🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

135. في الرجل يشتري من الرجل السلعة ويقول: قد برئت إليك
کوئی شخص یہ کہتے ہوئے سامان فروخت کرے کہ میں ہر عیب سے بری ہوں، تو کیا حکم ہے؟
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 21503 ترقیم الشثری: -- 22398
٢٢٣٩٨ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا شريك عن عاصم (بن) (١) عبيد الله عن عبد الله بن عامر بن ربيعة عن زيد بن ثابت انه كان يرى البراءة من كل عيب (جائزا) (٢) (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ز]: (عن).
(٢) في [أ، ح، ط]: (جائز).
(٣) ضعيف؛ لضعف عاصم بن عبيد اللَّه.

حضرت زید بن ثابت رحمہ اللہ اس بات کو جائز سمجھتے ہیں کہ بائع یہ کہہ کر چیز فروخت کرے کہ میں ہر عیب سے بری ہوں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 22398]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22398، ترقيم محمد عوامة 21503)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 21504 ترقیم الشثری: -- 22399
٢٢٣٩٩ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا عباد بن العوام عن يحيى بن سعيد عن سالم (ان) (١) ابن عمر باع غلاما له بثمانمائة، قال: فوجد به المشتري عيبا، فخاصمه إلى عثمان، فساله عثمان فقال: بعته بالبراءة، فقال: (تحلف) (٢) بالله (لقد بعته ⦗٥٢٧⦘ و) (٣) ما به من عيب تعلمه، فقال: بعته بالبراءة، وابى ان يحلف، فرده عثمان عليه فباعه بعد ذلك بالف وخمسمائة (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ط].
(٢) في [أ، ح]: (يحلف).
(٣) سقط من: [جـ، ز].
(٤) صحيح؛ أخرجه مالك (٢/ ٦١٣) (١٢٧٤)، وعبد الرزاق (١٤٧٢٢)، والبيهقي (٥/ ٣٢٨)، وتقدم برقم (٢١٨٦٠).

حضرت سالم رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے آٹھ سو درہم میں ایک غلام فروخت کیا، مشتری نے اس غلام میں عیب پایا اور مخاصمہ کے لئے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہوا۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اس کے متعلق دریافت فرمایا؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں نے اسے بیچتے وقت کہہ دیا تھا کہ میں اس کے ہر عیب سے بری الذمہ ہوں، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا کہ آپ قسم اٹھائیں کہ میں نے اس کو غلام فروخت کیا اور اس میں بوقت فروخت کوئی عیب ایسا نہ تھا جو میرے علم میں ہو؟ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ میں نے بیچتے وقت یہ کہہ دیا تھا کہ میں اس کے ہر عیب سے بری الذمہ ہوں، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے دوبارہ ارشاد فرمایا کہ آپ قسم اٹھائیں کہ میں نے اس کو غلام فروخت کیا اور اس میں بوقت فروخت کوئی عیب ایسا نہ تھا جو میرے علم میں ہو؟ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے قسم اٹھانے سے انکار کردیا، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے وہ غلام آپ کو واپس کروا دیا، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بعد میں وہی غلام پندرہ سو درہم میں فروخت کیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 22399]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22399، ترقيم محمد عوامة 21504)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 21505 ترقیم الشثری: -- 22400
٢٢٤٠٠ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا عبد السلام بن حرب عن مغيرة عن إبراهيم قال: ما سمى من عيب برئ منه.
حضرت ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بائع بیع کرتے وقت جن عیوب کا نام لے کر برأت کا اظہار کرے گا صرف انہی عیوب سے بری ہوگا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 22400]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22400، ترقيم محمد عوامة 21505)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 21506 ترقیم الشثری: -- 22401
٢٢٤٠١ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع عن إسرائيل عن جابر عن عامر عن شريح قال: إذا هو سمى برئ.
حضرت شریح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وہ عیوب کا نام لے لے تو وہ بری ہوجائے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 22401]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22401، ترقيم محمد عوامة 21506)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 21507 ترقیم الشثری: -- 22402
٢٢٤٠٢ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا محمد بن ابي عدي عن ابن عون عن ابن سيرين في الرجل يبيع الدابة فيقول: ابرئ من كذا، ابرئ من كذا، ابرئ من الجرد (١) ، قال: لايبرا إلا من شيء يسميه و (يريه) (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) أي: من جميع العيوب، فالجرد أخذك الشيء عن الشيء على سبيل السحق، يقال للثوب الذي ذهب وبره: جرد، وأرض جردة: لا نبات فيها، مأخوذ من الجراد الذي لا يبقي شيئًا من النبات. انظر: غريب الحديث للخطابي ١/ ٧٢١، ولسان العرب ٣/ ١١٦، وتهذيب اللغة ١٠/ ٣٣٦، والتفسير الكبير ١٤/ ١٧٨، وفتح الباري ٩/ ٦٢٠، وعمدة القاري ٢١/ ١٠٩.
(٢) في [أ، ح]: (تريه)، وفي [هـ]: (يقربه).

حضرت ابن سیرین رحمہ اللہ سے دریافت کیا گیا کہ ایک شخص یہ کہتے ہوئے جانور فروخت کرتا ہے کہ میں فلاں عیب سے بری ہوں، فلاں عیب سے بری ہوں اور گنجے پن کی بیماری سے بھی بری ہو، آپ نے فرمایا جن عیوب کا وہ نام لے گا صرف ان عیوب سے بری ہوگا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 22402]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22402، ترقيم محمد عوامة 21507)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 21508 ترقیم الشثری: -- 22403
٢٢٤٠٣ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا حميد بن عبد الرحمن عن دينار قال: قلت للحسن: ابيع السلعة واتبرا من القروح والجروح (والنغانغ) (١) والباطن ⦗٥٢٨⦘ والظاهر، فقال: لا تبرا حتى تقول: في هذا العين كذا، وهذا كذا، وإلا رد عليك.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) النغانغ: لحم زائد في اللهات، وفي [هـ]: (النفائغ)، وفي [جـ]: (النطائع).
جاء في كتاب الحيوان (٣/ ٣٨٢)، وأبرأ للذي يبتاع مني * .. هلالًا من خصال فيه خمس * .. فمنهن النغانغ والمكاوي * .. وآثار الجروح وأكل ضرس.

حضرت دینار فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت حسن رحمہ اللہ سے عرض کیا: مبیع فروخت کرنا یہ کہتے ہوئے کہ میں پھنسیوں سے، زخموں سے، ہاتھ اور پاؤں کے آبلوں سے اور ظاہر و باطن کے ہر عیب سے بری ہوں، یہ کہنا کیسا ہے؟ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا کہ تو بری نہیں ہوگا جب تک یہ نہ کہہ دے کہ اس آنکھ کے عیب سے اور اس چیز کے عیب سے بری ہوں، اگر ایسا نہ کہے تو مبیع کو تجھے واپس کیا جائے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 22403]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22403، ترقيم محمد عوامة 21508)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 21509 ترقیم الشثری: -- 22404
٢٢٤٠٤ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا غندر عن ابن جريج عن عطاء قال: لا يبرا من العيب حتى (يسميه) (١) ويضع (يده) (٢) عليه.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ح]: (تسمية).
(٢) في [أ، هـ]: (يديه).

حضرت عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب تک تمام عیوب کے نام نہ لے لے اور ان پر ہاتھ نہ رکھ کر بتادے وہ بری نہ ہوگا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 22404]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22404، ترقيم محمد عوامة 21509)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 21510 ترقیم الشثری: -- 22405
٢٢٤٠٥ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع عن إسماعيل (١) الازرق عن الشعبي قال: (إذا) (٢) سمى برئ، وإن لم يضع يده على العيب.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: زاد (بن).
(٢) في [أ، ح، ط، هـ]: (إن).

حضرت شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ صرف نام لینے سے بھی وہ بری ہوجائے گا، اگرچہ عیوب پر ہاتھ نہ بھی رکھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 22405]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22405، ترقيم محمد عوامة 21510)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 21511 ترقیم الشثری: -- 22406
٢٢٤٠٦ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن منصور عن رجل عن شريح قال: لا يبرا حتى يضع (يده) (١) (عليه) (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (يديه).
(٢) في [هـ]: (على الداء).

حضرت شریح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب تک وہ عیوب پر ہاتھ نہ رکھے بری نہ ہوگا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 22406]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22406، ترقيم محمد عوامة 21511)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 21512 ترقیم الشثری: -- 22407
٢٢٤٠٧ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا (وكيع قال: حدثنا) (١) سفيان عن مغيرة عن إبراهيم قال: إذا قال: ابيعك (لحما) (٢) على (بارية) (٣) ، ابيعك ما اقلت الارض قال: إذ سمى برئ.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، جـ، ح، س، ز، ط، هـ].
(٢) في [هـ]: (الحما) وفي (نجما).
(٣) أي حصير قصب، وفي (هـ): (بازية).

حضرت ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص یوں کہے کہ میں گوشت چٹائی پر رکھ کر فروخت کروں گا، یا میں تجھے وہ چیز فروخت کروں گا جو زمین سے نکلے، اگر وہ عیوب کا نام لے لے تو بری ہوجائے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 22407]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22407، ترقيم محمد عوامة 21512)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں