مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
588. في الرجلين يودعان الشيء
دو آدمیوں کا کسی کے پاس ایک چیز امانت رکھوانا
ترقیم عوامۃ: 23734 ترقیم الشثری: -- 24809
٢٤٨٠٩ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا جرير عن عطاء بن السائب عن (زاذان) (١) ⦗٥٩⦘ قال: استودع (رجلان امراة) (٢) وديعة وقالا لها: (لا) (٣) تدفعيها (لواحد) (٤) منا حتى نجتمع عندك، ثم انطلقا فغابا، فجاء احدهما إليها (فقال) (٥) : اعطيني وديعتي فإن صاحبي قد مات، فابت حتى كثر اختلافه إليها ثم اعطته، (ثم جاء) (٦) الآخر بعد فقال: هاتي وديعتي، (فقالت) (٧) : قد جاء صاحبك فذكر انك قد مت، فاخذ وديعتكما مني، فارتفعا إلى عمر، فلما قصا عليه القصة قال لها عمر: ما اراك إلا قد ضمنت، قالت (المراة) (٨) : يا امير المؤمنين! اجعل (عليا) (٩) بيني وبينه، (قال) (١٠) لعلي: اقض بينهما يا علي، قال علي: هذه الوديعة عندي، وقد (امرتماها) (١١) الا تدفع إلى واحد منكما حتى تجتمعا عندها، (فاتني) (١٢) بصاحبك، فلم يضمنها قال: (فراوا) (١٣) (إنما) (١٤) ارادا ان يذهبا بمال المراة (١٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط]: (زادان).
(٢) في [جـ]: (رجلًا وامرأة).
(٣) سقط من: [ط، ح].
(٤) في [جـ، ز]: (إلى واحد).
(٥) في [ز]: (قال).
(٦) في [أ، هـ]: (فجاء).
(٧) في [جـ]: (قالت).
(٨) سقط من: [جـ، ز].
(٩) سقط من: [جـ، ز].
(١٠) في [جـ]: (فقال).
(١١) في [أ، هـ، ح]: (أمرناها).
(١٢) في [هـ]: (فأتي)، وفي [أ، ح]: (فايتنى).
(١٣) في [ز]: (فروا).
(١٤) في [هـ، ط]: (أنهما).
(١٥) ضعيف؛ عطاء اختلط.
حضرت زاذان سے مروی ہے کہ دو شخصوں نے ایک خاتون کے پاس امانت رکھوانا چاہی اور ان دونوں نے اس سے کہا کہ ہم میں سے کسی کو یہ مت دینا مگر جب ہم دونوں ایک ساتھ آجائیں، پھر وہ دونوں چلے گئے اور کہیں غائب ہوگئے، پھر کچھ عرصہ بعد ان میں سے ایک آیا اور خاتون سے کہا کہ میری امانت میرے حوالے کرو میرا دوست فوت ہوچکا ہے، اس خاتون نے انکار کیا یہاں تک کہ ان کا اختلاف بہت زیادہ ہوگیا، پھر خاتون نے اس کے حوالہ کردیا، پھر کچھ عرصہ بعد دوسرا آیا اور کہا کہ میری امانت میرے حوالہ کرو، خاتون نے کہا کہ تیرا دوست آیا تھا اور کہہ رہا تھا کہ میرا دوست فوت ہوگیا ہے اور وہ تمہاری امانت مجھ سے لے گیا ہے، وہ دونوں جھگڑا حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں لے گئے، جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو مکمل واقعہ سنایا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس خاتون سے فرمایا: میرا نہیں خیال مگر یہ کہ تو ضامن ہے۔ خاتون نے عرض کیا اے امیر المؤمنین! حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ہمارے درمیان حَکَم بنادیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ان کے درمیان فیصلہ کرو، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا، یہ امانت میرے پاس ہے، اور تم نے اس عورت کو یہ حکم بھی دیا تھا کہ ہم میں سے کسی کو یہ ودیعت نہیں دینی، جب تک کہ دونوں اکٹھے حاضر نہ ہوجائیں۔ لہٰذا پہلے تو اتنا دوسرا ساتھی لے کر آ۔ آپ نے خاتون کو ضامن نہیں بنایا، راوی فرماتے ہیں کہ لوگوں کا خیال تھا کہ وہ دونوں اس خاتون کا مال لے جانے کا ارادہ رکھتے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 24809]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 24809، ترقيم محمد عوامة 23734)
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 24809 in Urdu