مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
28. في الرجل (يفزع) من الشيء
اس آدمی کے بارے میں جو کسی شئی سے ڈرتا ہو
ترقیم عوامۃ: 24064 ترقیم الشثری: -- 25145
٢٥١٤٥ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن يحيى بن سعيد عن محمد بن يحيى ان (الوليد بن) (١) الوليد بن المغيرة المخزومي شكا إلى رسول الله ﷺ حديث (نفس) (٢) (يجده) (٣) وانه قال:"إذا اتيت إلى فراشك (فقل) (٤) : اعوذ (بكلمات) (٥) الله التامة من غضبه وعقابه وشر عباده، ومن همزات الشياطين وان يحضرون، فوالذي نفسي بيده لا (يضرك) (٦) شيء حتى تصبح" (٧) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، جـ، ط].
(٢) في [أ، هـ]: (بعين)، وفي [ط]: (بعير).
(٣) في [جـ]: (نحوه)، وفي [هـ]: (نحو).
(٤) سقط من: [جـ].
(٥) في [جـ، ز]: (بكلمة).
(٦) في [ز]: (يضرل).
(٧) مرسل؛ محمد بن يحيى تابعي، أخرجه مالك ٢/ ٩٥٠، وأحمد (١٦٥٧٣)، ومسدد كما في المطالب (٣٣٦٤)، وابن السني (٧٥٥)، والبيهقي في الأسماء والصفات ص ١٨٥.
حضرت محمد بن یحییٰ سے روایت ہے کہ ولید بن ولید بن مغیرہ مخزومی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے خیالات کے بارے میں جو انہیں آتے تھے، شکایت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’ ’ تم اپنے بستر پر آؤ تو یوں کہو۔ میں اللہ تعالیٰ کے کلمات تامہ کے ذریعہ سے اس کے غضب اور سزا اور اس کے بندوں کے شر سے پناہ میں آتا ہوں۔ اور شیطانی وساوس سے بھی پناہ میں آتا ہوں۔ اور اس بات سے بھی پناہ میں آتا ہوں کہ وہ میرے پاس آئیں۔ پس قسم اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے۔ تمہیں صبح تک کوئی چیز نقصان نہیں پہنچا سکے گی۔“ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الطب/حدیث: 25145]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25145، ترقيم محمد عوامة 24064)
ترقیم عوامۃ: 24065 ترقیم الشثری: -- 25146
٢٥١٤٦ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابن نمير عن زكريا عن مصعب بن شيبة عن يحيى بن جعدة قال: كان خالد (بن الوليد) (١) (يفزع) (٢) من الليل (حتى) (٣) يخرج ومعه سيفه، فخشي عليه ان يصيب احدا، فشكا ذلك إلى النبي ﷺ فقال:"إن جبريل قال لي: (إن) (٤) عفريتا من الجن يكيدك، (فقل) (٥) اعوذ (بكلمات) (٦) الله التامة التي لا (يجاوزها) (٧) بر ولا فاجر من شر ما ينزل من السماء وما يعرج فيها، ومن (شر) (٨) ما (ذرا) (٩) في الارض وما يخرج (منها) (١٠) ، ومن شر فتن الليل والنهار، ومن (شر) (١١) كل (طارق) (١٢) إلا (طارقا) (١٣) يطرق بخير يا رحمن"، [فقالهن خالد فذهب ذلك عنه (١٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) مكرره في: [ز].
(٢) سقط من: [ط].
(٣) في [أ، ح، ز]: (حين).
(٤) سقط من: [ز].
(٥) سقط من: [ز].
(٦) في [ز]: (بكلمة).
(٧) في [جـ]: (يجاوزهن).
(٨) سقط في: [ز].
(٩) في [أ، ب، هـ]: (بث).
(١٠) في [أ، ح، ط]: (فيها).
(١١) سقط من: [جـ].
(١٢) في [هـ]: (طارقًا).
(١٣) في [أ، ح، هـ]: (طارق).
(١٤) مرسل؛ يحيى بن جعدة تابعي.
حضرت یحییٰ بن جعدہ سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ خالد بن ولید رات کے وقت ڈر جاتے تھے اور ان کے پاس تلوار بھی ہوتی تھی اور وہ اس حال میں باہر نکل جاتے تھے، پھر انہوں نے یہ خوف محسوس کیا کہ یہ کسی کو زخمی نہ کردیں تو انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس بات کی شکایت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:”مجھے جبرائیل نے کہا تھا کہ ایک بڑا جن آپ کے لیئے برائی کا ارادہ رکھتا ہے پس آپ (یہ) پڑھیں:”میں اللہ تعالیٰ کے ان کلمات تامہ کے ذریعے سے پناہ پکڑتا ہوں جن سے کوئی نیک اور بد تجاوز نہیں کرسکتا، ہر اس چیز کے شر سے جو آسمان سے اترے اور جو آسمان میں چڑھے اور ہر اس چیز سے جو زمین میں داخل ہو اور جو زمین سے خارج ہو اور رات، دن کے فتنوں سے اور ہر رات کو آنے والی ہر چیز کے شر سے مگر وہ رات کو آنے والی چیز جو خیر کے ساتھ آئے، اے رحمن“ چناچہ حضرت خالد نے یہ جملے کہے تو ان کی یہ حالت ختم ہوگئی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الطب/حدیث: 25146]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25146، ترقيم محمد عوامة 24065)
ترقیم عوامۃ: 24066 ترقیم الشثری: -- 25147
٢٥١٤٧ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابو اسامة عن عبد الرحمن بن يزيد قال: حدثنا مكحول ان رسول الله ﷺ لما دخل مكة تلقته الجن بالشرر يرمونه، فقال جبريل:"يا محمد، تعوذ بهولاء الكلمات"، (فزجروا) (١) عنه، فقال:"اعوذ ⦗١٧٢⦘ بكلمات الله التامات التي لا يجاوزهن بر ولا فاجر من شر ما ينزل من السماء وما يعرج فيها، ومن شر ما بث في الارض وما يخرج منها، ومن شر فتن الليل والنهار، ومن شر كل طارق إلا طارقا يطرق بخير يا رحمن] (٢) " (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ز]: (فزحزحوا).
(٢) سقط ما بين المعكوفين من: [أ، ح، ط، هـ].
(٣) مرسل؛ مكحول تابعي.
حضرت مکحول روایت کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے تو جنات آپ کو اس حالت میں ملے کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف شعلہ زنی کر رہے تھے۔ اس پر حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے عرض کیا۔ ”اے محمد! آپ ان کلمات کے ذریعہ پناہ حاصل کرلیں۔ ‘ ‘ چناچہ جنات کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دور کردیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (یہ کلمات) کہے تھے۔”میں اللہ تعالیٰ کے ان کلمات تامہ کے ذریعہ، جن سے کوئی نیک اور بد تجاوز نہیں کرسکتا، آسمان سے اترنے والی اور آسمان پر چڑھنے والی ہر چیز کے شر سے پناہ پکڑتا ہوں اور ہر اس چیز سے پناہ پکڑتا ہوں جو زمین میں پھیلی ہوئی ہے اور جو زمین سے نکلتی ہے۔ اور رات، دن کے فتنوں کے شر سے اور رات کو آنے والی ہر چیز کے شر سے پناہ پکڑتا ہوں سوائے رات کو آنے والی اس چیز کے جو خیر لے کر آئے۔ اے رحمن۔“ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الطب/حدیث: 25147]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25147، ترقيم محمد عوامة 24066)
ترقیم عوامۃ: 24067 ترقیم الشثری: -- 25148
٢٥١٤٨ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابو اسامة عن (الجريري) (١) عن ابي العلاء عن عثمان بن ابي العاص انه اتى النبي ﷺ فقال: يا رسول الله إن الشيطان قد (حال) (٢) بين صلاتي و (بين) (٣) (قراءتي) (٤) ، قال:" (ذلك) (٥) شيطان (يقال) (٦) له خنزب، فإذا احسسته فاتفل عن يسارك ثلاثا وتعوذ بالله من شره" (٧) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط]: (الجرير)، وفي [أ، ح]: (الحريري).
(٢) في [ح]: (حار).
(٣) سقط من: [أ، ز].
(٤) سقط من: [أ].
(٥) في [ز]: (ذاك).
(٦) في [جـ]: (فقال).
(٧) صحيح؛ أخرجه مسلم (٢٢٠٣)، وأحمد (١٧٨٩٧).
حضرت عثمان بن ابوالعاص کے بارے میں روایت ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور انہوں نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! تحقیق شیطان میری نماز اور میری تلاوت کے درمیان حائل ہوجاتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”یہ وہ شیطان ہے۔ جس کو خنزب کہا جاتا ہے۔ پس جب اس کو محسوس کرو تو تم اپنی بائیں جانب تین مرتبہ تھوک دو اور اللہ تعالیٰ سے اس کے شر کی پناہ مانگو۔“ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الطب/حدیث: 25148]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25148، ترقيم محمد عوامة 24067)
ترقیم عوامۃ: 24068 ترقیم الشثری: -- 25149
٢٥١٤٩ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا عفان قال: حدثنا جعفر بن سليمان قال: حدثنا ابو التياح قال: سال رجل (عبد الله) (١) بن (خنبش) (٢) : كيف (صنع) (٣) رسول الله ﷺ (٤) (ليلة كادته الشياطين؟ قال: جاءت الشياطين إلى رسول الله ⦗١٧٣⦘ ﷺ) (٥) من (الاودية) (٦) ، وتحدرت عليه من (الجبال) (٧) ، (وفيهم) (٨) شيطان معه شعلة من نار يريد (ان) (٩) يحرق بها رسول الله ﷺ، (فارعب) (١٠) منه، قال جعفر: احسبه جعل يتاخر، وجاء جبريل فقال:"يا محمد قل، (قال: و) (١١) ما اقول؟ قال: قل اعوذ بكلمات الله التامات التي لا يجاوزهن بر ولا فاجر من شر ما خلق وذرا وبرا، ومن شر ما (ينزل) (١٢) من السماء ومن شر ما يعرج فيها، ومن شر ما ذرا في الارض ومن شر ما يخرج منها، ومن (شر) (١٣) فتن الليل والنهار، ومن شر (كل) (١٤) طارق إلا (طارقا) (١٥) يطرق بخير يا رحمن"، قال: فطفئت نار (الشياطين) (١٦) وهزمهم الله (١٧) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) هكذا رواية عفان كما في مسند أحمد وغيره، وفي [هـ]: (عبد الرحمن).
(٢) في [أ، ح، ط]: (خنيس)، وفي [ع]: (حنيش).
(٣) في [ط]: (ضع).
(٤) في [جـ، ز]: (حين).
(٥) سقط من: [أ، ح، ط].
(٦) في [ح]: (الادوية).
(٧) في [جـ، ز]: (الحبال).
(٨) في [ز]: (وفيه).
(٩) سقط من: [ز].
(١٠) في [جـ]: (فأرغب)، وفي [ط]: (قارعب).
(١١) سقط من: [جـ].
(١٢) في [أ، ح]: (يتنزل).
(١٣) سقط من: [ز].
(١٤) سقط من: [ط].
(١٥) في [أ، جـ، ح، ز، ط]: (طارق).
(١٦) في [أ، هـ]: (الشيطان).
(١٧) حسن؛ جعفر بن سليمان صدوق، أخرجه أحمد (١٥٤٦١)، وأبو يعلى (٦٨٤٤)، وابن السني (٦٣٧)، وأبو نعيم في الدلائل (١٣٧)، والبيهقي في الدلائل ٧/ ٩٥، وابن عبد البر في التمهيد ٢٤/ ١١٤.
حضرت ابو التیاح بیان کرتے ہیں کہ کسی آدمی نے حضرت عبد اللہ بن خنبش سے پوچھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ جب شیاطین نے مکر کرنا چاہا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کیا کیا تھا؟ عبد اللہ نے جواب دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس مختلف وادیوں سے اور مختلف پہاڑوں سے اتر کر شیاطین آئے اور ان میں ایک ایسا شیطان بھی تھا جس کے پاس آگ کا ایک بڑا انگارہ تھا۔ اور اس کے ذریعہ سے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جلانا چاہتا تھا۔ لیکن پھر وہ شیطان آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مرعوب ہوگیا۔ جعفر راوی کہتے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ وہ پیچھے ہٹنے لگا۔ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) تشریف لائے اور انہوں نے فرمایا: ”اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)! کہو“ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا۔ ”میں کیا کہوں؟“ جبرائیل نے کہا۔ ”آپ یہ کہو: میں اللہ تعالیٰ کے ان کلماتِ تامہ کے ذریعہ پناہ پکڑتا ہوں کہ جب کلمات سے مخلوق میں سے کوئی فاجر یا نیک تجاوز نہیں کرسکتا۔ اور کوئی پیدا ہونے والا اور نکلنے والا تجاوز نہیں کرسکتا۔ اور میں ہر اس چیز کے شر سے پناہ حاصل کرتا ہوں جو آسمان سے اترے اور آسمان میں چڑھے اور ہر اس چیز کے شر سے جو زمین میں داخل ہو اور زمین سے باہر آئے، اور رات، دن کے فتنوں کے شر سے اور رات کو آنے والی کسی بھی چیز کے شر سے مگر رات کو آنے والی وہ چیز جو خیر کے ساتھ آئے، اے رحمن“۔ راوی کہتے ہیں۔ پس شیطانوں کی آگ بجھ گئی اور اللہ تعالیٰ نے ان کو ناکام کردیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الطب/حدیث: 25149]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25149، ترقيم محمد عوامة 24068)
ترقیم عوامۃ: 24069 ترقیم الشثری: -- 25150
٢٥١٥٠ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابو اسامة (قال: حدثنا) (١) الاعمش عن مجاهد قال: كنت القى من (رؤية) (٢) (الغول) (٣) والشياطين بلاء وارى خيالا، فسالت ابن عباس (٤) ، فقال: (اجرا) (٥) على ما رايت ولا (تفرق) (٦) منه، فإنه (يفرق) (٧) منك كما (تفرق) (٨) منه، ولا تكن اجبن السوادين، قال مجاهد: فرايته (فاسندت) (٩) عليه (بعصا) (١٠) حتى سمعت وقعته (١١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (عن).
(٢) في [ح]: (دوية)، وسقط من: [ز].
(٣) في [ز]: (الغلول).
(٤) في [ز]: زيادة (عن).
(٥) في [أ، ح، ط]: (أخبره)، وفي [جـ]: (أخبرني)، وفي [ز]: (احتره)، وفي [هـ]: (أجزه).
(٦) في [جـ، ز]: (تفرقن)، وكذلك في: [أ، ح].
(٧) في [ح]: (تفرقا).
(٨) في [ح]: (تفرقا).
(٩) في [ز]: (فاستدت)، وفي [ط]: (فاسلذت).
(١٠) في [جـ]: (بعضًا)، وكذلك في: [ز]، وفي [أ، ط، ح]: (بعصى).
(١١) صحيح.
حضرت مجاہد سے روایت ہے کہتے ہیں کہ مجھے شیاطین وغیرہ کی طرف برے برے خیالات و تصورات آتے تھے۔ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے (اس کے بارے میں) پوچھا۔ تو انہوں نے فرمایا: تم نے جو کچھ دیکھا ہے وہ مجھے بھی بتاؤ۔ اس سے ڈرو نہیں۔ کیونکہ جس طرح تم اس سے ڈرتے ہو وہ بھی تم سے ڈرتے ہیں۔ تم اس سے بھی زیادہ ڈرپوک نہ بنو۔ حضرت مجاہد کہتے ہیں۔ میں نے پھر دوبارہ یہ دیکھا تو میں نے اس کو لاٹھی ماری یہاں تک کہ میں نے ضرب کی آواز بھی سُنی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الطب/حدیث: 25150]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25150، ترقيم محمد عوامة 24069)
ترقیم عوامۃ: 24070 ترقیم الشثری: -- 25151
٢٥١٥١ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا يزيد قال: (اخبرنا) (١) (ابن) (٢) عون عن إبراهيم النخعي قال: (كانوا) (٣) إذا راى احدهم في منامه (ما يكره) (٤) قال: ⦗١٧٥⦘ (اعوذ) (٥) بما عاذت به ملائكته ورسله من (شر) (٦) ما رايت في منامي (ان) (٧) يصيبني منه (شيء) (٨) (اكرهه) (٩) في الدنيا والآخرة.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ز]: (أنبأنا).
(٢) سقط من: [أ، هـ، ط].
(٣) في [ط، هـ]: (كان).
(٤) سقط من: [ز].
(٥) في [ط]: (عوذ).
(٦) في [ط]: (خير).
(٧) في [ح]: (أو).
(٨) في [ز]: (شيا).
(٩) في [ح]: (أكره).
حضرت ابراہیم نخعی سے روایت ہے کہتے ہیں کہ پہلے لوگوں میں سے جب کوئی خواب کی حالت میں ناپسندیدہ چیز دیکھتا تو یہ کہتا تھا۔: میں اس ذریعہ سے پناہ پکڑتا ہوں جس ذریعہ سے اللہ تعالیٰ کے فرشتے اور رسول پناہ پکڑتے ہیں ہر اس چیز کے شر سے جو میں نے اپنی خواب میں دیکھی کہ مجھے اس کی وجہ سے کوئی ایسی بات دنیا یا آخرت میں پہنچے جس کو میں پسند نہیں کرتا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الطب/حدیث: 25151]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25151، ترقيم محمد عوامة 24070)
ترقیم عوامۃ: 24071 ترقیم الشثری: -- 25152
٢٥١٥٢ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا عبدة عن محمد بن إسحاق عن عمرو بن شعيب عن ابيه عن جده قال: قال رسول الله ﷺ:"إذا فزع احدكم في منامه فليقل: بسم الله اعوذ بكلمات الله التامة من غضبه و (سوء) (١) عقابه وشر عباده و (من) (٢) (شر) (٣) الشياطين و (ان) (٤) يحضرون" (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، هـ، ط]: (شر).
(٢) في [هـ]: سقط (من).
(٣) في [ز]: سقطت.
(٤) في [جـ، ز]: (وما).
(٥) منقطع حكمًا؛ ابن إسحاق مدلس، أخرجه أحمد (٦٦٩٦)، وأبو داود (٣٨٩٣)، والترمذي (٣٥٢٨)، والنسائي في عمل اليوم والليلة (٧٦٦)، وابن السني (٧٥٣)، والبخاري في خلق أفعال العباد (ص ٨٩)، والطبراني في الدعاء (١٠٨٦)، والبيهقي في الآداب (٩٩٣).
حضرت عمرو بن شعیب، اپنے والد، اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم میں سے جب کوئی اپنی نیند میں ڈر جائے تو اس کو یہ کہنا چاہیے۔: ”میں اللہ تعالیٰ کے کلمات تامہ کے ذریعہ سے اس کے غضب اور اس کے سخت انتقام اور اس کے شریر بندوں اور شیطانوں کی شرارت اور جو کچھ یہ شیطان میرے پاس لائیں (ان سب) سے پناہ میں آتا ہوں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الطب/حدیث: 25152]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25152، ترقيم محمد عوامة 24071)
ترقیم عوامۃ: 24072 ترقیم الشثری: -- 25153
٢٥١٥٣ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا معاوية بن هشام قال: حدثنا سفيان عن ابن ابي ليلى عن اخيه عن عبد الرحمن بن ابي ليلى قال: إذا (احس) (١) احدكم بالشيطان فلينظر إلى الارض و (ليتعوذ) (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ح، ز، ط]: (حس).
(٢) في [أ، ط، هـ]: (ليتعوذه).
حضرت عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ جب تم میں سے کوئی شیطان (کے اثرات) کو محسوس کرے تو اس کو چاہیئے کہ وہ زمین کو دیکھے اور اعوذ باللہ پڑھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الطب/حدیث: 25153]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25153، ترقيم محمد عوامة 24072)