🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
154. من قال: ليس لقاتل المؤمن توبة
جو یوں کہے: مومن کو قتل کرنے والے کے لیے کوئی توبہ نہیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 28315 ترقیم الشثری: -- 29556
٢٩٥٥٦ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا ابو الاشهب قال: سمعت مزاحم الضبي [يحدث] الحسن عن ابن عباس قال: بينما رجل قد سقى في حوض (له) (١) ينتظر (٢) (ذودا) (٣) (يرد) (٤) عليه، إذ جاءه رجل راكب ظمآن مطمئن، قال: ارد؟ قال: (لا) (٥) ، قال: فتنحى، فعقل راحلته، فلما رات الماء دنت من الحوض، ⦗٢٢٩⦘ ففجرت الحوض، قال: فقام (صاحب) (٦) الحوض فاخذ سيفا من عنقه، ثم (ضربه) (٧) به حتى قتله، قال: فخرج يستفتي، فسال (رجالا) (٨) من اصحاب محمد لست اسميهم، فكلهم (يؤيسه) (٩) حتى اتى رجلا منهم فقال: هل تستطيع (ان تصدره كما اوردته؟ قال: لا، قال: فهل تستطيع) (١٠) ان تبتغي (نفقا) (١١) في الارض او سلما في السماء؟ فقال: لا، قال: فقام الرجل، فذهب غير بعيد، فدعاه فرده فقال: هل لك من والدين؟ (فقال) (١٢) : نعم، امي حية، قال: احملها وبرها، فإن (دخل) (١٣) (الآخر) (١٤) النار فابعد الله من ابعده (١٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ط].
(٢) زيادة في: [ط]: (له).
(٣) في [أ، هـ]: (زودًا).
(٤) في [أ، ح، ط، هـ]: (ترد).
(٥) سقط من: [جـ].
(٦) سقط من: [ك].
(٧) في [أ، ح، ط، هـ]: (ضرب).
(٨) في [ط]: (رجل).
(٩) في [ط]: (بواسه).
(١٠) سقط من: [أ، ح، ط، هـ].
(١١) سقط من: [ط].
(١٢) في [أ، ب، ح]: (قال).
(١٣) في [أ، هـ]: (أدخل).
(١٤) في [أ، ح، ط، هـ]: (اللَّه).
(١٥) منقطع؛ مزاحم لا يروي عن ابن عباس.

حضرت ابو الاشھب فرماتے ہیں کہ حضرت مزاحم ضبی نے حضرت حسن بصری کو بیان کیا کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ارشاد فرمایا: ایک آدمی اپنے حوض میں سیراب کرنے کے لیے اپنے اونٹوں کا انتظار کررہا تھا جو اس حوض پر اترنے والے تھے کہ اس کے پاس ایک پیاسا سوار شخص اطمناین کے ساتھ آیا اور کہنے لگا: کیا میں پانی کے پاس آجاؤں؟ اس نے جواب دیا: نہیں۔ پس وہ شخص دور ہوگیا۔ اس نے اپنی سواری کو باندھا جب اس کی سواری نے پانی دیکھا تو وہ حوض کے قریب ہوگئی اور حوض میں گھس گئی پھر وہ حوض کا مالک اٹھا اس نے اپنی تلوار پکڑی اور اس آدمی کو مارڈالا۔ راوی کہتے ہیں: پس وہ شخص فتوی لینے کے لیے نکلا پس اس نے حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب میں سے چند لوگوں سے سوال کیا میں ان کے نام نہیں بتلاؤں گا وہ سب اس کو مایوس کر رہے تھے یہاں تک کہ وہ ایک صحابی کے پاس گیا، انہوں نے اس آدمی سے کہا: کیا تو طاقت رکھتا ہے کہ تو اس زمین کی ہر چیز فدیہ میں دے دے یا آسمان تک سیڑھی بنا لے؟ اس نے کہا نہیں۔ پھر و ہ آدمی تھوڑا دور ہی گیا تھا کہ اسے بلا کر اس سے پوچھا کہ کیا تیرے والدین ہیں؟ اس نے کہا میری والدہ زندہ ہیں۔ ان صحابی نے ان سے کہا کہ جا ان کی خدمت کر اور ان کی فرماں برداری کر۔ اگر دوسرا شخص جہنم میں داخل ہوا تو اللہ دور کرے اس شخص کو جو اسے دور کرے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الديات/حدیث: 29556]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29556، ترقيم محمد عوامة 28315)


Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 29556 in Urdu