عبد اللہ بن عروہ سے مروی ہے کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو ایک جنازے پر بلایا گیا تو وہ مسجد سے گذرے اور یوں فرما رہے تھے کہ اللہ کا بندہ بلایا گیا ہے پس اس نے قبول کیا، یا اللہ کی لونڈی بلائی گئی پس اس نے قبول کیا، پس ان کے ساتھ ان میں سے چند لوگ ہی کھڑے ہوتے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنائز/حدیث: 11549]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11549، ترقيم محمد عوامة 11331)
ترقیم عوامۃ: 11332 ترقیم الشثری: -- 11550
١١٥٥٠ - حدثنا محمد بن فضيل عن ابي حيان عن ابيه قال: كان عمرو بن ميمون صديقا للربيع بن (خثيم) (١) فلما ثقل قال عمرو لام ولد الربيع بن خثيم: اعلميني إذا مات، فقالت: إنه قال: إذا انا مت (فلا) (٢) تشعري بي احدا وسلوني إلى ربي سلا قال: فبات عمرو على دكاكين بني ثور حتى اصبح فشهده.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (خيثم).
(٢) في [ص]: (فله).
حدثنا محمد بن فضيل، عن ابي حيان، عن ابيه، قال: كان عمرو بن ميمون صديقا للربيع بن خثيم، فلما ثقل، قال عمرو لام ولد للربيع بن خثيم: اعلميني إذا مات، فقالت: إنه قال: " إذا انا مت فلا تشعري بي احدا وسلوني إلى ربي سلا" قال: فبات عمرو على دكاكين بني ثور حتى اصبح فشهده.
حضرت ابو حیان اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمرو بن میمون حضرت ربیع بن خیثم کے دوست تھے، جب حضرت ربیع بن خیثم پر زندگی دشوار ہوگئی تو حضرت عمرو بن میمون نے ان کے ام ولد سے کہا جب وہ فوت ہوجائیں تو مجھے اطلاع دینا۔ انہوں نے عرض کیا کہ حضرت ربیع نے کہا ہے کہ جب میں مر جاؤں تو میرے بارے میں کسی کو خبر مت دینا اور مجھے خفیہ طور پر دفن کردینا۔ راوی کہتے ہیں کہ حضرت عمرو بن میمون نے بنی ثور کے چبوترے پر رات گذاری یہاں تک کہ صبح ہوگی پھر وہ اس کے پاس حاضر ہوئے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنائز/حدیث: 11550]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11550، ترقيم محمد عوامة 11332)
ترقیم عوامۃ: 11333 ترقیم الشثری: -- 11551
١١٥٥١ - حدثنا محمد بن يزيد عن هشام الدستوائي عن حماد عن إبراهيم: انه كان لا يرى باسا ان يؤذن بالميت صديقه وقال: إنما كانوا يكرهون نعيا كنعي الجاهلية انعى فلانا.
حدثنا محمد بن يزيد، عن هشام الدستوائي، عن حماد، عن إبراهيم، انه كان " لا يرى باسا ان يؤذن بالميت صديقه" وقال:" إنما كانوا يكرهون نعيا كنعي الجاهلية , انعي فلانا"
حضرت حماد سے مروی ہے کہ حضرت ابراہیم اس بات میں کوئی حرج نہیں سمجھتے کہ مرنے کے بعد میت کے دوست کو اطلاع کی جائے۔ وہ فرماتے تھے کہ صحابہ کرام جاہلیت کی طرح اطلاع دینے کو ناپسند سمجھتے تھے کہ فلاں کو خبر دی جائے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنائز/حدیث: 11551]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11551، ترقيم محمد عوامة 11333)
ترقیم عوامۃ: 11334 ترقیم الشثری: -- 11552
١١٥٥٢ - حدثنا عبد الله بن نمير عن إسماعيل بن ابي خالد عن النعمان قال: كان علي إذا دعي إلى جنازة قال: إنا (القائمون) (١) وما يصلي على المرء إلا عمله (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ز]: (لقائمون).
(٢) منقطع؛ النعمان لم يسمع من علي.
حدثنا حدثنا عبد الله بن نمير، عن إسماعيل بن ابي خالد، عن النعمان، قال: كان علي إذا دعي إلى جنازة قال:" إنا لقائمون , وما يصلي على المرء إلا عمله"
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11552، ترقيم محمد عوامة 11334)
ترقیم عوامۃ: 11335 ترقیم الشثری: -- 11553
١١٥٥٣ - حدثنا سعيد بن يحيى (الحميري) (١) عن سفيان بن حسين عن الزهري عن ابي امامة بن سهل عن ابيه قال: كان رسول الله ﷺ يعود فقراء اهل المدينة ويشهد جنائزهم إذا ماتوا قال: فتوفيت امراة من اهل العوالي فقال رسول الله ﷺ:"إذا حضرت فآذنوني (بها) (٢) " قال: فاتوه (ليؤذنوه) (٣) فوجدوه نائما وقد ذهب من الليل فكرهوا ان يوقظوه، وتخوفوا عليه ظلمة الليل وهوام الارض، فلما اصبح سال عنها فقالوا: يا رسول الله اتيناك لنؤذنك بها فوجدناك نائما فكرهنا ان نوقظك، وتخوفنا عليك ظلمة الليل وهوام الارض، قال: فدفناها (هناك) (٤) ، فمشى رسول الله ﷺ إلى قبرها فصلى عليها وكبر اربعا (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ص]: (الحمير).
(٢) سقط من: [أ، ب].
(٣) في [ز]: (فليؤذنوه).
(٤) سقط من: [أ، ص].
(٥) ضعيف؛ رواية سفيان بن حسين عن الزهري ضعيفة، أخرجه الطحاوي ١/ ٤٩٤، والطبراني (٥٥٨٦)، والخطيب ٩/ ٧٥، والحارث كما في المطالب (٨٧٨)، والبيهقي ٤/ ٤٨، وابن عبد البر في التمهيد ٦/ ٢٦٣، وقد أخرجه مرسلًا مالك في الموطأ ص ٢٢٦، والشافعي في الأم ١/ ٢٧٠، والنسائي ٤/ ٤٠، وعبد الرزاق (٦٥٤٢).
حدثنا سعيد بن يحيى الحميري ، عن سفيان بن حسين ، عن الزهري ، عن ابي امامة بن سهل ، عن ابيه ، قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يعود فقراء اهل المدينة ويشهد جنائزهم إذا ماتوا قال: فتوفيت امراة من اهل العوالي، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" إذا حضرت فآذنوني بها" قال: فاتوه ليؤذنوه فوجدوه نائما، وقد ذهب من الليل، فكرهوا ان يوقظوه وتخوفوا عليه ظلمة الليل وهوام الارض، فلما اصبح سال عنها، فقالوا: يا رسول الله اتيناك لنؤذنك بها , فوجدناك نائما , فكرهنا ان نوقظك , وتخوفنا عليك ظلمة الليل وهوام الارض. قال: فدفناها هناك، فمشى رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى قبرها فصلى عليها , وكبر اربعا"
حضرت ابوامامہ بن سھل اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اھل مدینہ کے فقراء کی عیادت فرماتے اور ان کے جنازے میں شرکت فرماتے، اھل عوالی میں سے ایک عورت مرگئی آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب اس کے پاس موت آجائے تو مجھے اطلاع دینا۔ جب لوگ اطلاع دینے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے تو آپ کو آرام کرتا ہوا پایا اور اس وقت رات کا کچھ حصہ گذر چکا تھا۔ انہوں نے اس بات کو ناپسند کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نیند سے جگایا جائے، انہوں نے خوف محسوس کیا رات کی تاریکی اور زمین کے کیڑے پتنگوں کی وجہ سے۔ جب صبح ہوئی تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس عورت کے بارے میں دریافت فرمایا: لوگوں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! ہم اطلاع دینے کے لیے حاضر ہوئے تھے لیکن ہم نے آپ کو نیند میں پایا تو جگانا مناسب نہ سمجھا اور رات کی تاریکی اور زمین کے شیر نے ہمیں خوف زدہ کردیا۔ اس لیے ہم نے اس کو دفن کردیا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (یہ سن کر) ہمارے ساتھ چلے اور اس خاتون کی قبر پر تشریف لائے اور اس پر نماز پڑھی اور چار تکبیریں پڑھیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنائز/حدیث: 11553]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11553، ترقيم محمد عوامة 11335)