🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
183. في (المساءلة) في القبر
قبر میں سوال وجواب کا بیان
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 12173 ترقیم الشثری: -- 12420
١٢٤٢٠ - حدثنا (حسين) (١) بن علي عن زائدة عن عاصم عن (زر) (٢) عن عبد الله قال: إذا (ادخل) (٣) الرجل قبره فإن كان (من) (٤) اهل السعادة ثبته الله بالقول الثابت فيسال ما انت؟ فيقول: انا عبد الله (حيا وميتا) (٥) واشهد ان لا إله إلا الله واشهد ان محمدا عبده ورسوله، قال: فيقال: كذلك كنت (قال) (٦) : فيوسع عليه قبره ما شاء الله ويفتح له باب إلى الجنة ويدخل عليه (من) (٧) روحها وريحها حتى ⦗٢٢٠⦘ يبعث. واما الآخر فيؤتى في قبره فيقال له: ما انت ثلاث مرات؟ (فيقول: لا ادري. فيقال له: لا دريت ثلاث مرات) (٨) ثم يضيق عليه (قبره) (٩) حتى (تختلف) (١٠) اضلاعه او (يماس) (١١) ، (وترسل) (١٢) عليه حيات من جانب القبر (فتنهشه وتاكله) (١٣) ، كلما (جزع) (١٤) وصاح قمع (بقماع) (١٥) من حديد او من نار، ويفتح له باب إلى النار (١٦) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (علي).
(٢) في [ب]: (ذر).
(٣) في [أ، ب]: (دخل).
(٤) سقط من: [ز].
(٥) في [أ، ب]: (حي وميت).
(٦) سقط من: [أ، ب].
(٧) سقط من: [هـ]، وفي [ص]: (بن).
(٨) سقط من: [ص].
(٩) سقط من: [أ، ب].
(١٠) في [ب، ص]: (يختلف).
(١١) في [ب]: (تماس).
(١٢) في [ص]: (ويرسل).
(١٣) في [ص]: (فينهشه ويأكله).
(١٤) في [ص]: (خرج).
(١٥) في [ص]: (بمقع)
(١٦) ضعيف؛ رواية عاصم عن زر ضعيفة، وثبت أصل البخاري في مسلم.

حدثنا حسين بن علي، عن زائدة، عن عاصم، عن زر، عن عبد الله ، قال: " إذا ادخل الرجل قبره , فإن كان من اهل السعادة ثبته الله بالقول الثابت، فيسال: ما انت؟ فيقول: انا عبد الله حيا وميتا , واشهد ان لا إله إلا الله واشهد ان محمدا عبده ورسوله. قال: فيقال: كذلك كنت قال: فيوسع عليه قبره ما شاء الله، ويفتح له باب إلى الجنة ويدخل عليه من روحها وريحها حتى يبعث، واما الآخر فيؤتى في قبره فيقال له: ما انت؟ ثلاث مرات فيقول: لا ادري فيقال له: لا دريت , ثلاث مرات، ثم يضيق عليه قبره حتى تختلف اضلاعه، او يماس، وترسل عليه حيات من جانب القبر فتنهشه , وتاكله، كلما جزع وصاح قمع بقماع من حديد , او من نار , ويفتح له باب إلى النار".
حضرت عبد اللہ فرماتے ہیں کہ جب کسی شخص کو قبر میں اتارا جائے تو اگر وہ نیک بختوں میں سے ہو تو اللہ تعالیٰ اس کے دل کو سوال و جواب کے لیے مضبوط فرما دیتا ہے، اس سے سوال کیا جاتا ہے تو کون ہے؟ وہ کہتا ہے میں زندہ ہونے کی حالت میں اور مرنے کی حالت میں اللہ کا بندہ ہوں، اور میں گواہی دیتا ہوں اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں، اس کو کہا جاتا ہے تو اسی طرح تھا، پھر اس کی قبر کو جتنا اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کشادہ فرما دیتا ہے اور اس کے لیے جنت کا دروازہ کھول دیا جاتا ہے اور اس پر جنت کی خوشبو اور ہوا داخل کی جاتی ہے، یہاں تک کہ وہ دوبارہ اٹھایا جائے، اور دوسرے شخص کو قبر میں لایا جاتا ہے تو اس سے دریافت کیا جاتا ہے کون ہے تو؟ تین بار یہی سوال ہوتا ہے، وہ کہتا ہے میں نہیں جانتا، اس کو کہا جائے گا تو جانتا بھی نہیں تھا، تین بار یہی کہا جائے گا، پھر اس کی قبر اس پر اتنی تنگ کردی جائے گی کہ اس کے جسم اور پسلیاں آپس میں مل جائیں گے، اور اس پر قبر کی طرف سے بہت سانپ چھوڑے جاتے ہیں جو اسے ڈستے ہیں اور کھاتے ہیں، جب بھی وہ چیخے اور چلائے گا اس کو لوہے یا آگ کا گرز مارا جائے گا اور اس کے لے ی جہنم کی طرف ایک دروازہ کھول دیا جائے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنائز/حدیث: 12420]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12420، ترقيم محمد عوامة 12173)


Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 12420 in Urdu