مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
57. ما قالوا في الرجل يخير امرأته فتختاره أو تختار نفسها
اگر کسی شخص نے اپنی بیوی کو اختیار دیا اور اس نے خود کو اختیار کرلیا تو کیا حکم ہے؟
ترقیم عوامۃ: 18398 ترقیم الشثری: -- 19079
١٩٠٧٩ - حدثنا ابو بكر قال: نا حفص بن غياث عن الشيباني عن الشعبي قال: قال عبد الله: إذا خير الرجل امراته فاختارت نفسها (فواحدة) (١) بائنة، وإن اختارت زوجها [فلا شيء (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط]: (لواحدة).
(٢) منقطع؛ الشعبي عن ابن مسعود منقطع.
حدثنا ابو بكر، قال: نا حدثنا ابو بكر، قال: نا حفص بن غياث، عن الشيباني، عن الشعبي، قال: قال عبد الله : " إذا خير الرجل امراته فاختارت نفسها ؛ فواحدة بائنة , وإن اختارت زوجها ؛ فلا شيء"
حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ گر کسی شخص نے اپنی بیوی کو اختیار دیا اور اس نے خود کو اختیار کرلیا تو ایک طلاق بائنہ ہوگی۔ اور اگر اس نے اپنے خاوند کو اختیار کیا تو کچھ نہیں ہوگا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر اس نے اپنے نفس کو اختیار کیا تو ایک طلاق بائنہ ہوگی اور اگر اس نے اپنے خاوند کو اختیار کیا تو بھی ایک طلاق ہوگی اور آدمی رجوع کا زیادہ حقدار ہوگا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 19079]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19079، ترقيم محمد عوامة 18398)
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 19080
١٩٠٨٠ - (و) (١) قال علي: إن اختارت نفسها فواحدة بائنة وإن اختارت زوجها فواحدة] (٢) وهو املك بها (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ، ك]: زيادة (و).
(٢) سقط من: [أ، ب].
(٣) صحيح.
وقال علي : " إن اختارت نفسها ؛ فواحدة بائنة , وإن اختارت زوجها ؛ فواحدة وهو املك بها"
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19080، ترقيم محمد عوامة ---)
ترقیم عوامۃ: 18399 ترقیم الشثری: -- 19081
١٩٠٨١ - حدثنا ابو بكر قال: نا علي بن مسهر عن إسماعيل عن الشعبي عن مسروق قال: ما ابالي (خيرت) (١) امراتي واحدة او مائة او الفا بعد ان تختارني، ⦗١٨٣⦘ ولقد (اتيت) (٢) عائشة فسالتها عن ذلك فقالت: (قد) (٣) خيرنا رسول الله ﷺ فاخترناه (افكان) (٤) طلاقا (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، ط]: (خرت).
(٢) في [ك]: في الحاشية.
(٣) في [أ، ب]: (لقد).
(٤) في [س]: (أن).
(٥) صحيح؛ أخرجه البخاري (٥٢٦٢)، ومسلم (١٤٧٧).
حدثنا ابو بكر، قال: نا علي بن مسهر ، عن إسماعيل ، عن الشعبي ، عن مسروق ، قال: ما ابالي خيرت امراتي واحدة , او مائة , او الفا بعد ان تختارني , ولقد اتيت عائشة فسالتها عن ذلك؟ فقالت: قد" خيرنا رسول الله صلى الله عليه وسلم فاخترناه , افكان طلاقا؟!"
حضرت مسروق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھے اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کہ میری بیوی مجھے اختیار کرنے کے بعد ایک، سو یا ہزار طلاقیں اختیار کرلے۔ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے اس بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اختیار دیا تھا اور ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اختیار کیا تھا تو کیا یہ طلاق ہوگئی؟ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 19081]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19081، ترقيم محمد عوامة 18399)
ترقیم عوامۃ: 18400 ترقیم الشثری: -- 19082
١٩٠٨٢ - حدثنا ابو بكر قال: نا عبد الله بن مبارك عن يحيى (بن) (١) بشر قال: سمعت عكرمة يحدث ان ابا الدرداء اتي وهو بالشام، في رجل خير امراته فاختارت زوجها قال: ليس بشيء (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ، س، ط]: (عن).
(٢) صحيح.
حدثنا ابو بكر، قال: نا حدثنا ابو بكر، قال: نا عبد الله بن مبارك، عن يحيى بن بشر، قال: سمعت عكرمة يحدث , ان ابا الدرداء اتي وهو بالشام في رجل خير امراته فاختارت زوجها؟ قال:" ليس بشيء"،
حضرت عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابودردائ رضی اللہ عنہ شام میں تھے کہ ان سے سوال کیا گیا کہ ایک مرد نے اپنی بیوی کو اختیار دے دیا اور اس نے اپنے خاوند کو اختیار کرلیا تو کیا حکم ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ یہ کوئی چیز نہیں۔ راوی کہتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بھی یہی فرمایا کرتے تھے اور حضرت ابان بن عثمان رحمہ اللہ نے بھی مدینہ میں یہی فیصلہ فرمایا تھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 19082]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19082، ترقيم محمد عوامة 18400)
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 19083
١٩٠٨٣ - (قال: وكان) (١) ابن عباس يفتي بذلك (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (وقال، وكان سقط)، وفي [ب]، (وقال وكان).
(٢) صحيح.
قال:" وكان ابن عباس يفتي بذلك
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19083، ترقيم محمد عوامة ---)
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 19084
١٩٠٨٤ - وقضى (به) (١) ابان بن عثمان بالمدينة.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [س].
وقضى به ابان بن عثمان بالمدينة
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19084، ترقيم محمد عوامة ---)
ترقیم عوامۃ: 18401 ترقیم الشثری: -- 19085
١٩٠٨٥ - حدثنا ابو بكر قال: نا عبد الله بن إدريس عن موسى بن مسلم (١) عن مجاهد قال: قال علي: إذا خلع الرجل امر امراته من عنقه فهي واحدة، وإن اختارته (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) هو موسى الصغير، انظر: الإيثار بمعرفة رواة الآثار ١/ ١٨١.
(٢) صحيح.
حدثنا ابو بكر، قال: نا حدثنا ابو بكر، قال: نا عبد الله بن إدريس، عن موسى بن مسلم، عن مجاهد، قال: قال علي : " إذا خلع الرجل امر امراته من عنقه فهي واحدة وإن اختارته"
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب آدمی نے اپنی بیوی کا معاملہ اپنی گردن سے اتار دیا تو ایک طلاق ہوگئی خواہ عورت اپنے خاوند کو ہی اختیار کرلے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 19085]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19085، ترقيم محمد عوامة 18401)
ترقیم عوامۃ: 18402 ترقیم الشثری: -- 19086
١٩٠٨٦ - حدثنا ابو بكر (قال: نا وكيع) (١) عن جرير بن حازم (٢) عن عيسى بن عاصم عن (زاذان) (٣) قال: كنا جلوسا عند علي فسئل عن الخيار فقال: سالني عنها امير المؤمنين عمر فقلت: إن اختارت نفسها [فواحدة (بائنة) (٤) وإن اختارت زوجها] (٥) فواحدة وهو احق بها فقال: ليس كما قلت: إن اختارت نفسها فواحدة وإن اختارت زوجها فلا شيء وهو احق بها فلم اجد بدا من متابعة امير المؤمنين، فلما وليت واتيت (في) (٦) (الفروج) (٧) رجعت إلى ما كنت اعرف، فقيل له: رايكما في الجماعة احب إلينا من رايك في الفرقة، فضحك علي (فقال) (٨) : اما إنه ارسل إلى زيد بن ثابت فساله فقال: إن اختارت نفسها فثلاث، وإن اختارت زوجها فواحدة بائنة (٩) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب].
(٢) في [س، هـ]: زيادة (و).
(٣) في [س]: (نادان).
(٤) سقط من: [س].
(٥) سقط ما بين المعكوفين من: [أ].
(٦) سقط من: [جـ].
(٧) في [هـ، ك]: (الفروح).
(٨) في [أ، ب، جـ، ك]: (وقال).
(٩) صحيح.
حدثنا ابو بكر، قال: نا حدثنا ابو بكر، قال: نا وكيع، عن جرير بن حازم، وعن عيسى بن عاصم، عن زاذان، قال: كنا جلوسا عند علي فسئل عن الخيار , فقال: سالني عنها امير المؤمنين عمر , فقلت:" إن اختارت نفسها ؛ فواحدة بائنة، وإن اختارت زوجها ؛ فواحدة وهو احق بها" , فقال: ليس كما قلت " إن اختارت نفسها ؛ فواحدة , وإن اختارت زوجها ؛ فلا شيء وهو احق بها" , فلم اجد بدا من متابعة امير المؤمنين , فلما وليت واتيت في الفروج رجعت إلى ما كنت اعرف , فقيل له: رايكما في الجماعة احب إلينا من رايك في الفرقة فضحك علي, فقال:" اما إنه ارسل إلى زيد بن ثابت فساله, فقال: إن اختارت نفسها فثلاث , وإن اختارت زوجها فواحدة بائنة"
حضرت زاذان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے تھے کہ ان سے اختیار کے بارے میں سوال کیا گیا۔ انہوں نے فرمایا کہ امیر المومنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے اس بارے میں سوال کیا تھا تو میں نے کہا تھا کہ اگر وہ اپنے نفس کو اختیار کرلے تو ایک طلاق بائنہ ہے اور اگر اپنے خاوند کو اختیار کرلے تو ایک طلاق ہوگی، اور خاوند رجوع کا زیادہ حق دار ہوگا۔ انہوں نے فرمایا کہ جو تم نے کہا ہے وہ درست نہیں، اگر وہ اپنے نفس کو اختیار کرلے تو ایک طلاق ہوگی اور آدمی رجوع کا زیادہ حقدار ہوگا، اور اگر اس نے اپنے خاوند کو اختیار کیا تو کچھ لازم نہ ہوا اور وہ آدمی اس عورت کا زیادہ حق دار ہوگا۔ امیر المومنین کے یہ فرمادینے کے بعد میرے پاس ان کی اتباع کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔ جب مجھے امیر بنایا گیا اور میرے پاس شادی کے مسائل لائے جانے لگے تو میں نے دوبارہ سابقہ رائے کو اختیار کرلیا۔ ان سے کہا گیا کہ جماعت کے سامنے آپ کی جو رائے ہے وہ ہمارے نزدیک آپ کی تنہائی والی رائے سے زیادہ پسندیدہ ہے۔ اس پر حضرت علی رضی اللہ عنہ مسکرا دیئے اور فرمایا کہ انہوں نے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی طرف پیغام بھیجا اور اس مسئلے کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ اگر اس نے اپنے نفس کو اختیار کرلیا تو تین طلاقیں ہوگئیں اور اگر اس نے اپنے خاوند کو اختیار کرلیا تو ایک طلاق ہوگی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 19086]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19086، ترقيم محمد عوامة 18402)
ترقیم عوامۃ: 18403 ترقیم الشثری: -- 19087
١٩٠٨٧ - [حدثنا ابو بكر قال: نا عباد بن العوام عن عبد الملك عن عطاء في الرجل يقول لامراته: اختاري (قال) (١) : إن اختارت نفسها فواحدة وإن اختارت زوجها فلا شيء] (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ، ك]: (قال).
(٢) سقط الخبر من: [أ، ب].
حدثنا ابو بكر، قال: نا عباد بن العوام، عن عبد الملك، عن عطاء في الرجل يقول لامراته: اختاري , فقال" إن اختارت نفسها ؛ فواحدة، وإن اختارت زوجها ؛ فلا شيء"
حضرت عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی نے اپنی بیوی سے کہا کہ اپنے آپ کو اختیار کرلے، پس اگر اس نے اپنے آپ کو اختیار کرلیا تو ایک طلاق پڑگئی اور اگر اس نے اپنے خاوند کو اختیار کرلیا تو کچھ نہ ہوا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 19087]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19087، ترقيم محمد عوامة 18403)
ترقیم عوامۃ: 18404 ترقیم الشثری: -- 19088
١٩٠٨٨ - حدثنا ابو بكر قال: نا حفص عن اشعث عن الحكم عن (عبد الرحمن) (١) بن ابي ليلى عن زيد بن ثابت قال: إن اختارت نفسها فثلاث وإن اختارت زوجها فواحدة (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب، س، ط، هـ]، وفي [جـ، ز، ك]: زيادة (عن عبد الرحمن).
(٢) ضعيف؛ لحال أشعث.
حدثنا ابو بكر، قال: نا حدثنا ابو بكر، قال: نا حفص، عن اشعث، عن الحكم، عن ابن ابي ليلى، عن زيد بن ثابت ، قال: " إن اختارت نفسها ؛ فثلاث، وإن اختارت زوجها ؛ فواحدة"
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر عورت نے اپنے نفس کو اختیار کرلیا تو تین طلاقیں ہوئیں اور اگر اپنے خاوند کو اختیار کرلیا تو ایک طلاق ہوئی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 19088]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19088، ترقيم محمد عوامة 18404)