🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
28. في الرجل (يفزع) من الشيء
اس آدمی کے بارے میں جو کسی شئی سے ڈرتا ہو
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 24068 ترقیم الشثری: -- 25149
٢٥١٤٩ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا عفان قال: حدثنا جعفر بن سليمان قال: حدثنا ابو التياح قال: سال رجل (عبد الله) (١) بن (خنبش) (٢) : كيف (صنع) (٣) رسول الله ﷺ (٤) (ليلة كادته الشياطين؟ قال: جاءت الشياطين إلى رسول الله ⦗١٧٣⦘ ﷺ) (٥) من (الاودية) (٦) ، وتحدرت عليه من (الجبال) (٧) ، (وفيهم) (٨) شيطان معه شعلة من نار يريد (ان) (٩) يحرق بها رسول الله ﷺ، (فارعب) (١٠) منه، قال جعفر: احسبه جعل يتاخر، وجاء جبريل فقال:"يا محمد قل، (قال: و) (١١) ما اقول؟ قال: قل اعوذ بكلمات الله التامات التي لا يجاوزهن بر ولا فاجر من شر ما خلق وذرا وبرا، ومن شر ما (ينزل) (١٢) من السماء ومن شر ما يعرج فيها، ومن شر ما ذرا في الارض ومن شر ما يخرج منها، ومن (شر) (١٣) فتن الليل والنهار، ومن شر (كل) (١٤) طارق إلا (طارقا) (١٥) يطرق بخير يا رحمن"، قال: فطفئت نار (الشياطين) (١٦) وهزمهم الله (١٧) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) هكذا رواية عفان كما في مسند أحمد وغيره، وفي [هـ]: (عبد الرحمن).
(٢) في [أ، ح، ط]: (خنيس)، وفي [ع]: (حنيش).
(٣) في [ط]: (ضع).
(٤) في [جـ، ز]: (حين).
(٥) سقط من: [أ، ح، ط].
(٦) في [ح]: (الادوية).
(٧) في [جـ، ز]: (الحبال).
(٨) في [ز]: (وفيه).
(٩) سقط من: [ز].
(١٠) في [جـ]: (فأرغب)، وفي [ط]: (قارعب).
(١١) سقط من: [جـ].
(١٢) في [أ، ح]: (يتنزل).
(١٣) سقط من: [ز].
(١٤) سقط من: [ط].
(١٥) في [أ، جـ، ح، ز، ط]: (طارق).
(١٦) في [أ، هـ]: (الشيطان).
(١٧) حسن؛ جعفر بن سليمان صدوق، أخرجه أحمد (١٥٤٦١)، وأبو يعلى (٦٨٤٤)، وابن السني (٦٣٧)، وأبو نعيم في الدلائل (١٣٧)، والبيهقي في الدلائل ٧/ ٩٥، وابن عبد البر في التمهيد ٢٤/ ١١٤.

حضرت ابو التیاح بیان کرتے ہیں کہ کسی آدمی نے حضرت عبد اللہ بن خنبش سے پوچھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ جب شیاطین نے مکر کرنا چاہا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کیا کیا تھا؟ عبد اللہ نے جواب دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس مختلف وادیوں سے اور مختلف پہاڑوں سے اتر کر شیاطین آئے اور ان میں ایک ایسا شیطان بھی تھا جس کے پاس آگ کا ایک بڑا انگارہ تھا۔ اور اس کے ذریعہ سے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جلانا چاہتا تھا۔ لیکن پھر وہ شیطان آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مرعوب ہوگیا۔ جعفر راوی کہتے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ وہ پیچھے ہٹنے لگا۔ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) تشریف لائے اور انہوں نے فرمایا: ”اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)! کہو“ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا۔ ”میں کیا کہوں؟“ جبرائیل نے کہا۔ ”آپ یہ کہو: میں اللہ تعالیٰ کے ان کلماتِ تامہ کے ذریعہ پناہ پکڑتا ہوں کہ جب کلمات سے مخلوق میں سے کوئی فاجر یا نیک تجاوز نہیں کرسکتا۔ اور کوئی پیدا ہونے والا اور نکلنے والا تجاوز نہیں کرسکتا۔ اور میں ہر اس چیز کے شر سے پناہ حاصل کرتا ہوں جو آسمان سے اترے اور آسمان میں چڑھے اور ہر اس چیز کے شر سے جو زمین میں داخل ہو اور زمین سے باہر آئے، اور رات، دن کے فتنوں کے شر سے اور رات کو آنے والی کسی بھی چیز کے شر سے مگر رات کو آنے والی وہ چیز جو خیر کے ساتھ آئے، اے رحمن“۔ راوی کہتے ہیں۔ پس شیطانوں کی آگ بجھ گئی اور اللہ تعالیٰ نے ان کو ناکام کردیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الطب/حدیث: 25149]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25149، ترقيم محمد عوامة 24068)


Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 25149 in Urdu