🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
199. باب كان رسول الله ﷺ (لا يبكي)
اس بات کے بیان میں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نہیں روتے تھے
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 12256 ترقیم الشثری: -- 12504
١٢٥٠٤ - حدثنا محمد بن (بشر) (١) حدثنا محمد بن عمرو حدثنا ابي عن علقمة ابن وقاص عن عائشة ام المؤمنين قالت: (حضر) (٢) رسول الله ﷺ وابو بكر وعمر يعني سعد بن معاذ، فوالذي (نفس محمد) (٣) بيده إني لاعرف بكاء عمر من بكاء ابي بكر، وإني لفي حجرتي، قالت: (وكانوا) (٤) كما قال الله (٥) رحماء بينهم، ⦗٢٦١⦘ قال علقمة: اي (اماه) (٦) كيف كان (يصنع) (٧) رسول الله ﷺ؟ (قالت) (٨) : كانت عينه لا (تدمع) (٩) على احد (ولكنه) (١٠) كان إذا وجد فإنما هو اخذ بلحيته (١١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (بشير).
(٢) في [أ، ب]: (حضرت)، وفي [ز، ص]: (حضرة)، وفي [هـ، ف]: (حضر).
(٣) في [ص]: (نفسي).
(٤) في [أ، ب]: (فكانوا).
(٥) في [ص]: (تعالى).
(٦) في [أ، ب، ص، ز]: (أمه).
(٧) في [ب]: (يضع).
(٨) في [ط، هـ]: (قال).
(٩) في [ص]: (تدفع).
(١٠) في [أ، ب، ص]: (لكن).
(١١) مجهول؛ لجهالة والد محمد بن عمرو، أخرجه أحمد (٢٥٠٩٧)، وابن سعد ٣/ ٤٢١، وابن حبان (٧٠٢٨)، وابن جرير في التاريخ ٢/ ١٠٣، وإسحاق (١١٢٦)، والطبراني (٥٣٣٠).

حدثنا محمد بن بشر ، حدثنا محمد بن عمرو ، حدثنا ابي ، عن علقمة بن وقاص ، عن عائشة ام المؤمنين، قالت: حضر رسول الله صلى الله عليه وسلم وابو بكر، وعمر، يعني سعد بن معاذ، فوالذي نفس محمد بيده إني لاعرف بكاء عمر من بكاء ابي بكر وإني لفي حجرتي قالت: وكانوا كما قال الله: رحماء بينهم سورة الفتح آية 29 قال علقمة: اي اماه، كيف كان يصنع رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ قالت:" كانت عينه لا تدمع على احد، ولكنه كان إذا وجد فإنما هو آخذ بلحيته"
حضرت علقمہ بن وقاص سے مروی ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر حضرت سعد بن معاذ کے پاس حاضر تھے، قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جان ہے میں پہچان رہی تھی کہ یہ ابوبکر کے رونے کی آواز ہے یہ حضرت عمر کی ہے اور میں اپنے حجرے میں تھی، فرماتی ہیں کہ وہ تو ایسے تھے جیسے اللہ نے فرمایا ہے { رُحَمَائُ بَیْنَہُمْ } آپس میں رحم دل، حضرت علقمہ نے فرمایا: امی جان حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (غم میں) کیا کرتے تھے؟ امی عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی پر (آواز نکال کر نوحہ کے انداز میں) نہں ب روتے تھے جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کوئی غم پاتے تو اپنی داڑھی مبارک پکڑ لیتے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنائز/حدیث: 12504]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12504، ترقيم محمد عوامة 12256)


Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 12504 in Urdu