🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
314. من كان يأمر بتعليم المناسك
جو حضرات مناسک حج سیکھنے کا حکم فرماتے ہیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 14921 ترقیم الشثری: -- 15333
١٥٣٣٣ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا يزيد بن هارون عن التيمي عن ابي (مجلز) (١) في قوله (تعالى) (٢) : ﴿وإذ يرفع إبراهيم القواعد من البيت (وإسماعيل﴾ [البقرة: ١٢٧] ، قال: لما فرغ من البيت) (٣) جاءه جبريل فاراه الطواف بالبيت واحسبه قال: والصفا والمروة، (قال) (٤) ثم انطلقا إلى العقبة فعرض (لهما) (٥) الشيطان قال: فاخذ جبريل ﵇ (٦) سبع حصيات واعطى إبراهيم ﵇ (٧) سبع ⦗٤٠٣⦘ حصيات فرمى وكبر، وقال لإبراهيم: ارم وكبر قال: فرميا (وكبرا) (٨) مع كل رمية حتى (افل) (٩) الشيطان، (ثم) (١٠) انطلقا إلى الجمرة الوسطى فعرض لهما الشيطان فاخذ جبريل (١١) سبع حصيات واعطى إبراهيم (١٢) سبع حصيات فرميا (وكبرا) (١٣) مع كل رمية حتى (افل) (١٤) الشيطان، ثم اتيا الجمرة القصوى قال: فعرض لهما الشيطان قال: فاخذ جبريل (١٥) سبع حصيات واعطى إبراهيم (١٦) سبع حصيات وقال: ارم وكبر، فرميا وكبرا مع كل رمية حتى (افل) (١٧) (الشيطان) (١٨) ثم اتى به منى فقال: هاهنا (يحلق) (١٩) الناس رؤوسهم، ثم اتى (به) (٢٠) جمعا فقال: هاهنا يجمع الناس الصلاة، ثم اتى به عرفات فقال: عرفت؟ قال: نعم، قال: فمن ثم سميت عرفات.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ن]: (مجاز).
(٢) سقط من: [ز].
(٣) سقط من: [أ، ب، ن، ف].
(٤) في [ص، ز]: زيادة (قال).
(٥) في [ز]: (لها)، وفي [ن]: (لهم).
(٦) في [جـ، ص]: زيادة ﵇.
(٧) في [جـ، ص]: زيادة ﵇.
(٨) في [ب]: (وكبر).
(٩) في [أ، ب]: (أقبل).
(١٠) سقط من: (أ، ب).
(١١) في [جـ، ص]: زيادة ﵇.
(١٢) في [جـ، ص]: زيادة ﵇.
(١٣) في [ب]: (وكبر).
(١٤) في [أ، ب]: (أقبل).
(١٥) في [جـ، ص]: زيادة ﵇.
(١٦) في [جـ، ص]: زيادة ﵇.
(١٧) في [أ، ب]: (أقبل).
(١٨) سقط من: [ب، ن].
(١٩) في [ز]: (تحلق).
(٢٠) سقط من: [أ، ب، ن].

حدثنا ابو بكر، قال: حدثنا يزيد بن هارون، عن التيمي، عن ابي مجلز، في قوله تعالى: " وإذ يرفع إبراهيم القواعد من البيت وإسماعيل سورة البقرة آية 127، قال: لما فرغ من البيت، جاءه جبريل فاراه الطواف بالبيت واحسبه، قال: والصفا والمروة , ثم انطلقا إلى العقبة فعرض لهم الشيطان، قال: فاخذ جبريل سبع حصيات , واعطى إبراهيم سبع حصيات فرمى وكبر , وقال لإبراهيم: ارم وكبر، قال: فرميا وكبرا مع كل رمية حتى افل الشيطان , ثم انطلقا إلى الجمرة الوسطى فعرض لهما الشيطان , فاخذ جبريل سبع حصيات , واعطى إبراهيم سبع حصيات فرميا وكبرا مع كل رمية حتى افل الشيطان , ثم اتيا الجمرة القصوى، قال: فعرض لهما الشيطان، قال: فاخذ جبريل سبع حصيات , واعطى إبراهيم سبع حصيات , وقال: ارم وكبر فرميا وكبرا مع كل رمية حتى افل الشيطان , ثم اتى به إلى منى , فقال: ههنا يحلق الناس رءوسهم ثم اتى به جمعا , فقال: ههنا يجمع الناس الصلاة , ثم اتى به عرفات , فقال: عرفت؟ قال: نعم , قال: فمن ثم سميت عرفات"
حضرت ابو مجلز قرآن پاک کی آیت { وَ اِذْ یَرْفَعُ اِبْرَھٖمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَیْتِ وَ اِسْمٰعِیْلُ } (کی تفسیر میں) فرماتے ہیں کہ جب ابراہیم بیت اللہ کی تعمیر سے فارغ ہوئے تو حضرت جبرئیل آپ کے پاس آئے اور پھر آپ کو طواف کر کے دکھایا اور اچھی طرح کروایا پھر صفا ومروہ کی سعی، پھر وہ دونوں عقبہ کی طرف چلے تو شیطان ان کے سامنے آگیا، حضرت جبرئیل نے سات کنکریاں اٹھائیں اور حضرت ابراہیم کو بھی سات کنکریاں دیں اور آپ نے شیطان کو مارتے ہوئے تکبیر پڑھی اور حضرت ابراہیم سے فرمایا اس کو مارو اور تکبیر پڑھو، پھر آپ دونوں نے اس کو کنکریاں ماریں اور ہر کنکری کے ساتھ تکبیر پڑھتے یہاں تک کہ شیطان چھپ (کر بھاگ) گیا۔ پھر آپ دونوں حضرات جمرہ وسطی کی طرف چلے تو شیطان پھر آپ کے سامنے آگیا، حضرت جبرئیل نے سات کنکریاں اٹھائیں اور حضرت ابراہیم کو بھی سات کنکریاں دیں پھر آپ دونوں نے اس کو کنکریاں ماریں اور ہر کنکری کے ساتھ تکبیر کہتے یہاں تک کہ شیطان چھپ (کر بھاگ) گیا۔ پھر آپ دونوں جمرہ قصویٰ پر تشریف لائے تو شیطان پھر آپ کے سامنے آگیا، حضرت جبرئیل نے سات کنکریاں اٹھائیں اور حضرت ابراہیم کو بھی سات کنکریاں دیں اور آپ سے فرمایا اس کو مارو اور تکبیر پڑھو، پھر آپ دونوں نے اس کو کنکریاں ماریں اور ہر کنکری کے ساتھ تکبیر پڑھتے یہاں تک کہ شیطان چھپ (کر بھاگ) گیا۔ پھر حضرت جبرئیل آپ کے ساتھ منیٰ آئے، اور فرمایا کہ یہاں پر لوگ حلق کروائیں گے، پھر آپ کے ساتھ مزدلفہ تشریف لائے اور فرمایا کہ یہاں پر لوگ دو نمازوں کو اکٹھا ادا کریں گے پھر آپ کے ساتھ عرفات آئے اور فرمایا کہ آپ نے جان لیا؟ آپ نے فرمایا: ہاں، اسی وجہ سے اس جگہ کا نام عرفات پڑگیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحج/حدیث: 15333]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 15333، ترقيم محمد عوامة 14921)


Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 15333 in Urdu