مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
144. في الرضاع، من قال: لا (تحرم) (الرضعتان) ولا الرضعة
رضاعت کا بیان: جن حضرات کے نزدیک ایک یا دو چسکیاں لینے سے رضاعت ثابت نہیں ہوتی
ترقیم عوامۃ: 17310 ترقیم الشثری: -- 17902
١٧٩٠٢ - حدثنا ابن علية عن ايوب عن نافع قال: (كانت) (١) عائشة إذا ارادت ان يدخل عليها احد امرت به فارضع، فامرت ام كلثوم ان ترضع سالما عشر رضعات فارضعته ثلاثا فمرضت فكان لا يدخل عليها، وامرت فاطمة بنت عمر ان ترضع عاصم بن (سعد) (٢) مولى لهم فارضعته عشر رضعات فكان يدخل عليها (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (قالت).
(٢) في [أ، ب، هـ]: (سعيد).
(٣) صحيح.
حدثنا حدثنا ابن علية، عن ايوب، عن نافع، قال:" كانت عائشة إذا ارادت ان يدخل عليها احد امرت به فارضع، فامرت ام كلثوم ان ترضع سالما عشر رضعات، فارضعته ثلاثا، فمرضت فكان لا يدخل عليها، وامرت فاطمة بنت عمر ان ترضع عاصم بن سعد مولى لهم، فارضعته عشر رضعات فكان يدخل عليها"
حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا جب کسی بچے کے بارے میں یہ ارادہ ہوتا کہ وہ بڑا ہو کر ان سے ملاقات کے لئے آسکے تو اپنی کسی عزیزہ خاتون کو حکم دیتی کہ وہ اسے دودھ پلا دیں۔ (تاکہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اس کی رضاعی خالہ یا پھوپھی بن جائیں) اس سلسلے میں انہوں نے (اپنی بہن) حضرت ام کلثوم کو حکم دیا کہ وہ حضرت سالم کو (جبکہ وہ بچے تھے) دس چسکیاں پلائیں، (تاکہ سالم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے رضاعی بھانجے بن جائیں) انہوں نے انہیں تین چسکیاں پلائیں اور وہ بیمار ہوگئیں، لہٰذا وہ بڑے ہوکر ان کے پاس نہیں آتے تھے۔ اسی طرح (حضرت حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہا) نے فاطمہ بنت عمر کو حکم دیا کہ عاصم ابن سعد کو (جبکہ وہ بچے تھے) دس چسکیاں پلائیں (تاکہ عاصم بن سعد ان کے رضاعی بھانجے بن جائیں) چناچہ انہوں نے اس طرح کیا تو وہ ان کے پاس آیا کرتے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب النكاح/حدیث: 17902]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 17902، ترقيم محمد عوامة 17310)
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 17902 in Urdu