🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
21. في الرجل يشتري (المبيع) (فيهلك) في يد البائع قبل أن (يقبضه) (المبتاع)
اگر گاہک کوئی چیز خرید لے اور وہ قبضے سے پہلے بائع کے پاس ہی ہلاک ہو جائے تو کیا حکم ہے؟
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 20539 ترقیم الشثری: -- 21372
٢١٣٧٢ - حدثنا ابن علية عن ابن عون عن إبراهيم قال: إذا اشترى الرجل المتاع فقال المشتري: (انقله إلي) (١) وقال البائع: لا، حتى (تاتيني) (٢) بالثمن فهذا بمنزلة الرهن، (إن) (٣) هلك فهو من مال البائع، وإن قال: البائع للمشتري: انقله، فقال: دعه حتى (ناتيك) (٤) بالثمن، فهذا بمنزلة الوديعة، إن هلك فهو من مال المشتري، ويبيع هذا ولا يبيع ذاك.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (انقله لي)، وكذلك في [جـ، ك]، وفي [س، ط]: (انفله لي).
(٢) في [س]: (يأتيني).
(٣) في [س، ك، هـ]: (فإن).
(٤) في [س]: (يأتيك).

حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ اگر کسی آدمی نے کوئی چیز خریدی اور مشتری نے کہا کہ اسے میرے حوالے کردو، بائع نے کہا کہ جب تک تم ثمن نہ لے آؤ میں تمہیں نہیں دوں گا۔ یہ معاملہ رہن کے درجہ میں ہوگا۔ اگر وہ ہلاک ہوا تو بائع کے مال میں سے ہوگا۔ اور اگر بائع نے مشتری سے کہا کہ اسے اپنے قبضے میں لے لو اور مشتری نے کہا کہ میں جب تک قیمت نہ لے آؤں اس وقت تک قبضہ نہ کروں گا تو یہ ودیعت کے حکم میں ہوگا۔ اگر ہلاک ہوا تو مشتری کے مال سے ہلاک ہوگا۔ ابن عون کہتے ہیں کہ میں نے اس بات کا تذکرہ حضرت محمد سے کیا تو انہوں نے فرمایا کہ میرے خیال میں انہوں نے سچ کہا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 21372]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21372، ترقيم محمد عوامة 20539)


Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 21372 in Urdu