مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
253. ما قالوا في قوله (تعالى): ﴿الطلاق مرتان فإمساك بمعروف أو تسريح بإحسان﴾
قرآن مجیدکی آیت {الطلاق مرتان فإمساک بمعروف أو تسریح باحسان} کی تفسیر
ترقیم عوامۃ: 19565 ترقیم الشثری: -- 20357
٢٠٣٥٧ - حدثنا ابو بكر قال: نا شبابة عن ورقاء عن ابن ابي نجيح عن مجاهد ﴿الطلاق مرتان فإمساك بمعروف او تسريح بإحسان﴾، قال: يطلق الرجل امراته طاهرا (في) (١) غير جماع، فإذا حاضت ثم طهرت فقد تم (القرء) (٢) ، ثم (طلق) (٣) (الثانية) (٤) كما (طلق) (٥) الاولى إن احب ان يفعل، فإذا طلق (الثانية) (٦) ثم ⦗٤٩١⦘ حاضت الحيضة الثانية (٧) فهاتان تطليقتان وقرءان، ثم قال الله تعالى للثالثة: ﴿الطلاق مرتان فإمساك بمعروف او تسريح بإحسان﴾ فيطلقها في ذلك القرء كله، إن شاء حين (تجمع) (٨) عليها ثيابها.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [س]، وفي [هـ]: (من).
(٢) في [أ، ب، ك]: (القروء)، وفي [خ]: (الفرق).
(٣) في [هـ]: (يطلق).
(٤) في [س، ك]: (الثالثة).
(٥) في [هـ]: (يطلق).
(٦) في [س]: (الثالثة).
(٧) في [ز]: زيادة (فقد تم القرو ثم طلق الثالثة كما طلق الحيضة الثانية).
(٨) في [س]: (يجمع).
حضرت مجاہد رحمہ اللہ قرآن مجید کی آیت { الطَّلاَقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاکٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِیحٌ بِإِحْسَانٍ } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ آدمی اپنی بیوی کو ایسے طہر میں طلاق دے جس میں اس سے جماع نہ کیا ہو، پھر جب اسے حیض آئے اور پھر طہر آئے تو ایک قرء مکمل ہوگیا۔ پھر اسے دوسری طلاق اسی طرح دے جس طرح پہلی طلاق دی تھی۔ اگر وہ ایساکرنا چاہے تو کرلے۔ پھر جب وہ دوسری طلاق دے دے اور اسے دوسرا حیض آجائے تو یہ دو طلاقیں اور دو قرء ہوگئے۔ پھر اللہ تعالیٰ تیسری طلاق کے بارے میں فرماتا ہے کہ { فَإِمْسَاکٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِیحٌ بِإِحْسَانٍ } پھر وہ اس پورے قرء میں اگر چاہے تو اس کو طلاق دے دے یہاں تک کہ عورت اپنے کپڑوں کو سمیٹ لے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 20357]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20357، ترقيم محمد عوامة 19565)
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 20357 in Urdu