مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
16. الطلاء من قال: إذا ذهب (ثلثاه) (فاشربه)
طلاء کے بارے میں جن لوگوں نے کہا ہے کہ جب اس کے دو تہائی ختم ہو جائیں تو پھر تم اس کو پی لو
ترقیم عوامۃ: 24484 ترقیم الشثری: -- 25577
٢٥٥٧٧ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا محمد بن بشر قال: حدثنا عبد الله بن الوليد ⦗٢٩٨⦘ المزني قال: حدثني عبد الملك بن عمير عن ابي (ابن) (١) (الهياج) (٢) ان الحجاج دعاه فقال: ارني كتاب عمر إلى عمار في شان (الطلاء) (٣) فخرج وهو حزين، فلقيه الشعبي فساله (واخبره) (٤) (عما قال له الحجاج) (٥) ، فقال له الشعبي: (هلم) (٦) صحيفة ودواة، فوالله ما سمعت من ابيك إلا مرة واحدة، فاملى عليه: بسم الله الرحمن الرحيم من (عبد الله) (٧) عمر امير المؤمنين إلى عمار بن ياسر، اما بعد: فإني اتيت بشراب من قبل (اهل) (٨) الشام فسالت عنه كيف يصنع؟ فاخبروني انهم يطبخونه حتى يذهب ثلثاه ويبقى ثلثة، فإذا فعل ذلك به ذهب رسه و (ريح) (٩) جنونه وذهب حرامه وبقي (حلاله) (١٠) -قال عبد الله: واراه قال: والطيب منه- فإذا اتاك كتابي هذا فمر من قبلك: فليتوسعوا به (في) (١١) اشربتهم، والسلام (١٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، جـ، ح، ز، س، ط، هـ] ومن رجال التقريب (جرير بن أبي الهياج مقبول) و (منصور بن أبي الهياج ثقة)، وفي العلل لأحمد ٣/ ٣٤١: أنه (عبد اللَّه بن أبي الهياج)، وهو مجهول.
(٢) في جميع النسخ سوى [هـ] (هياج).
(٣) في [ط]: (الطلاح).
(٤) في [جـ]: (فأخبره).
(٥) سقط من: [ز].
(٦) في [أ، ح، هـ]: (سلم).
(٧) في [أ، ح، ط، هـ]: (عند).
(٨) سقط من: [أ، ح، ز، ط].
(٩) في [أ]: (رمح).
(١٠) في [ط]: (حلال).
(١١) سقط من: [أ، جـ، ح، ز، ط].
(١٢) مجهول؛ لجهالة ابن أبي الهياج.
حضرت عبد الملک بن عمیر نے ابو الہیاج کے بارے میں بیان کیا کہ حجاج نے انہیں مدعو کیا اور کہا۔ طلاء کے بارے میں حضرت عمر کا حضرت عمار کو لکھا گیا خط تم مجھے دکھاؤ۔ پس حضرت ابو الہیاج (وہاں سے) اس حالت میں نکلے کہ وہ غمگین تھے کہ اس دوران ابو الہیاج کو حضرت شعبی ملے انہوں نے ابو الہیاج سے (غمگینی کی وجہ) دریافت کی۔ چناچہ انہوں نے شعبی کو وہ ساری بات بتادی جو حجاج نے ان سے کہی تھی۔ اس پر حضرت شعبی نے ابو الہیّاج سے کہا۔ قلم اور دوات اور کاغذ لاؤ۔ خدا کی قسم! میں نے یہ خط تمہارے باپ سے صرف ایک ہی مرتبہ سُنا ہے۔ چناچہ حضرت شعبی نے ابو الہیاج کو یہ املاء کروایا ’ بسم اللہ الرحمن الرحیم ‘ اللہ کے بندے امیر المؤمنین عمر کی طرف سے حضرت عمار بن یاسر کی جانب (خط)۔ اما بعد! میرے پاس ملک شام کی طرف سے ایک مشروب لایا گیا تو میں نے اسکے بارے میں دریافت کیا کہ یہ کیسے بنایا جاتا ہے؟ تو لوگوں نے مجھے بتایا کہ لوگ اس کو اتنا پکاتے ہیں کہ اس کے دو تہائی حصے ختم ہوجاتے ہیں اور اس کا ایک تہائی حصہ رہ جاتا ہے۔ پھر جب یہ عمل اس کے ساتھ کیا جاتا ہے تو اس کی خرابی اور فساد ختم ہوجاتی ہے اور اس کی بےہوشی کی ہوا چلی جاتی ہے اور اس کا حرام چلا جاتا ہے اور اس کا حلال باقی رہ جاتا ہے۔ حضرت عبد اللہ کہتے ہیں … میرے خیال میں آپ نے یہ بھی فرمایا تھا۔ ”اور اس کا بہتر حصہ رہ جاتا ہے۔“… پس جب تمہارے پاس میرا یہ خط پہنچے تو تم اپنے علاقہ کے لوگوں کو حکم دے دو کہ وہ اس مشروب کے ذریعہ اپنے مشروبات میں وسعت کرلیں۔ والسّلام۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأشربة/حدیث: 25577]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25577، ترقيم محمد عوامة 24484)
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 25577 in Urdu