🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

21. في الرجل يشتري (المبيع) (فيهلك) في يد البائع قبل أن (يقبضه) (المبتاع)
اگر گاہک کوئی چیز خرید لے اور وہ قبضے سے پہلے بائع کے پاس ہی ہلاک ہو جائے تو کیا حکم ہے؟
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 20537 ترقیم الشثری: -- 21370
٢١٣٧٠ - حدثنا عباد بن العوام عن اشعث عن الحكم في (رجل) (١) اشترى من رجل متاعا (هلك) (٢) في يدي البائع قبل ان يقبضه قال: إن كان قال له: خذ متاعك. فلم ياخذه (فهو) (٣) من مال المشتري وإن كان قال: لا ادفعه لك حتى (تاتي) (٤) بالثمن فهو (من) (٥) مال البائع.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط]: (الرجل).
(٢) في [جـ]: (فهلك).
(٣) سقط من: [ك، جـ، س]، وفي [هـ]: زيادة (في يدي البائع).
(٤) في [جـ]: (تأتني).
(٥) سقط من: [هـ].

حضرت حکم فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے کسی سے کوئی چیز خریدی اور وہ قبضے سے پہلے بائع کے پاس ہی ہلاک ہوگئی۔ اس صورت میں اگر بائع نے کہا تھا کہ اپنا سامان لے تو یہ نقصان گاہک کا ہوگا اور اگر بائع نے کہا تھا کہ میں تمہیں یہ اس وقت تک نہیں دوں گا جب تک تم مجھے اس کی قیمت نہ لا دو تو یہ نقصان بائع کا ہوگا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 21370]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21370، ترقيم محمد عوامة 20537)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 20538 ترقیم الشثری: -- 21371
٢١٣٧١ - حدثنا ابن ابي زائدة (عن) (١) داود قال: قلت لعامر: (رجل) (٢) اشترى (بزا) (٣) (إلى) (٤) اجل (فحبسه) (٥) و (عكمه) (٦) ووضعه في منزل البائع ولم (يحبسه) (٧) رهنا بالمال، (فاحترق المال) (٨) قال: من مال البائع.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، هـ]: (هو)، وفي [جـ]: (عن).
(٢) في [س]: (لرجل)، في [ز]: (برجل).
(٣) في [أ، ب]: (بر).
(٤) في [ط]: مكررة.
(٥) في [هـ]: (فحبسه)، وفي [س]: (فحبه).
(٦) في [هـ]: (عكرمه).
(٧) في [أ، ب]: (يحتسبه)، وفي [جـ، س، ك]: (يحتبسه).
(٨) سقط من: [ط].

حضرت داود فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عامر سے سوال کیا کہ ایک آدمی نے کسی سے کوئی چیز خریدی اور اسے تیار کر کے بائع کے مکان میں ہی چھوڑ دیا اور اسے مال کا رہن تصور نہ کیا تو کیا حکم ہے اگر وہ مال جل جائے؟ انہوں نے فرمایا کہ یہ بائع کا نقصان ہوا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 21371]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21371، ترقيم محمد عوامة 20538)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 20539 ترقیم الشثری: -- 21372
٢١٣٧٢ - حدثنا ابن علية عن ابن عون عن إبراهيم قال: إذا اشترى الرجل المتاع فقال المشتري: (انقله إلي) (١) وقال البائع: لا، حتى (تاتيني) (٢) بالثمن فهذا بمنزلة الرهن، (إن) (٣) هلك فهو من مال البائع، وإن قال: البائع للمشتري: انقله، فقال: دعه حتى (ناتيك) (٤) بالثمن، فهذا بمنزلة الوديعة، إن هلك فهو من مال المشتري، ويبيع هذا ولا يبيع ذاك.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (انقله لي)، وكذلك في [جـ، ك]، وفي [س، ط]: (انفله لي).
(٢) في [س]: (يأتيني).
(٣) في [س، ك، هـ]: (فإن).
(٤) في [س]: (يأتيك).

حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ اگر کسی آدمی نے کوئی چیز خریدی اور مشتری نے کہا کہ اسے میرے حوالے کردو، بائع نے کہا کہ جب تک تم ثمن نہ لے آؤ میں تمہیں نہیں دوں گا۔ یہ معاملہ رہن کے درجہ میں ہوگا۔ اگر وہ ہلاک ہوا تو بائع کے مال میں سے ہوگا۔ اور اگر بائع نے مشتری سے کہا کہ اسے اپنے قبضے میں لے لو اور مشتری نے کہا کہ میں جب تک قیمت نہ لے آؤں اس وقت تک قبضہ نہ کروں گا تو یہ ودیعت کے حکم میں ہوگا۔ اگر ہلاک ہوا تو مشتری کے مال سے ہلاک ہوگا۔ ابن عون کہتے ہیں کہ میں نے اس بات کا تذکرہ حضرت محمد سے کیا تو انہوں نے فرمایا کہ میرے خیال میں انہوں نے سچ کہا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 21372]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21372، ترقيم محمد عوامة 20539)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 21373
٢١٣٧٣ - قال ابن عون: فذكرته لمحمد فقال: صدق، اظن.
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21373، ترقيم محمد عوامة ---)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 20540 ترقیم الشثری: -- 21374
٢١٣٧٤ - حدثنا إسماعيل بن إبراهيم عن داود بن ابي هند ان رجلا ابتاع من رجل متاعا إلى اجل، و (حبسه) (١) ، (فبيتهم) (٢) حريق من الليل (فاحرق) (٣) بعضه، فسالت الشعبي (فقال) (٤) : هو (من) (٥) مال الذي (هو) (٦) (في) (٧) (يديه) (٨) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (وجئه)، وفي [ك]: (حسبه).
(٢) في [ط]: (فبينهم).
(٣) في [جـ، ز، ك]: (فاحترق).
(٤) في [ز]: (قال).
(٥) سقط من: [ز، ك].
(٦) سقط من: [أ، ب].
(٧) في [ز، ك]: (فيه).
(٨) في [ب]: (يدى).

حضرت داود بن ابی ہند کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے دوسرے آدمی سے مقررہ مدت تک ادائیگی کی شرط پر کچھ مال خریدا اور اسے بائع کے پاس چھوڑ دیا۔ رات کو گھر میں آگ لگ گئی اور کچھ سامان جل گیا۔ اس بارے میں میں نے حضرت شعبی سے سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ وہ جس کے قبضے میں تھا اسی کا نقصان ہوا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 21374]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21374، ترقيم محمد عوامة 20540)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں