مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
64. ما قالوا في الرجل يطلق امرأته البتة
اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو قطعی طلاق دے تو کیا حکم ہے؟
ترقیم عوامۃ: 18445 ترقیم الشثری: -- 19135
١٩١٣٥ - حدثنا ابو بكر قال: نا ابن إدريس عن داود عن الشعبي قال: لما ارسل عروة إلى شريح اعتل عليه فعزم عليه ليقولن فقال: إن الله سن ⦗١٩٦⦘ (سننا) (١) وإن الناس قد ابتدعوا وإنهم (عمدوا) (٢) إلى بدعهم فخلطوها بالسنن، فإذا انتهى إليك من ذلك شيء (فميزوا) (٣) ، السنن، فامضوها على وجهها والحقوا البدع باهلها، اما (طالق) (٤) فمعروفة، واما البتة فبدعة (نوقفه) (٥) على بدعته، فإن شاء تاخر وإن شاء تقدم.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (سنتنا)، وفي [ط]: (سبنا).
(٢) في [أ]: (عدوا).
(٣) في [س]: (فميروا).
(٤) في [س]: (طاق).
(٥) في [أ]: (نوفف)، وفي [ب، ط]: (توقف)، وفي [س]: (توقق)، وفي [ك]: (يوقف).
حدثنا ابو بكر، قال: نا ابن إدريس، عن داود، عن الشعبي، قال: لما ارسل عروة إلى شريح اعتل عليه فعزم عليه: ليقولن , فقال: " إن الله سن سننا، وإن الناس قد ابتدعوا وإنهم عمدوا إلى بدعهم فخلطوها بالسنن، فإذا انتهى إليك من ذلك شيء فميزوا السنن، فامضوها على وجهها والحقوا البدع باهلها ؛ اما طالق فمعروفة، واما البتة فبدعة يوقف على بدعته، فإن شاء تاخر وإن شاء تقدم"
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ حضرت عروہ رحمہ اللہ نے اس بارے میں حضرت شریح رحمہ اللہ سے استفسار کیا، انہوں نے کوئی جواب دینے سے معذرت کی تو حضرت عروہ رحمہ اللہ کے اصرار پر انہوں نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے دین پر عمل کرنے کے لئے شریعت کو مقرر کیا لیکن لوگوں نے اس میں بہت سی نئی باتیں ایجاد کر ڈالیں، انہوں نے بدعتوں کو سنتوں کے ساتھ خلط کرلیا، جب تمہارے پاس ایسا کوئی معاملہ آئے تو سنتوں کو الگ کرکے ان کے مطابق فیصلہ کرلیاکرو اور بدعتوں کواربابِ بدعت کے سپرد کردو۔ باقی جہاں تک طلاق کا معاملہ ہے تو وہ ایک معروف چیز ہے جبکہ قطعی ہونا ایک بدعت ہے جس کا مدار آدمی کی نیت پر ہے چاہے تو تقدم کرے اور چاہے توتاخر۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 19135]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19135، ترقيم محمد عوامة 18445)
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 19135 in Urdu