علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
9. ما قالوا في أكل الضب
گوہ کھانے کے بارے میں جو اقوال ہیں
ترقیم عوامۃ: 24834 ترقیم الشثری: -- 25937
٢٥٩٣٧ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا علي بن مسهر عن الشيباني عن يزيد بن الاسم قال: دعانا عروس بالمدينة، فقرب إلينا ثلاثة عشر ضبا، فآكل وتارك، فلقيت ابن عباس من الغد فاخبرته، فاكثر القوم حوله حتى قال بعضهم: قال رسول الله ﷺ (١) :" (لا آكله) (٢) ولا انهى عنه، ولا احله ولا احرمه"، فقال ابن عباس: (فبئسما) (٣) قلتم، إنما بعث رسول الله ﷺ محلا ومحرما (٤) بينما هو عند ميمونة وعنده الفضل بن عباس وخالد بن الوليد وامراة اخرى، إذ قرب إليهم خوان عليه لحم، فلما اراد رسول الله ﷺ ان ياكل، قالت له ميمونة: إنه لحم ضب، فكف يده وقال:"إن هذا اللحم لم آكله قط" وقال لهم:"كلوا" فاكل منه الفضل ابن عباس وخالد بن الوليدل والمراة، وقالت ميمونة: لا آكل إلا من شيء ياكل منه رسول الله ﷺ (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ز].
(٢) في [ط]: (للالكه).
(٣) في [ط]: (فسئل).
(٤) في [هـ]: زيادة (إن رسول اللَّه ﷺ).
(٥) صحيح؛ أخرجه مسلم (١٩٤٨)، وأحمد (٢٦٨٤)، وأصله في البخاري (٢٥٧٥).
حضرت یزید بن اصم سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہمیں مدینہ میں ایک ولیمہ میں دعوت تھی۔ ہمیں تیرہ عد د گوہ پیش کی گئیں۔ پس کچھ لوگوں نے کھا لیں اور کچھ نے نہ کھائیں۔ پھر میں اگلے دن حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ملا اور میں نے انہیں یہ بات بتائی۔ بہت سے لوگ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے گرد تھے ان میں سے کچھ نے کہا۔ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں اس کو کھاتا ہوں اور نہ اس سے منع کرتا ہوں، میں اس کو حلال کرتا ہوں اور نہ ہی اس کو حرام قرار دیتا ہوں۔“ اس پر حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: تم نے بُری گفتگو کی ہے۔ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تو بعثت ہی حلال اور حرام کرنے والے کے طور پر ہوئی تھی۔ ایک مرتبہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت میمونہ کے پاس تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں حضرت فضل بن عباس، حضرت خالد بن ولید اور ایک دوسری عورت بھی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف دسترخوان بڑھایا گیا جس پر گوشت تھا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (اس کو) کھانے کا ارادہ کیا تو حضرت میمونہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا۔ یہ گوہ کا گوشت ہے۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا ہاتھ روک لیا اور فرمایا۔ ”میں یہ گوشت کبھی نہیں کھاؤں گا“۔ اور لوگوں سے کہا۔ ”تم کھاؤ۔“ چناچہ حضرت فضل ابن عباس رضی اللہ عنہما، حضرت خالد بن ولید اور اس عورت نے (اس کو) کھایا۔ اور حضرت میمونہ نے فرمایا: میں تو اس چیز کو کھاؤں گی جس کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تناول فرمائیں گے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأطعمة/حدیث: 25937]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25937، ترقيم محمد عوامة 24834)
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 25937 in Urdu