مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
135. في الرجل يشتري من الرجل السلعة ويقول: قد برئت إليك
کوئی شخص یہ کہتے ہوئے سامان فروخت کرے کہ میں ہر عیب سے بری ہوں، تو کیا حکم ہے؟
ترقیم عوامۃ: 21504 ترقیم الشثری: -- 22399
٢٢٣٩٩ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا عباد بن العوام عن يحيى بن سعيد عن سالم (ان) (١) ابن عمر باع غلاما له بثمانمائة، قال: فوجد به المشتري عيبا، فخاصمه إلى عثمان، فساله عثمان فقال: بعته بالبراءة، فقال: (تحلف) (٢) بالله (لقد بعته ⦗٥٢٧⦘ و) (٣) ما به من عيب تعلمه، فقال: بعته بالبراءة، وابى ان يحلف، فرده عثمان عليه فباعه بعد ذلك بالف وخمسمائة (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ط].
(٢) في [أ، ح]: (يحلف).
(٣) سقط من: [جـ، ز].
(٤) صحيح؛ أخرجه مالك (٢/ ٦١٣) (١٢٧٤)، وعبد الرزاق (١٤٧٢٢)، والبيهقي (٥/ ٣٢٨)، وتقدم برقم (٢١٨٦٠).
حضرت سالم رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے آٹھ سو درہم میں ایک غلام فروخت کیا، مشتری نے اس غلام میں عیب پایا اور مخاصمہ کے لئے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہوا۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اس کے متعلق دریافت فرمایا؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں نے اسے بیچتے وقت کہہ دیا تھا کہ میں اس کے ہر عیب سے بری الذمہ ہوں، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا کہ آپ قسم اٹھائیں کہ میں نے اس کو غلام فروخت کیا اور اس میں بوقت فروخت کوئی عیب ایسا نہ تھا جو میرے علم میں ہو؟ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ میں نے بیچتے وقت یہ کہہ دیا تھا کہ میں اس کے ہر عیب سے بری الذمہ ہوں، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے دوبارہ ارشاد فرمایا کہ آپ قسم اٹھائیں کہ میں نے اس کو غلام فروخت کیا اور اس میں بوقت فروخت کوئی عیب ایسا نہ تھا جو میرے علم میں ہو؟ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے قسم اٹھانے سے انکار کردیا، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے وہ غلام آپ کو واپس کروا دیا، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بعد میں وہی غلام پندرہ سو درہم میں فروخت کیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 22399]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22399، ترقيم محمد عوامة 21504)
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 22399 in Urdu