مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
153. المرأة الصالحة والسيئة الخلق
اچھے اخلاق والی اور برے اخلاق والی عورت
ترقیم عوامۃ: 17432 ترقیم الشثری: -- 18031
١٨٠٣١ - حدثنا يزيد بن هارون قال: (نا) (١) (٢) شيبان قال: (انا) (٣) عبد الملك ابن عمير عن زيد بن عقبة عن سمرة بن جندب قال: سمعت عمر بن الخطاب يقول: النساء ثلاثة: (امراة) (٤) هينة (لينة) (٥) عفيفة مسلمة (ودود) (٦) ، ولود تعين اهلها على الدهر ولا تعين الدهر على اهلها وقل ما (يجدها) (٧) ، ثانية: امراة عفيفة مسلمة إنما هي وعاء للولد ليس عندها غير ذلك، ثالثة: غل قمل يجعلها الله في عنق من يشاء (٨) لا ينزعها غيره، الرجال ثلاثة: رجل عفيف مسلم عاقل ياتمر في الامور إذا اقبلت و (تشبهت) (٩) فإذا وقعت (خرج) (١٠) منها برايه، ورجل ⦗٤٧٦⦘ عفيف مسلم ليس له راي فإذا وقع الامر اتى ذا الراي والمشورة فشاوره واستامره ثم نزل عند امره، ورجل (جائر (بائر) ) (١١) (١٢) لا ياتمر رشدا ولا يطيع مرشدا (١٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (حدثنا)، وفي [ك]: (أنا).
(٢) في [س]: زيادة (عن).
(٣) في [أ، ب]: (حدثنا).
(٤) في [س]: سقط (امرأة).
(٥) في [ز]: (الشق).
(٦) في [س]: تكرر (ودود).
(٧) في [ك]: (تجدها).
(٨) في [هـ، ط]: زيادة (و).
(٩) في [ك، ب]: (وتسهت)، وفي [هـ، س]: (يسهب).
(١٠) في [س]: (فرخ)، وفي [هـ]: (فرج).
(١١) في [ب]: (هائر)، وفي [هـ، س]: (حائر).
(١٢) في [س]: (جابر بابر).
(١٣) صحيح.
حدثنا حدثنا يزيد بن هارون، قال: نا شيبان، قال: انا عبد الملك بن عمير، عن زيد بن عقبة، عن سمرة بن جندب، قال: سمعت عمر بن الخطاب ، يقول: " النساء ثلاثة: امراة هينة لينة عفيفة مسلمة ودود ولود تعين اهلها على الدهر ولا تعين الدهر على اهلها وقل ما يجدها , ثانية: امراة عفيفة مسلمة إنما هي وعاء للولد ليس عندها غير ذلك , ثالثة: غل قمل يجعلها الله في عنق من يشاء ولا ينزعها غيره، الرجال ثلاثة: رجل عفيف مسلم عاقل ياتمر في الامور إذا اقبلت وتشهبت , فإذا وقعت خرج منها برايه، ورجل عفيف مسلم ليس له راي فإذا وقع الامر اتى ذا الراي والمشورة فشاوره واستامره ثم نزل عند امره , ورجل جائر بائر لا ياتمر رشدا ولا يطيع مرشدا"
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ عورتیں تین قسم کی ہیں: ایک وہ اچھے مزاج والی، نرم طبیعت والی، پاکدامن، مسلمان، محبت کرنے والی، اولاد کو جنم دینے والی بیوی جو اپنے خاوند کی ہر حال میں معاونت کرے اور مصیبتوں پر شکوہ نہ کرے۔ لیکن ایسی عورت بہت کم ملتی ہے۔ دوسری وہ پاکدامن اور مسلمان عورت، جو بچوں کی تربیت کرے اور اسے بچوں کے علاوہ کوئی کام نہ ہو۔ تیسری وہ عورت جو بدمزاج اور بدفطرت ہو۔ اللہ تعالیٰ ایسی عورت جس کے گلے میں چاہے ڈال دیتا ہے اور اسے اللہ کے سوا کوئی ٹال نہیں سکتا۔ مردوں کی بھی تین قسمیں ہیں: ایک وہ پاکدامن مسلمان سمجھد ار مردجوہر طرح کے معاملات کی فہم رکھتا ہو، اگر کسی مشکل میں مبتلاہو تو اپنی دانائی کی وجہ سے اس سے نکل جائے۔ دوسرا وہ پاکدامن مسلمان مرد جو خود تو صاحب الرائے نہ ہو لیکن جب کوئی معاملہ پیش آئے تو سمجھدار اور صاحب الرائے سے مشورہ کرے اور اس کے مشورے پر عمل کرے اور تیسرا وہ نادان اور بیوقوف شخص جو نہ خود صاحب الرائے ہو نہ کسی سمجھدار سے مشورہ کرے اور نہ کسی خیر خواہ کی اطاعت کرے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب النكاح/حدیث: 18031]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 18031، ترقيم محمد عوامة 17432)
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 18031 in Urdu