🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

7. في الرخصة في النبيذ، ومن شربه
نبیذ میں رخصت اور اس کو پینے والوں کا ذکر
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 24336 ترقیم الشثری: -- 25425
٢٥٤٢٥ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابو معاوية عن الاعمش عن ابي صالح عن جابر قال: كنا مع النبي ﷺ فاستسقى فقال رجل: الا نسقيك نبيذا؟ قال:"بلى"، فخرج الرجل يشتد، فجاء بقدح فيه نبيذ، فقال: رسول الله ﷺ:"الا خمرته، ولو ان تعرض عليه عودا" (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) شاذ؛ فأكثر الرواة لا يذكرون النبيذ، والحديث أخرجه مسلم (٢٠١١)، وأحمد (١٤٣٦٧)، وروى البخاري (٥٦٠٥)، ومسلم (٢٠١١)، هذا الحديث بلفظ: (بقدح من لبن من النقيع).
حضرت جابر سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ تھے کہ اس دوران آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پانی مانگا تو ایک آدمی نے کہا۔ کیا ہم آپ کو نبیذ نہ پلائیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیوں نہیں راوی کہتے ہیں۔ پس وہ آدمی دوڑتا ہوا نکلا پھر وہ ایک پیالہ لے کر حاضر ہوا جس میں نبیذ تھا۔ تو جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اس کو ڈھانپا کیوں نہیں اگرچہ اس پر چوڑائی میں ایک لکڑی ہی رکھ دی جاتی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأشربة/حدیث: 25425]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25425، ترقيم محمد عوامة 24336)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 24337 ترقیم الشثری: -- 25426
٢٥٤٢٦ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن يزيد بن ابي زياد عن عكرمة عن ابن عباس قال: اتى النبي ﷺ السقاية فقال:"اسقوني من هذا"، فقال: العباس الا نسقيك مما نصنع في البيوت؟ قال:"لا، ولكن اسقوني مما يشرب الناس"، قال: فاتي بقدح من نبيذ فذاقه فقطب ثم قال:"هلموا (ماء) (١) "، فصبه عليه، ثم قال:"زد فيه مرتين او (ثلاثا) (٢)(ثم) (٣) قال:"إذا اصابكم هذا فاصنعوا به هكذا" (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ز]: (بماء).
(٢) في [ح]: (ثلاث).
(٣) سقط (ثم) من: [أ، ح، ط، هـ].
(٤) ضعيف؛ لضعف يزيد بن أبي زياد، وذكره البيهقي (٨/ ٣٠٤)، وابن عبد ريه في العقد الفريد (٦/ ٣٨٢).

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سِقَایہ پر (حاجیوں کو پانی پلانے کی جگہ پر) تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے اس میں سے پانی پلاؤ حضرت عباس نے کہا۔ ہم گھروں میں جو مشروب بناتے ہیں۔ آپ کو اس میں سے نہ پلائیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ بلکہ مجھے اسی میں سے پلاؤ جس سے عام لوگ پیتے ہیں۔ راوی کہتے ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک پیالہ نبیذ کا لایا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو چکھا! پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس میں آمیزش کی پھر فرمایا: پانی لاؤ۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ پانی اس نبیذ پر ڈال دیا پھر فرمایا: ’ اس میں اضافہ کرو دو یاتین مرتبہ یہ فرمایا: پھر اس کے بعد ارشاد فرمایا: جب تمہیں یہ چیز ملے تو تم اس کے ساتھ ایسا ہی کرو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأشربة/حدیث: 25426]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25426، ترقيم محمد عوامة 24337)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 24338 ترقیم الشثری: -- 25427
٢٥٤٢٧ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع عن إسماعيل عن قرة العجلي عن عبد الملك بن القعقاع عن ابن عمر قال: كنا عند النبي ﷺ فاتي بقدح فيه شراب ⦗٢٦٠⦘ فقربه (١) ، ثم رده، فقال له بعض جلسائه: (حرام) (٢) هو يا رسول الله؟ قال: فقال:"ردوه"، فردوه ثم دعا بماء (فصبه) (٣) عليه ثم شرب، فقال:"انظروا هذه الاشربة إذا اغتلمت عليكم فاقطعوا متونها بالماء" (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: زيادة (إلى فيه).
(٢) في [هـ]: (أحرام).
(٣) في [جـ]: (فصب).
(٤) مجهول؛ لجهالة عبد الملك بن القعقاع، أخرجه النسائي في الكبرى (٥٢٠٤)، والطحاوي (٤/ ٢١٩)، والدارقطني (٤/ ٢٦٢)، والبيهقي (٨/ ٣٠٥)، وابن أبي حاتم في المجروحين (٢/ ١٣٢)، والمزي (١٨/ ٤٢٦)، وابن الجوزي في التحقيق (١٩٩٨).

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ ہم جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک پیالہ لایا گیا جس میں کوئی مشروب تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس پیالہ کو اپنے قریب کیا اور پھر وہ پیالہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے واپس کردیا۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بعض ہم نشینوں نے پوچھا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! یہ حرام ہے؟ راوی کہتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ پیالہ واپس لاؤ۔ چناچہ صحابہ نے وہ پیالہ واپس کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پانی منگوایا اور وہ پانی اس پیالہ میں ڈال دیا پھر اس کو نوش فرمایا اور ارشاد فرمایا: ان مشروبات کو دیکھو۔ جب یہ حد کو تمہارے اوپر تجاوز کر جائیں (یعنی نشہ آور ہوجائیں) تو تم ان کی شدت کو پانی سے توڑ ڈالو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأشربة/حدیث: 25427]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25427، ترقيم محمد عوامة 24338)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 24339 ترقیم الشثری: -- 25428
٢٥٤٢٨ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا يحيى بن يمان عن سفيان عن منصور عن (خالد) (١) بن سعد عن ابي مسعود ان النبي ﷺ عطش وهو يطوف بالبيت حول الكعبة، فاستسقى فاتي بنبيذ من السقاية، فشمه فقطب فقال:"علي بذنوب (من) (٢) زمزم"، فصب عليه وشرب، فقال رجل: حرام هو يا رسول الله؟ قال:"لا" (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ز]: (خلد).
(٢) سقطت من: [ط، هـ].
(٣) معلول، أخطأ فيه يحيى، وصوابه الثوري عن الكلبي عن أبي صالح، وأخرجه النسائي (٨/ ٣٢٥)، والطحاوي (٤/ ٢١٩)، والطبراني (١٧/ [٦٧٥])، والدارقطني (٤/ ٢٦٣)، والبيهقي (٨/ ٣٠٤)، وابن عدي (٣/ ٢٨)، وابن الجوزي في العلل المتناهية (١١٢٤).

حضرت ابو مسعود سے روایت ہے کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کعبہ کے گرد بیت اللہ کا طواف فرما رہے تھے کہ اس دوران آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پیاس لگی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پانی طلب کیا۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے سقایہ سے نبیذ لائی گئی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو سونگھا اور پھر اس میں آمیزش کی اور فرمایا: میرے پاس زم زم کا ایک ڈول لاؤ۔ چناچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس میں وہ زم زم ملایا اور اس کو نوش فرمایا۔ اس پر ایک آدمی نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! یہ حرام ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: نہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأشربة/حدیث: 25428]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25428، ترقيم محمد عوامة 24339)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 24340 ترقیم الشثری: -- 25429
٢٥٤٢٩ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا محمد بن فضيل عن اشعث عن ابي (الزبير) (١) عن جابر قال: كان النبي ﷺ (ينبذ) (٢) له في سقاء، فإذا لم ⦗٢٦١⦘ يكن سقاء ينبذ له (في تور) (٣) (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ز]: (الزبر).
(٢) في [أ، ح، ط]: (ينبذه).
(٣) في [أ، ح، ط]: (في الثور).
(٤) ضعيف؛ لضف أشعث، والخبر أخرجه مسلم (١٩٩٩)، وأحمد (١٤٢٦٧).

حضرت جابر سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے ایک مشکیزہ میں نبیذ بنائی جاتی تھی۔ اور جب مشکیزہ نہیں ہوتا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے پانی پینے والے برتن میں نبیذ بنائی جاتی تھی۔ اشعث کہتے ہیں۔ تَوْرْ، درخت کی چھال سے تیار ہوتا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأشربة/حدیث: 25429]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25429، ترقيم محمد عوامة 24340)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 25430
٢٥٤٣٠ - (قال) (١) اشعث: والتور من لحاء الشجر.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ز].
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25430، ترقيم محمد عوامة ---)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 24341 ترقیم الشثری: -- 25431
٢٥٤٣١ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا غندر عن شعبة عن عمرو (بن) (١) مرة عن زاذان قال: سالت ابن عمر عن النبيذ فقلت له: إن لنا (لغة) (٢) غير لغتكم ففسره لنا بلغتنا، فقال ابن عمر: نهى رسول الله ﷺ عن الحنتمة وهي الجرة، ونهى عن الدباء وهي القرعة، وعن المزفت وهي القير، وعن النقير وهي النخلة، وامر ان ينبذ في الاسقية (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [جـ].
(٢) في [أ، ح]: (لغتا).
(٣) صحيح؛ أخرجه مسلم (١٩٩٧)، وأحمد (٥١٩١)، والترمذي (١٨٦٨).

حضرت زاذان سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نبیذ کے بارے میں سوال کیا؟ اور میں نے ان سے کہا۔ ہماری لغت، تمہاری لغت سے جُدا ہے۔ پس آپ اس کو ہماری زبان میں بیان فرمائیں۔ اس پر حضرت عمر نے فرمایا: جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حنتمہ سے منع فرمایا ہے اور یہ ایک طرح کا گھڑا ہے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دباء سے منع فرمایا ہے اور وہ کدو کا ایک (مصنوعی) برتن ہے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزفت سے منع فرمایا ہے اور یہ تارکول مارا ہوا برتن ہے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نقیر سے منع فرمایا ہے۔ اور یہ درخت کی موٹی شاخ سے تیار کردہ برتن ہے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا کہ مشکیزوں میں نبیذ بنائی جائے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأشربة/حدیث: 25431]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25431، ترقيم محمد عوامة 24341)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 24342 ترقیم الشثری: -- 25432
٢٥٤٣٢ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا يزيد بن هارون عن سليمان التيمي عن (امينة) (١) انها سمعت عائشة تقول: اتعجز إحداكن ان تتخذ من مسك اضحيتها سقاء في كل عام، فإن رسول الله ﷺ نهى او منع عن نبيذ الجر والمزفت؛ واشياء نسيها التيمي (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ، س]: (أميمة)، وانظر: الإكمال لرجال أحمد ص ٦١٧، وفي المسند (أمينة) وعند ابن ماجه (رميثة).
(٢) مجهول؛ لجهالة أمينة، وأخرجه أحمد (٢٤٦٧٦)، وابن ماجه (٣٤٠٧)، وعبد الرزاق (١٦٩٦٤).

حضرت امینہ سے روایت ہے۔ کہ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو کہتے سُنا کہ کیا تم میں سے ایک اس بات سے عاجز ہے کہ وہ ہر سال اپنی قربانی کی کھال سے ایک مشکیزہ بنالے۔ کیونکہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گھڑے اور مزفت (برتن) کی نبیذ سے منع فرمایا ہے۔ کچھ اور چیزوں کا بھی ذکر کیا جن کو (اُمینہ کے شاگرد) تیمی بھول گئے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأشربة/حدیث: 25432]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25432، ترقيم محمد عوامة 24342)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 24343 ترقیم الشثری: -- 25433
٢٥٤٣٣ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع عن حسن بن صالح عن سماك عن ⦗٢٦٢⦘ رجل انه سال الحسن بن علي عن النبيذ فقال: اشرب، فإذا (رهبت) (١) ان تسكر فدعه (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ح]: (وهبت)، وكذلك في: [ط].
(٢) مجهول؛ لإبهام الراوي عن الحسن.

حضرت سماک، ایک آدمی کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ اس نے حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ سے نبیذ کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: پیو، لیکن جب تمہیں اس بات کا اندیشہ ہو کہ تم نشہ میں مبتلا ہو جاؤ گے تو پھر اس کو چھوڑ دو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأشربة/حدیث: 25433]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25433، ترقيم محمد عوامة 24343)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 24344 ترقیم الشثری: -- 25434
٢٥٤٣٤ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا معاذ عن (ابن) (١) عون قال: سالت محمدا عن نبيذ السقاء الذي يوكى ويعلق، فقال: لا اعلم به باسا.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط]: (أبي).
حضرت ابن عون سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے محمد سے اس مشکیزہ کی نبیذ کے بارے میں سوال کیا جس کو باندھ دیا گیا ہو اور لٹکا دیا گیا ہو؟ تو محمد نے فرمایا: مجھے اس کے بارے میں کوئی حرج معلوم نہیں ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأشربة/حدیث: 25434]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25434، ترقيم محمد عوامة 24344)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں