مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
154. من قال: ليس لقاتل المؤمن توبة
جو یوں کہے: مومن کو قتل کرنے والے کے لیے کوئی توبہ نہیں
ترقیم عوامۃ: 28303 ترقیم الشثری: -- 29544
٢٩٥٤٤ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابن عيينة عن ابن ابي نجيح عن كردم ان رجلا سال ابن عباس وابا هريرة (وابن عمر) (١) عن رجل قتل مؤمنا، فهل له من توبة؛ فكلهم قال: يستطيع ان يحييه؟ يستطيع ان يبتغي نفقا في الارض؟ او سلما في السماء؟ يستطيع ان لا يموت؟ (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ط].
(٢) مجهول؛ لجهالة كردم.
حضرت کردم فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما، حضرت ابوہریرہ اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ایسے آدمی کے متعلق دریافت کیا جس نے کسی مومن کو قتل کردیا ہو کیا اس کی توبہ قبول ہوگی؟ ان سب حضرات نے فرمایا: کیا وہ طاقت رکھتا ہے کہ وہ اسے زندہ کردے؟ کیا وہ اس بات کی طاقت رکھتا ہے کہ وہ زمین میں کوئی سرنگ تلاش کرلے یا آسمان میں سیڑھی؟ کیا وہ طاقت رکھتا ہے کہ اس کو موت نہ آئے؟ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الديات/حدیث: 29544]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29544، ترقيم محمد عوامة 28303)
ترقیم عوامۃ: 28304 ترقیم الشثری: -- 29545
٢٩٥٤٥ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابن (فضيل) (١) عن ابي نصر ويحيى الجابر عن سالم بن ابي الجعد عن ابن عباس قال: اتاه رجل فقال: يا ابا عباس ارايت رجلا قتل (٢) متعمدا ما جزاؤه؟ قال: ﴿ (جزآؤه و) (٣) جهنم خالدا فيها وغضب الله عليه﴾ [النساء: ٩٣] الآية، قال: ارايت إن تاب وآمن وعمل صالحا ثم اهتدى؟ فقال: وانى له التوبة ثكلتك امك، إنه يجيء يوم القيامة آخذا براسه تشخب اوداجه حتى (يقف) (٤) به عند (العرش) (٥) فيقول: يا رب سل هذا ⦗٢٢٦⦘ (فيم) (٦) قتلني (٧) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط]: (فضل).
(٢) في [هـ]: زيادة (مؤمنًا).
(٣) سقط من: [ب].
(٤) في [ب]: (يفيق).
(٥) في [ب]: (الفرش).
(٦) في [أ، هـ]: (فيما).
(٧) صحيح؛ أبو نصر هو عبد اللَّه بن عبد الرحمن الضبي ثقة، ويحيى فيه ضعف، أخرجه الطبراني ٥/ ٢١٨، وورد مرفوعًا، أخرجه أحمد (١٩٤١)، والنسائي ٧/ ٨٥، وابن ماجه (٢٦١٢)، والحميدي (٤٨٨)، وعبد بن حميد (٢٦٢١)، وابن المبارك في الزهد (١٣٥٩)، والنحاس في الناسخ ص ٣٤٦، والطبراني ١٢/ (١٢٥٩٧)، والضياء في المختارة ١٠/ ٤٧.
حضرت سالم بن ابو الجعد فرماتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور کہنے لگا: اے ابو عباس! آپ کی کیا رائے ہے اس شخص کے بارے میں جس نے جان بوجھ کر قتل کردیا ہو اس کی سزا کیا ہے؟ آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ترجمہ:۔ اس کا بدلہ جہنم ہے ہمیشہ رہے گا اس میں اور اس پر اللہ کا غصہ ہے اس آدمی نے پوچھا؟ آپ کی کیا رائے ہے اگر وہ توبہ کرلے اور ایمان لائے اور نیک عمل کرے پھر اس کو ہدایت مل جائے؟ آپ نے فرمایا: اس کی توبہ کہاں قبول ہوسکتی ہے؟ تیری ماں تجھے گم پائے؟ بیشک مقتول شخص قیامت کے دن آئے گا اس حال میں کہ اس نے اپنا سر پکڑا ہوا ہوگا اور اس کی رگوں سے خون نکل رہا ہوگا یہاں تک کہ وہ عرش کے پاس ٹھہر جائے گا اور کہے گا: اے پروردگار! اس سے پوچھیے کیوں اس نے مجھے قتل کیا؟ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الديات/حدیث: 29545]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29545، ترقيم محمد عوامة 28304)
ترقیم عوامۃ: 28305 ترقیم الشثری: -- 29546
٢٩٥٤٦ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن مطرف عن ابي السفر عن (ناجية) (١) عن ابن عباس قال: هما المبهمتان: الشرك والقتل (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (ناحية).
(٢) حسن؛ ناجية صدوق.
حضرت ناجیہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ارشاد فرمایا: یہ دونوں سنگین گناہ ہیں شرک اور قتل۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الديات/حدیث: 29546]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29546، ترقيم محمد عوامة 28305)
ترقیم عوامۃ: 28306 ترقیم الشثری: -- 29547
٢٩٥٤٧ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا (حريث) (١) بن السائب عن الحسن قال: قال رسول الله ﷺ:"ما نازلت ربي في شيء ما نازلته في قاتل المؤمن فلم يجبني" (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ، ح، ز، ط، ع، ك، هـ]: (جرير).
(٢) مرسل حسن؛ الحسن تابعي.
حضرت حسن بصری فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں نے اپنے پروردگار سے کسی چیز کے بارے میں بار بار نہیں پوچھا: جتنا میں نے اس سے مومن کو قتل کرنے والے کے با رے میں پوچھا: پس اس نے میری بات کا جواب نہیں دیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الديات/حدیث: 29547]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29547، ترقيم محمد عوامة 28306)
ترقیم عوامۃ: 28307 ترقیم الشثری: -- 29548
٢٩٥٤٨ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن هارون بن سعد عن ابي الضحى قال: كنت مع ابن عمر في فسطاطه فساله رجل عن رجل قتل مؤمنا متعمدا، قال: فقرا عليه ابن عمر: ﴿ومن يقتل مؤمنا متعمدا فجزآؤه جهنم خالدا فيها﴾ إلى آخر الآية، فانظر من قتلت (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) حسن؛ هارون بن سعد صدوق.
حضرت ابو الضحی فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ ان کے خیمہ میں تھا کہ ایک آدمی نے آپ سے ایسے آدمی کے متعلق دریافت کیا جس نے کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کردیا ہو؟ تو حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس پر یہ آیت تلاوت فرمائی: جو کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کردے تو اس کی سزا جہنم ہے رہے گا اس میں ہمیشہ پس تم غور کرو جو تم نے قتل کیا ہو! [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الديات/حدیث: 29548]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29548، ترقيم محمد عوامة 28307)
ترقیم عوامۃ: 28308 ترقیم الشثری: -- 29549
٢٩٥٤٩ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سلمة بن نبيط عن الضحاك قال: ليس لقاتل المؤمن توبة.
حضرت سلمہ بن نبی ط فرماتے ہیں کہ حضرت ضحاک نے ارشاد فرمایا: مومن کو قتل کرنے والے کیلئے توبہ نہیں ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الديات/حدیث: 29549]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29549، ترقيم محمد عوامة 28308)
ترقیم عوامۃ: 28309 ترقیم الشثری: -- 29550
٢٩٥٥٠ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا عبد الاعلى عن يونس عن الحسن قال: قال ابو موسى: ما من خصم يوم القيامة ابغض إلي من رجل قتلته، تشخب اوداجه دما فيقول: يا رب سل هذا علام قتلني (١) ؟.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) منقطع؛ الحسن لا يروي عن أبي موسى.
حضرت حسن بصری فرماتے ہیں کہ حضرت ابو موسیٰ نے ارشاد فرمایا میرے نزدیک قیامت کے دن سب سے مبغوض جھگڑالو وہ آدمی ہوگا جس کو میں نے قتل کیا ہوگا اس کی رگوں سے خون نکل رہا ہوگا وہ کہے گا: اے پروردگار اس سے پوچھو کہ کس وجہ سے اس نے مجھے قتل کیا؟ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الديات/حدیث: 29550]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29550، ترقيم محمد عوامة 28309)
ترقیم عوامۃ: 28310 ترقیم الشثری: -- 29551
٢٩٥٥١ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سلمة بن نبيط عن الضحاك ابن مزاحم قال: لان اتوب من الشرك احب إلي من ان اتوب من قتل مؤمن.
حضرت سلمہ بن نبی ط فرماتے ہیں کہ حضرت ضحاک بن مزاحم نے ارشاد فرمایا: میرے نزدیک شرک سے توبہ کرنے سے زیادہ پسندیدہ یہ ہے کہ میں مومن کے قتل سے توبہ کروں [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الديات/حدیث: 29551]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29551، ترقيم محمد عوامة 28310)
ترقیم عوامۃ: 28311 ترقیم الشثری: -- 29552
٢٩٥٥٢ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سلمة بن نبيط عن الضحاك ﴿ومن يقتل مؤمنا متعمدا فجزاؤه جهنم خالدا فيها﴾ قال: ما (نسخها) (١) شيء منذ نزلت.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، ط، ك]: (نسختها).
حضرت سلمہ بن نبی ط فرماتے ہیں کہ حضرت ضحاک بن مزاحم نے اس آیت کے بارے میں فرمایا: ترجمہ:۔ اور جس نے جان بوجھ کر مومن کو قتل کردیا تو اس کا بدلہ جہنم ہے رہے گا اس میں ہمیشہ۔ جب سے یہ آیت اتر ی ہے اس کا کچھ حصہ بھی منسوخ نہیں ہوا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الديات/حدیث: 29552]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29552، ترقيم محمد عوامة 28311)
ترقیم عوامۃ: 28312 ترقیم الشثری: -- 29553
٢٩٥٥٣ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا إسماعيل (عن) (١) عبد الرحمن بن عائذ عن عقبة بن عامر الجهني قال: قال رسول الله ﷺ:"من لقي الله (لا) (٢) يشرك به شيئا لم (يند) (٣) بدم حرام دخل الجنة" (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ، ع]: (بن).
(٢) سقط من: [ط].
(٣) في [جـ]: (يندر)، وفي [هـ]: (يتند).
(٤) رجاله ثقات، لكن قيل: عبد الرحمن لم يرو عن عقبة فهو منقطع، أخرجه أحمد (١٧٣٨١)، وابن ماجه (٢٦١٨)، والحاكم ٤/ ٣٥١، والطبراني ١٧/ (٩٣٦).
حضرت عقبہ بن عامر جہنی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص اللہ سے ملا اس حال میں کہ اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں ٹھہرایا اور حرام خون نہیں بہایا تو وہ جنت میں داخل ہوگا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الديات/حدیث: 29553]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29553، ترقيم محمد عوامة 28312)