مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
182. فيما يخفف به عذاب القبر
جن چیزوں سے عذاب قبر میں کمی ہوتی ہے
ترقیم عوامۃ: 12171 ترقیم الشثری: -- 12418
١٢٤١٨ - حدثنا ابو معاوية عن الاعمش عن مجاهد عن طاوس عن ابن عباس قال: مر النبي ﷺ بقبرين فقال:"إنهما ليعذبان وما يعذبان في (كبير) (١) اما احدهما فكان لا (يستتر) (٢) من البول، واما الآخر فكان يمشي (بالنميمة) (٣) "، ثم (اخذ) (٤) جريدة رطبة فشقها نصفين، ثم غرس في كل قبر واحدة فقالوا: يا رسول الله ﷺ لم فعلت هذا؟ قال:"لعله (ان) (٥) يخفف عنهما ما لم ييبسا" (٦) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ص]: (كثير).
(٢) في [ص]: (يستبرء)، والمشهور من رواية أبي معاوية: (يستتر).
(٣) في [ص]: (النميمه).
(٤) في [أ، ب]: (أخرج).
(٥) زيادة في [ز، ص].
(٦) صحيح، أخرجه البخاري (١٣٦١)، ومسلم (٢٩٢).
حدثنا ابو معاوية ، عن الاعمش ، عن مجاهد ، عن طاوس ، عن ابن عباس ، قال: مر النبي صلى الله عليه وسلم بقبرين، فقال: " إنهما ليعذبان , وما يعذبان في كبير، اما احدهما فكان لا يستتر من البول، واما الآخر فكان يمشي بالنميمة"، ثم اخذ جريدة رطبة , فشقها نصفين ثم غرس في كل قبر واحدة، فقالوا يا رسول الله: لم فعلت هذا؟ قال:" لعله يخفف عنهما ما لم ييبسا"
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دو قبروں کے پاس سے گزرے تو فرمایا: ان دونوں کو عذاب ہو رہا ہے، اور ان کو کسی بڑے کام کی وجہ سے عذاب نہیں ہو رہا، ان میں سے ایک پیشاب کے قطروں سے نہیں بچتا تھا اور دوسرا شخص چغل خور تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھجور کی گیلی ٹہنی لی اور اس کو چیر کردو کیا اور ہر ایک کی قبر پر ایک ایک گاڑھ دی، صحابہ کرام نے عرض کیا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس طرح کیوں کیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: شاید کہ ان کے عذاب میں کمی کردی جائے جب تک یہ گیلی رہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنائز/حدیث: 12418]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12418، ترقيم محمد عوامة 12171)
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 12418 in Urdu