مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
253. ما قالوا في قوله (تعالى): ﴿الطلاق مرتان فإمساك بمعروف أو تسريح بإحسان﴾
قرآن مجیدکی آیت {الطلاق مرتان فإمساک بمعروف أو تسریح باحسان} کی تفسیر
ترقیم عوامۃ: 19562 ترقیم الشثری: -- 20353
٢٠٣٥٣ - حدثنا ابو بكر قال: نا عبد الله بن إدريس عن هشام عن ابيه قال: قال (رجل) (١) لامراته على عهد النبي ﷺ: لا (آويك) (٢) ولا تحلين مني، قالت: فكيف تصنع؟ قال: اطلقك حتى إذا دنا مضي عدتك راجعتك، (فخرعت) (٣) ، فاتت النبي ﵇ فانزل الله تعالى: ﴿فإمساك بمعروف او تسريح بإحسان﴾، قال: فاستقبله.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط]: (رجلًا).
(٢) في [أ، س، هـ]: (أقربك)، وانظر: تفسير ابن جرير ٢/ ٤٥٦، وأحكام القرآن للجصاص ٢/ ٧٣، والمحرر الوجير ١/ ٣٠٦، وتفسير القرطبي ٣/ ١٢٦.
(٣) في [أ، ب، هـ]: (فخرجت)، وفي [س، ط]: (فجزعت).
حضرت عروہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں ایک آدمی نے اپنی بیوی سے کہا کہ میں نہ تو تیرے قریب آؤں گا اور نہ تو میرے نکاح سے نکل سکے گی۔ عورت نے کہا کہ تم ایسا کس طرح کرو گے؟ اس آدمی نے کہا کہ میں تجھے طلاق دوں گا اور جب تیری عدت پوری ہونے کا وقت قریب آئے گا تو میں تجھ سے رجوع کرلوں گا۔ وہ عورت پریشان ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی تو اس موقع پر قرآن مجید کی آیت {إمْسَاکٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِیحٌ بِإِحْسَانٍ } نازل ہوئی۔ پھر لوگوں کی یہ کیفیت ہوتی تھی کہ طلاق دی ہوتی تھی یا نہ دی ہوتی تھی۔ (درمیانی صور ت کوئی نہ تھی) [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 20353]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20353، ترقيم محمد عوامة 19562)
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 20353 in Urdu