🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
57. ما قالوا في الرجل يخير امرأته فتختاره أو تختار نفسها
اگر کسی شخص نے اپنی بیوی کو اختیار دیا اور اس نے خود کو اختیار کرلیا تو کیا حکم ہے؟
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 18402 ترقیم الشثری: -- 19086
١٩٠٨٦ - حدثنا ابو بكر (قال: نا وكيع) (١) عن جرير بن حازم (٢) عن عيسى بن عاصم عن (زاذان) (٣) قال: كنا جلوسا عند علي فسئل عن الخيار فقال: سالني عنها امير المؤمنين عمر فقلت: إن اختارت نفسها [فواحدة (بائنة) (٤) وإن اختارت زوجها] (٥) فواحدة وهو احق بها فقال: ليس كما قلت: إن اختارت نفسها فواحدة وإن اختارت زوجها فلا شيء وهو احق بها فلم اجد بدا من متابعة امير المؤمنين، فلما وليت واتيت (في) (٦) (الفروج) (٧) رجعت إلى ما كنت اعرف، فقيل له: رايكما في الجماعة احب إلينا من رايك في الفرقة، فضحك علي (فقال) (٨) : اما إنه ارسل إلى زيد بن ثابت فساله فقال: إن اختارت نفسها فثلاث، وإن اختارت زوجها فواحدة بائنة (٩) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب].
(٢) في [س، هـ]: زيادة (و).
(٣) في [س]: (نادان).
(٤) سقط من: [س].
(٥) سقط ما بين المعكوفين من: [أ].
(٦) سقط من: [جـ].
(٧) في [هـ، ك]: (الفروح).
(٨) في [أ، ب، جـ، ك]: (وقال).
(٩) صحيح.

حدثنا ابو بكر، قال: نا حدثنا ابو بكر، قال: نا وكيع، عن جرير بن حازم، وعن عيسى بن عاصم، عن زاذان، قال: كنا جلوسا عند علي فسئل عن الخيار , فقال: سالني عنها امير المؤمنين عمر , فقلت:" إن اختارت نفسها ؛ فواحدة بائنة، وإن اختارت زوجها ؛ فواحدة وهو احق بها" , فقال: ليس كما قلت " إن اختارت نفسها ؛ فواحدة , وإن اختارت زوجها ؛ فلا شيء وهو احق بها" , فلم اجد بدا من متابعة امير المؤمنين , فلما وليت واتيت في الفروج رجعت إلى ما كنت اعرف , فقيل له: رايكما في الجماعة احب إلينا من رايك في الفرقة فضحك علي, فقال:" اما إنه ارسل إلى زيد بن ثابت فساله, فقال: إن اختارت نفسها فثلاث , وإن اختارت زوجها فواحدة بائنة"
حضرت زاذان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے تھے کہ ان سے اختیار کے بارے میں سوال کیا گیا۔ انہوں نے فرمایا کہ امیر المومنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے اس بارے میں سوال کیا تھا تو میں نے کہا تھا کہ اگر وہ اپنے نفس کو اختیار کرلے تو ایک طلاق بائنہ ہے اور اگر اپنے خاوند کو اختیار کرلے تو ایک طلاق ہوگی، اور خاوند رجوع کا زیادہ حق دار ہوگا۔ انہوں نے فرمایا کہ جو تم نے کہا ہے وہ درست نہیں، اگر وہ اپنے نفس کو اختیار کرلے تو ایک طلاق ہوگی اور آدمی رجوع کا زیادہ حقدار ہوگا، اور اگر اس نے اپنے خاوند کو اختیار کیا تو کچھ لازم نہ ہوا اور وہ آدمی اس عورت کا زیادہ حق دار ہوگا۔ امیر المومنین کے یہ فرمادینے کے بعد میرے پاس ان کی اتباع کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔ جب مجھے امیر بنایا گیا اور میرے پاس شادی کے مسائل لائے جانے لگے تو میں نے دوبارہ سابقہ رائے کو اختیار کرلیا۔ ان سے کہا گیا کہ جماعت کے سامنے آپ کی جو رائے ہے وہ ہمارے نزدیک آپ کی تنہائی والی رائے سے زیادہ پسندیدہ ہے۔ اس پر حضرت علی رضی اللہ عنہ مسکرا دیئے اور فرمایا کہ انہوں نے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی طرف پیغام بھیجا اور اس مسئلے کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ اگر اس نے اپنے نفس کو اختیار کرلیا تو تین طلاقیں ہوگئیں اور اگر اس نے اپنے خاوند کو اختیار کرلیا تو ایک طلاق ہوگی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 19086]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19086، ترقيم محمد عوامة 18402)


Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 19086 in Urdu