مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
20. المناجل تنصب (فتقطع)
اگر درانتیاں شکار کے لیے لگائی جائیں اور ان کی زد میں کوئی شکار آجائے تو کیا حکم ہے؟
ترقیم عوامۃ: 20064 ترقیم الشثری: -- 20878
٢٠٨٧٨ - حدثنا ابو بكر قال: نا (هشيم) (١) بن بشير عن [حصين (عن) (٢) ابن (اخي) (٣) ] (٤) مسروق (سال) (٥) عن صيد المناجل قال: إنها تقطع من الظباء والحمر فيبين منه الشيء وهو حي، فقال ابن عمر: ما (ابان) (٦) منه وهو حي (فدعه) (٧) و (كل) (٨) ما سوى ذلك (٩) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س، هـ]: (هاشم).
(٢) سقط من: [أ، جـ، خ، ز، س، ط، ك، هـ].
(٣) في: [أ، ب، جـ، ز، س، ط، ع، ك، هـ]: (أبي)، وانظر: المحلى ٧/ ٤٥٩ و ٤٦٧.
(٤) سقط من: [ك، ع].
(٥) في [ز، هـ]: (سئل).
(٦) في [جـ، ز، ك]: (بأن).
(٧) في [س]: (فدع).
(٨) في [س]: (أكل).
(٩) صحيح؛ صرح هشيم التحديث كما في المحلى ٧/ ٤٥٩.
حضرت مسروق نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال کیا کہ درانتیوں کے ذریعے شکار کا کیا حکم ہے یہ خفیہ جگہوں میں لگائی جاتی ہیں اور بعض اوقات ہرنوں اور حماروحشی کے عضو کو کاٹ دیتی ہیں جبکہ جانور زندہ ہوتا ہے۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ اس کے کٹے ہوئے عضو کو چھوڑ دو اور باقی حصے کو کھالو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الصيد/حدیث: 20878]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20878، ترقيم محمد عوامة 20064)
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 20878 in Urdu