🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

253. ما قالوا في قوله (تعالى): ﴿الطلاق مرتان فإمساك بمعروف أو تسريح بإحسان﴾
قرآن مجیدکی آیت {الطلاق مرتان فإمساک بمعروف أو تسریح باحسان} کی تفسیر
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 19561 ترقیم الشثری: -- 20352
٢٠٣٥٢ - حدثنا ابو بكر قال: نا (ابو) (١) معاوية قال: نا إسماعيل بن سميع عن ابي رزين قال: اتى النبي ﷺ رجل فقال: يا رسول الله ارايت قول الله تعالى: ﴿الطلاق مرتان فإمساك بمعروف او تسريح بإحسان﴾ [البقرة: ٢٢٩] ، فاين (الثالثة؟) (٢) فقال رسول الله ﷺ:"إمساك بمعروف او تسريح بإحسان) هي الثالثة" (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ز].
(٢) في [س]: (الثلاثة)، والحاشية غير واضحة.
(٣) مرسل؛ أبو زيد ليس صحابيًا، أخرجه أبو داود في المراسيل (٢٢٠)، وعبد الرزاق (١١٠٩١)، وفي التفسير ١/ ٩٣، وابن جرير ٢/ ٤٢٨، وابن أبي حاتم في التفسير ٩/ ٤١٢ (٢٢٢١٠)، والدارقطني ٤/ ٤، والبيهقي ٧/ ٣٤٠، سعيد بن منصور (١٤٥٦)، وابن النحاس في التاريخ ١/ ٢٢٦، والحارث (٥٠٤/ بغية) (١٧١٦/ مطالب)، وابن بشكوال في غوامض الأسماء ٢/ ٧٧٣، وابن عبد البر في الاستذكار ٦/ ٢٠٥.

حضرت ابو رزین رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک صاحب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور انہوں نے کہا کہ قرآن مجید کی آیت { الطَّلاَقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاکٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِیحٌ بِإِحْسَانٍ } میں دو طلاقوں کا تذکرہ ہے، تیسری طلاق کہاں ہے؟ آپ نے فرمایا مہربانی کے ساتھ روکنا یا احسان کے ساتھ رخصت کردینا ہی تیسری طلاق ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 20352]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20352، ترقيم محمد عوامة 19561)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 19562 ترقیم الشثری: -- 20353
٢٠٣٥٣ - حدثنا ابو بكر قال: نا عبد الله بن إدريس عن هشام عن ابيه قال: قال (رجل) (١) لامراته على عهد النبي ﷺ: لا (آويك) (٢) ولا تحلين مني، قالت: فكيف تصنع؟ قال: اطلقك حتى إذا دنا مضي عدتك راجعتك، (فخرعت) (٣) ، فاتت النبي ﵇ فانزل الله تعالى: ﴿فإمساك بمعروف او تسريح بإحسان﴾، قال: فاستقبله.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط]: (رجلًا).
(٢) في [أ، س، هـ]: (أقربك)، وانظر: تفسير ابن جرير ٢/ ٤٥٦، وأحكام القرآن للجصاص ٢/ ٧٣، والمحرر الوجير ١/ ٣٠٦، وتفسير القرطبي ٣/ ١٢٦.
(٣) في [أ، ب، هـ]: (فخرجت)، وفي [س، ط]: (فجزعت).

حضرت عروہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں ایک آدمی نے اپنی بیوی سے کہا کہ میں نہ تو تیرے قریب آؤں گا اور نہ تو میرے نکاح سے نکل سکے گی۔ عورت نے کہا کہ تم ایسا کس طرح کرو گے؟ اس آدمی نے کہا کہ میں تجھے طلاق دوں گا اور جب تیری عدت پوری ہونے کا وقت قریب آئے گا تو میں تجھ سے رجوع کرلوں گا۔ وہ عورت پریشان ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی تو اس موقع پر قرآن مجید کی آیت {إمْسَاکٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِیحٌ بِإِحْسَانٍ } نازل ہوئی۔ پھر لوگوں کی یہ کیفیت ہوتی تھی کہ طلاق دی ہوتی تھی یا نہ دی ہوتی تھی۔ (درمیانی صور ت کوئی نہ تھی) [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 20353]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20353، ترقيم محمد عوامة 19562)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 20354
٢٠٣٥٤ - الناس (جديدا) (١) من كان طلق ومن لم يكن (طلق) (٢) (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (حديدًا).
(٢) في [ب]: (أطلق).
(٣) مرسل؛ عروة تابعي.

تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20354، ترقيم محمد عوامة ---)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 19563 ترقیم الشثری: -- 20355
٢٠٣٥٥ - حدثنا ابو بكر قال: نا ابو الاحوص عن (سماك) (١) عن عكرمة قال: ﴿الطلاق مرتان فإمساك بمعروف او تسريح بإحسان﴾، قال: إذا اراد (الرجل) (٢) ان يطلق امراته (فليطلقها) (٣) تطليقتين، (فإن) (٤) اراد ان يراجعها كانت (له) (٥) ⦗٤٩٠⦘ (عليها) (٦) رجعة، (فإن) (٧) شاء طلقها اخرى (فلا) (٨) تحل له حتى تنكح زوجا غيره.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (سمك).
(٢) سقط من: [أ، ب، س، ط، ك].
(٣) في [هـ]: (فيطلقها).
(٤) سقط من: [س].
(٥) سقط من: [ك].
(٦) في [جـ]: (علها).
(٧) في [أ، ب، جـ، س، ط، ك]: (وإن).
(٨) في [جـ، ز، ك]: (فلم).

حضرت عکرمہ رحمہ اللہ قرآن مجید کی آیت { الطَّلاَقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاکٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِیحٌ بِإِحْسَانٍ } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ جب کوئی شخص اپنی بیوی کو طلاق دینا چاہے تو اسے دو طلاقیں دے دے، پھر جب وہ اس سے رجوع کرنا چاہے تو کرلے اور اگر ایک چاہے تو ایک طلاق دے دے، اس تیسری طلاق کے بعد وہ عورت اس خاوند کے لئے اس وقت تک حلال نہیں جب تک کسی اور مرد سے شادی نہ کرلے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 20355]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20355، ترقيم محمد عوامة 19563)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 19564 ترقیم الشثری: -- 20356
٢٠٣٥٦ - حدثنا ابو بكر قال: نا (عبيد الله قال: حدثنا) (١) حسن بن صالح عن (سماك) (٢) قال: سمعت عكرمة يقول: ﴿الطلاق مرتان فإمساك بمعروف او تسريح بإحسان﴾، قال: إذا طلق الرجل امراته، واحدة، فإن شاء نكحها، (وإذا) (٣) طلقها ثنتين فإن شاء نكحها، فإذا طلقها ثلاثا فلا تحل له حتى تنكح زوجا غيره.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [هـ]، وفي [أ، س، ز، ط]: (عبد اللَّه).
(٢) في [س]: (سمك).
(٣) في [أ، ب]: (فإذا).

حضرت عکرمہ رحمہ اللہ قرآن مجید کی آیت { الطَّلاَقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاکٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِیحٌ بِإِحْسَانٍ } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ جب آدمی اپنی بیوی کو ایک طلاق دے دے تو چاہے تو اس سے نکاح بحال کرلے۔ اور جب دو طلاقیں دے تو چاہے تو اس سے نکاح کرلے اور جب تیسری طلاق دے دے تو اب وہ عورت اس کے لئے حلال نہیں جب تک کسی اور آدمی سے شادی نہ کرلے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 20356]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20356، ترقيم محمد عوامة 19564)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 19565 ترقیم الشثری: -- 20357
٢٠٣٥٧ - حدثنا ابو بكر قال: نا شبابة عن ورقاء عن ابن ابي نجيح عن مجاهد ﴿الطلاق مرتان فإمساك بمعروف او تسريح بإحسان﴾، قال: يطلق الرجل امراته طاهرا (في) (١) غير جماع، فإذا حاضت ثم طهرت فقد تم (القرء) (٢) ، ثم (طلق) (٣) (الثانية) (٤) كما (طلق) (٥) الاولى إن احب ان يفعل، فإذا طلق (الثانية) (٦) ثم ⦗٤٩١⦘ حاضت الحيضة الثانية (٧) فهاتان تطليقتان وقرءان، ثم قال الله تعالى للثالثة: ﴿الطلاق مرتان فإمساك بمعروف او تسريح بإحسان﴾ فيطلقها في ذلك القرء كله، إن شاء حين (تجمع) (٨) عليها ثيابها.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [س]، وفي [هـ]: (من).
(٢) في [أ، ب، ك]: (القروء)، وفي [خ]: (الفرق).
(٣) في [هـ]: (يطلق).
(٤) في [س، ك]: (الثالثة).
(٥) في [هـ]: (يطلق).
(٦) في [س]: (الثالثة).
(٧) في [ز]: زيادة (فقد تم القرو ثم طلق الثالثة كما طلق الحيضة الثانية).
(٨) في [س]: (يجمع).

حضرت مجاہد رحمہ اللہ قرآن مجید کی آیت { الطَّلاَقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاکٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِیحٌ بِإِحْسَانٍ } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ آدمی اپنی بیوی کو ایسے طہر میں طلاق دے جس میں اس سے جماع نہ کیا ہو، پھر جب اسے حیض آئے اور پھر طہر آئے تو ایک قرء مکمل ہوگیا۔ پھر اسے دوسری طلاق اسی طرح دے جس طرح پہلی طلاق دی تھی۔ اگر وہ ایساکرنا چاہے تو کرلے۔ پھر جب وہ دوسری طلاق دے دے اور اسے دوسرا حیض آجائے تو یہ دو طلاقیں اور دو قرء ہوگئے۔ پھر اللہ تعالیٰ تیسری طلاق کے بارے میں فرماتا ہے کہ { فَإِمْسَاکٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِیحٌ بِإِحْسَانٍ } پھر وہ اس پورے قرء میں اگر چاہے تو اس کو طلاق دے دے یہاں تک کہ عورت اپنے کپڑوں کو سمیٹ لے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 20357]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20357، ترقيم محمد عوامة 19565)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 19566 ترقیم الشثری: -- 20358
٢٠٣٥٨ - حدثنا ابو بكر قال: نا سفيان بن عيينة عن (عمرو) (١) عن طاوس عن ابن عباس قال: إنما هو فرقة وفسخ، ليس بطلاق، ذكر الله الطلاق (في) (٢) آخر الآية وفي اولها، والخلع بين ذلك فليس بطلاق، قال الله تعالى: ﴿الطلاق مرتان فإمساك بمعروف او تسريح بإحسان﴾ (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (عمر).
(٢) في [س، ط]: (فهي)، وسقط من: [هـ].
(٣) صحيح.

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما قرآن مجید کی آیت { الطَّلاَقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاکٌ بِمَعْرُوفٍ، أَوْ تَسْرِیحٌ بِإِحْسَانٍ } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ وہ فرقت اور فسخ ہے طلاق نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آیت کے شروع میں اور آخر میں طلاق کا ذکر کیا ہے اور ان دونوں کے درمیان خلع کا ذکر کیا ہے جو کہ طلاق نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں { الطَّلاَقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاکٌ بِمَعْرُوفٍ، أَوْ تَسْرِیحٌ بِإِحْسَانٍ } [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 20358]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20358، ترقيم محمد عوامة 19566)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 19567 ترقیم الشثری: -- 20359
٢٠٣٥٩ - حدثنا ابو بكر قال: نا ابن علية عن ايوب قال: قال عكرمة: ﴿لعل الله يحدث بعد ذلك امرا﴾ [الطلاق: ١] ، [قال: ما يحدث بعد الثلاث.
حضرت عکرمہ رحمہ اللہ قرآن مجید کی آیت { لَعَلَّ اللَّہَ یُحْدِثُ بَعْدَ ذَلِکَ أَمْرًا } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ اس سے مراد وہ ہے جو تین کے بعد ہو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 20359]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20359، ترقيم محمد عوامة 19567)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 19568 ترقیم الشثری: -- 20360
٢٠٣٦٠ - حدثنا ابو بكر قال: نا (ابن) (١) (ابي غنية) (٢) عن جويبر عن الضحاك: ﴿لعل الله يحدث بعد ذلك امر﴾] (٣) قال: لعله ان يراجعها في العدة.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ك]: (لن أبي عتبة).
(٢) في [هـ]: (عقبة)، وفي [أ، ز]: (عتبة)، وفي [ب]: (عيينة).
(٣) سقط ما بين المعكوفين من: [جـ].

حضرت ضحاک رحمہ اللہ قرآن مجید کی آیت { لَعَلَّ اللَّہَ یُحْدِثُ بَعْدَ ذَلِکَ أَمْرًا } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ اس سے مرادیہ ہے کہ شاید کہ وہ عدت میں رجوع کرلے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 20360]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20360، ترقيم محمد عوامة 19568)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 19569 ترقیم الشثری: -- 20361
٢٠٣٦١ - حدثنا ابو بكر قال: نا (ابو معاوية) (١) عن داود الاودي عن الشعبي (قال) (٢) : ﴿ (لا) (٣) تدري لعل الله يحدث بعد ذلك امرا﴾ قال: لا تدري لعلك تندم فيكون لك سبيل إلى الرجعة.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (أبو داود).
(٢) سقط من: [أ، ب، جـ، ك].
(٣) سقط من: [س].

حضرت شعبی رحمہ اللہ قرآن مجید کی آیت { لاَ تَدْرِی لَعَلَّ اللَّہَ یُحْدِثُ بَعْدَ ذَلِکَ أَمْرًا } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ اس سے مرادیہ ہے کہ آپ نہیں جانتے کہ شاید بعد میں آپ نادم ہوں اور آپ کے لئے رجوع کا راستہ بن جائے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 20361]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20361، ترقيم محمد عوامة 19569)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں