مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
244. ما قالوا: في كراهية العرافة
نگران بننے کی کراہت کا بیان
ترقیم عوامۃ: 27252 ترقیم الشثری: -- 28422
٢٨٤٢٢ - حدثنا ابن نمير عن عثمان بن حكيم قال: اخبرني عبد الله بن عثمان رجل (من) (١) بني سلول انه دعاه قومه ليعرفوه، واختاروه لذلك، فابى وامتنع، فذهب إلى عبد الله بن عمرو فشاوره واستامره فقال: لا تعرفن عليهم، (فجاؤوه) (٢) (بالغدوة) (٣) فلم يزالوا حتى الزموها إياه، فذهب إلى عبد الله بن عمرو فاخبره انه قد اكره فقال: اولها شفعة واوسطها خيانة وآخرها عذاب النار (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [هـ].
(٢) في [أ، هـ]: (فجاءه).
(٣) في [أ، هـ]: (بالغدوى).
(٤) مجهول؛ لجهالة عبد اللَّه بن عثمان.
حضرت عثمان بن حکیم فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عثمان جو قبیلہ بنو سلول کے آدمی ہیں وہ فرماتے ہیں کہ میری قوم نے مجھے بلایا تاکہ وہ مجھے نگران مقرر کریں اور اس عہدے کے لیے منتخب کریں۔ آپ نے انکار کردیا اور اس کو چھوڑ دیا۔ آپ حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے پا س گئے آپ نے ان سے مشورہ کیا اور ان کی رائے مانگی۔ انہوں نے فرمایا: تم ہرگز ان پر نگران مت بننا، وہ لوگ اگلی صبح پھر آپ کے پاس آگئے اور مسلسل اصرار کرتے رہے یہاں تک کہ انہوں نے آپ کو اس کے لیے مقرر کردیا۔ آپ حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور انہیں بتلایا کہ مجھے مجبور کردیا گیا۔ اس پر انہوں نے فرمایا: اس کی ابتدا تو سفارش ہے اور اس کا درمیان خیانت ہے اور ا س کی انتہاء جہنم کا عذاب ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الأدب/حدیث: 28422]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28422، ترقيم محمد عوامة 27252)
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 28422 in Urdu