مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
7. في الرخصة في النبيذ، ومن شربه
نبیذ میں رخصت اور اس کو پینے والوں کا ذکر
ترقیم عوامۃ: 24368 ترقیم الشثری: -- 25458
٢٥٤٥٨ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ملازم (بن) (١) عمرو عن عجيبة بن عبد الحميد عن عمه قيس بن طلق عن ابيه طلق بن علي قال: جلسنا عند النبي ﷺ فجاء وفد عبد القيس فقال:"ما لكم قد اصفرت الوانكم، وعظمت بطونكم، وظهرت عروقكم؟" قال: قالوا: اتاك سيدنا فسالك عن شراب كان لنا موافقا فنهيته عنه، (وكنا) (٢) بارض (محمة) (٣) ، قال:"فاشربوا ما طاب لكم" (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) (عن) في: [ز].
(٢) (وكان) في: [جـ].
(٣) أي: ذات حمى، وفي [أ، ب، هـ]: (مخمة).
(٤) حسن؛ عجيبة بن عبد المجيد وقيس بن طلق صدوقان، أخرجه الطبراني (٨٢٥٦)، وابن حزم في المحلى (٧/ ٤٨٣)، وقد فسر ابن أبي شيبة قوله: "ما طاب لكم": يعني مما حل، كما في إتحاف الخيرة (٥١٢٢) نقلًا عن مسنده. وانظر: ما تقدم برقم: [٢٥٣٥٤].
حضرت طلق بن علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں بیٹھے ہوئے تھے کہ اس دوران عبد القیس کا وفد حاضر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (ان سے) پوچھا۔ ”تمہیں کیا ہوا ہے کہ تمہارے رنگ زرد پڑے ہوئے ہیں اور تمہارے پیٹ بڑھے ہوئے ہیں اور تمہاری رگں ھ نکلی ہوئی ہیں؟“ راوی کہتے ہیں کہ انہوں نے جواب دیا۔ ہمارا سردار آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تھا اور اس نے آپ سے اس مشروب کے بارے میں پوچھا تھا جو ہمارے موافق ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو اس سے منع کردیا تھا۔ اور ہم ایسی زمین میں رہتے ہیں جہاں بخار کی وبا بہت عام ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جو مشروب تمہیں موافق آئے تم وہی پی لو۔“ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأشربة/حدیث: 25458]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25458، ترقيم محمد عوامة 24368)
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 25458 in Urdu