🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
210. إن المسلمين تتكافأ دماؤهم
مسلمانوں کے خون آپس میں برابر و یکساں ہیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 28552 ترقیم الشثری: -- 29818
٢٩٨١٨ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا عباد بن العوام عن سفيان بن حسين عن ابن اشوع عن الشعبي قال: كان بين حيين من العرب قتال، فقتل من هؤلاء و (١) من هؤلاء، فقال: (احد) (٢) الحيين: لا نرضى حتى يقتل بالمراة الرجل، وبالرجل الرجلين، قال: فابى عليهم الآخرون، فارتفعوا إلى النبي ﷺ، قال: فقال النبي ﷺ (٣) :"القتل (بواء) (٤) " اي سواء، قال: فاصطلح القوم بينهم على الديات، قال: فحسبوا للرجل دية الرجل، وللمراة دية المراة، وللعبد دية العبد فقط (لاحد) (٥) الحيين على الآخرين، قال: فهو قوله: ﴿ياايها الذين آمنوا كتب عليكم القصاص في القتلى الحر ⦗٢٩٩⦘ بالحر والعبد بالعبد والانثى بالانثى﴾ (٦) [البقرة: ١٧٨] .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، ط]: زيادة (وقتل).
(٢) في [أ، ط، هـ]: (إحدى).
(٣) في [أ، هـ]: ﵇.
(٤) في [ك]: (نواء)، وفي [هـ]: (براء)، والخبر مرسل، الشعبي تابعي.
(٥) في [ط، هـ]: (لإحدى).
(٦) مرسل؛ الشعبي تابعي.

حضرت ابن اشوع فرماتے ہیں کہ حضرت شعبی نے ارشاد فرمایا: عرب کے دو قبیلوں کے درمیان لڑائی تھی۔ سو اس قبیلہ کے کچھ افراد قتل ہوئے اور اس قبیلہ کے بھی کچھ افراد قتل ہوگئے۔ ان قبیلوں میں سے ایک نے کہا: ہم راضی نہیں ہوں گے یہاں تک کہ ہم عو رت کے بدلے مں ف آدمی کو اور آدمی کے بدلے میں دو آدمیوں کو قتل کریں: دوسرے قبیلے والوں نے اس بات کا انکار کردیا، پھر انہوں نے یہ معاملہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پیش کردیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قتل کا معاملہ برا بری کا ہے۔ سو لوگوں نے اپنے درمیان دیتوں کی اصطلاح قائم کرلی۔ انہوں نے آدی کے لیے آدمی کی دیت عورت کے لیے عورت کی دیت اور غلام کے لیے غلام کی دیت کو کافی سمجھا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دونوں قبیلوں میں سے ایک کے لیے دوسرے پر یوں فیصلہ فرمایا: راوی کہتے ہیں وہ فیصلہ اللہ رب العزت کا یہ قول ہے: ترجمہ:۔ اے ایمان والو! فرض کردیا گیا ہے تم پر مقتولوں کا قصاص لینا قتل کیا جائے آزاد کو آزاد کے بدلے میں، اور غلام کو غلام کے بدلے میں اور عورت کو عورت کے بدلے میں۔ حضرت سفیان بن حسن نے فرمایا: آیت: سو وہ شخص جس کو معاف کردیا جائے اس کے بھائی کی طرف سے قصاص میں سے کچھ۔ آپ فرمایا: مراد یہ ہے کہ جس نے اپنے بھائی پر کچھ اس مں فضل کردیا تو اس کو چاہیے کہ وہ اس کو معروف طریقہ سے ادائیگی کرے۔ اور طالب احسن انداز میں اس کی پیروی کرے اللہ رب العزت کے قول { عَذَابٌ أَلِیمٌ} تک۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الديات/حدیث: 29818]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29818، ترقيم محمد عوامة 28552)


Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 29818 in Urdu