🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

210. إن المسلمين تتكافأ دماؤهم
مسلمانوں کے خون آپس میں برابر و یکساں ہیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 28547 ترقیم الشثری: -- 29813
٢٩٨١٣ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع عن (خليفة) (١) بن خياط عن عمرو ابن شعيب عن ابيه عن جده (عن) (٢) النبي ﷺ انه قال: في خطبته (وهو) (٣) مسند ظهره إلى الكعبة قال:"المسلمون تتكافا دماؤهم، يسعى بذمتهم ادناهم، وهم يد على من سواهم" (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (حليفة).
(٢) في [ط]: (أن).
(٣) في [أ، ط]: (فهو).
(٤) حسن؛ شعيب صدوق، أخرجه أحمد (٦٧٩٧)، والطيالسي (٢٢٥٨)، وابن الجارود (١٠٥٢)، والبيهقي (٨/ ٢٩)، والبغوي (٧٠١٢)، وأبو داود (٢٧٥١)، وابن ماجه (٢٦٨٥).

حضرت عبداللہ بن عمرو فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے خطبہ میں ارشاد فرمایا اس حال میں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کعبہ سے ٹیک لگائے ہوئے تھے: مسلمانوں کے خون آپس میں برابر و یکساں ہیں ان میں ادنی شخص بھی ان کے عہدوپیمان کے لیے کوشش کرتا ہے اور وہ غیروں کے مقابلہ میں متحد ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الديات/حدیث: 29813]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29813، ترقيم محمد عوامة 28547)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 28548 ترقیم الشثری: -- 29814
٢٩٨١٤ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابو الاشهب عن الحسن قال: قال رسول الله ﷺ:"المسلمون تتكافا دماؤهم، يسعى بذمتهم ادناهم، (وهم) (١) يد على من سواهم" (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (وهي).
(٢) مرسل، الحسن تابعي، أخرجه عبد الرزاق (١٨٥٠٦)، وورد نحوه من حديث الحسن عن قيس بن عباد عن علي مرفوعًا أخرجه أحمد (٩٩٣)، وأبو داود (٤٥٣٠)، والنسائي (٨٦٨٢)، والبزار (٧١٤)، والحاكم ٢/ ١٥٣، وأبو يعلى (٣٣٨)، والطحاوي ٣/ ١٩٢، والبيهقي ٨/ ٢٩، كما ورد من حديث الحسن عن معقل أخرجه ابن ماجه (٢٦٨٤)، والطبراني ٢٠/ ٤٧١، والبيهقي ٨/ ٣٠، وابن عدي ٥/ ٣٣٢.

حضرت حسن بصری فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مسلمانوں کے خون آپس میں برابر و یکساں ہیں، ان کا ادنی شخص بھی ان کے عہدو پیماں کے لیے کوشش کرتا ہے وہ غیروں کے مقابلہ میں ایک ہیں متحد ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الديات/حدیث: 29814]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29814، ترقيم محمد عوامة 28548)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 28549 ترقیم الشثری: -- 29815
٢٩٨١٥ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا عبيد الله بن موسى عن علي بن صالح عن سماك عن عكرمة عن ابن عباس قال: (كانت) (١) قريظة والنضير، ⦗٢٩٧⦘ و (كانت) (٢) النضير اشرف من قريظة [ (فكان) (٣) إذا قتل رجل من قريظة] (٤) رجلا من النضير قتل به، وإن قتل رجل من النضير رجلا من قريظة (وداه) (٥) مئة وسق من تمر، فلما بعث النبي ﷺ قتل رجل من النضير (رجلا) (٦) من قريظة، قال: ادفعوه إلينا نقتله، فقالوا: بيننا وبينكم النبي ﷺ فاتوه فنزلت: ﴿وإن حكمت فاحكم بينهم بالقسط﴾ [المائدة: ٤٢] ، فالقسط: النفس بالنفس، ثم نزلت: ﴿افحكم الجاهلية يبغون﴾ (٧) [المائدة: ٥٠] .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ط، هـ]: (كان).
(٢) في [أ، ط، هـ]: (كان).
(٣) في [أ، هـ]: (وكان).
(٤) في [ب]: (تكرر ما بين القوسين).
(٥) في [أ، هـ]: (ودى)، وفي [ب]: (ودا).
(٦) في [هـ]: (رجل).
(٧) مضطرب؛ رواية سماك عن عكرمة مضطربة، أخرجه أحمد (٣٤٣٤)، وأبو داود (٣٥٩١)، والنسائي ٨/ ١٩، وابن حبان (٥٠٥٧)، والحاكم ٤/ ٣٦٦، وابن الجارود (٧٧٢)، والطبراني ٦/ ٢٤٣، وابن أبي حاتم (٣٩١)، والدارقطني ٣/ ١٩٨، والطبراني (١١٥٧٣)، والطحاوي في شرح المشكل (٤٤٦٦)، والبيهقي ٨/ ٢٤.

حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ارشاد فرمایا: قریظہ اور نضیر دو قبیلے تھے اور قبیلہ نضیر قریظہ والوں سے زیادہ معزز تھے۔ پس جب قبیلہ قریظہ کا کوئی آدمی قبیلہ نضیر کے کسی آدمی کو قتل کردیتا تو بدلہ میں اسے بھی قتل کردیا جاتا۔ اور اگر قبلہر نضیر کا کوئی آدمی قبیلہ قریظہ کے کسی آدمی کو قتل کردیتا تو وہ اسے سو و سق کھجور دیت میں ادا کردیتا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت ہوئی تو قبیلہ نضیر کے ایک آدمی نے قریظہ کے ایک آدمی کو قتل کردیا، انہوں نے کہا تم اس قاتل کو ہمارے حوالہ کردو تا کہ ہم اسے قتل کردیں، ان لوگوں نے جواب دیا۔ ہمارے اور تمہارے درمیان نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فیصلہ کریں گے۔ پس وہ سب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آگئے۔ پس یہ آیت نازل ہوئی ترجمہ:۔ اور اگر آپ حکم بنیں تو ان کے درمیان انصاف سے فیصلہ کریں۔ قسط سے مراد۔ جان کے بدلے جان ہے۔ پھر یہ آیت نازل ہوئی ترجمہ:۔ تو کیا پھر یہ لوگ زمانۂ جاہلیت کا فیصلہ چاہتے ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الديات/حدیث: 29815]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29815، ترقيم محمد عوامة 28549)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 28550 ترقیم الشثری: -- 29816
٢٩٨١٦ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابن عيينة عن عمرو عن مجاهد عن ابن عباس قال: كان في بني إسرائيل القصاص ولم تكن فيهم الدية، فقال الله لهذه الامة: ﴿كتب عليكم القصاص في القتلى الحر بالحر والعبد بالعبد والانثى بالانثى فمن عفي له من اخيه شيء فاتباع بالمعروف واداء إليه بإحسان﴾ (١) ، فالعفو ان (تقبل) (٢) ⦗٢٩٨⦘ الدية في (العبد) (٣) ﴿ذلك تخفيف من ربكم ورحمة﴾، قال: فعلى هذا ان يتبع بالمعروف، وعلى (ذاك) (٤) ان يؤدي ﴿إليه بإحسان ذلك تخفيف من ربكم ورحمة فمن اعتدى بعد ذلك فله عذاب اليم﴾ (٥) [البقرة: ١٧٨] .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط ما بين القوسين من: [أ، ط، هـ].
(٢) في [أ، ب، ط]: (يقبل).
(٣) في [هـ]: (العهد).
(٤) في [أ، ط، هـ]: (ذلك).
(٥) صحيح؛ أخرجه البخاري (٤٤٩٨)، والنسائي (٨/ ٣٦)، وابن حبان (٦٠١٠).

حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ارشاد فرمایا: بنی اسرائیل میں قصاص کا حکم تھا اور ان میں دیت مشروع نہیں تھی۔ اللہ رب العزت نے اس امت کے لیے ارشاد فرمایا: ترجمہ:۔ فرض کردیا گیا ہے تم پر مقتولوں کا قصاص لینا آزاد کو قتل کیا جائے گا آزاد کے بدلے میں اور غلام کو غلام کے بدلے میں اور عورت کو عورت کے بدلے میں سو وہ شخص جس کو معاف کردیا جائے اس کے بھائی کی طرف سے قصاص میں کچھ تو لازم ہے اس پر پیروی کرنا معروف طریقے کی اور ادا کرنا مقتول کے ورثاء کو احسن طریقے سے۔ سو آیت میں عفو سے مراد یہ ہے کہ قتل عمد میں دیت قبول کرلی جائے۔ آیت ترجمہ: یہ رعایت ہے تمہارے رب کی طرف سے اور رحمت ہے۔ آپ نے فرمایا: سو اسی بنیاد پر لازم ہے کہ پیروی کرے معروف طریقے کی اور اس پر لازم ہے کہ مقتول کے ورثاء کو احسن طریقے سے ادا کردے۔ آیت ترجمہ: پھر جو زیادتی کرے اس کے بعدتو اس کے لیے درد ناک عذاب ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الديات/حدیث: 29816]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29816، ترقيم محمد عوامة 28550)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 28551 ترقیم الشثری: -- 29817
٢٩٨١٧ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا محمد بن بكر عن ابن جريج قال: قلت لعطاء: ما قوله: ﴿الحر بالحر والعبد بالعبد﴾، قال: العبد يقتل عبدا مثله فهو به قود، وإن كان القاتل (افضل) (١) لم يكن إلا قيمة المقتول.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من [أ، ب، جـ، ط، ك، م].
حضرت ابن جریج فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عطاء سے پوچھا: اللہ رب العزت کے قول: آزاد کے بدلے میں آزاد اور غلام کے بدلے میں غلام اس کا مطلب کیا ہے؟ آپ نے ارشاد فرمایا: غلام اپنے جیسے کسی غلام کو قتل کردیتا ہے تو بدلے میں اس کو بھی قصاصاً قتل کیا جائے گا۔ اور اگر قاتل مقتول سے افضل ہو تو مقتول کے ورثاء کو صرف مقتول کی قیمت ملے گی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الديات/حدیث: 29817]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29817، ترقيم محمد عوامة 28551)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 28552 ترقیم الشثری: -- 29818
٢٩٨١٨ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا عباد بن العوام عن سفيان بن حسين عن ابن اشوع عن الشعبي قال: كان بين حيين من العرب قتال، فقتل من هؤلاء و (١) من هؤلاء، فقال: (احد) (٢) الحيين: لا نرضى حتى يقتل بالمراة الرجل، وبالرجل الرجلين، قال: فابى عليهم الآخرون، فارتفعوا إلى النبي ﷺ، قال: فقال النبي ﷺ (٣) :"القتل (بواء) (٤) " اي سواء، قال: فاصطلح القوم بينهم على الديات، قال: فحسبوا للرجل دية الرجل، وللمراة دية المراة، وللعبد دية العبد فقط (لاحد) (٥) الحيين على الآخرين، قال: فهو قوله: ﴿ياايها الذين آمنوا كتب عليكم القصاص في القتلى الحر ⦗٢٩٩⦘ بالحر والعبد بالعبد والانثى بالانثى﴾ (٦) [البقرة: ١٧٨] .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، ط]: زيادة (وقتل).
(٢) في [أ، ط، هـ]: (إحدى).
(٣) في [أ، هـ]: ﵇.
(٤) في [ك]: (نواء)، وفي [هـ]: (براء)، والخبر مرسل، الشعبي تابعي.
(٥) في [ط، هـ]: (لإحدى).
(٦) مرسل؛ الشعبي تابعي.

حضرت ابن اشوع فرماتے ہیں کہ حضرت شعبی نے ارشاد فرمایا: عرب کے دو قبیلوں کے درمیان لڑائی تھی۔ سو اس قبیلہ کے کچھ افراد قتل ہوئے اور اس قبیلہ کے بھی کچھ افراد قتل ہوگئے۔ ان قبیلوں میں سے ایک نے کہا: ہم راضی نہیں ہوں گے یہاں تک کہ ہم عو رت کے بدلے مں ف آدمی کو اور آدمی کے بدلے میں دو آدمیوں کو قتل کریں: دوسرے قبیلے والوں نے اس بات کا انکار کردیا، پھر انہوں نے یہ معاملہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پیش کردیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قتل کا معاملہ برا بری کا ہے۔ سو لوگوں نے اپنے درمیان دیتوں کی اصطلاح قائم کرلی۔ انہوں نے آدی کے لیے آدمی کی دیت عورت کے لیے عورت کی دیت اور غلام کے لیے غلام کی دیت کو کافی سمجھا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دونوں قبیلوں میں سے ایک کے لیے دوسرے پر یوں فیصلہ فرمایا: راوی کہتے ہیں وہ فیصلہ اللہ رب العزت کا یہ قول ہے: ترجمہ:۔ اے ایمان والو! فرض کردیا گیا ہے تم پر مقتولوں کا قصاص لینا قتل کیا جائے آزاد کو آزاد کے بدلے میں، اور غلام کو غلام کے بدلے میں اور عورت کو عورت کے بدلے میں۔ حضرت سفیان بن حسن نے فرمایا: آیت: سو وہ شخص جس کو معاف کردیا جائے اس کے بھائی کی طرف سے قصاص میں سے کچھ۔ آپ فرمایا: مراد یہ ہے کہ جس نے اپنے بھائی پر کچھ اس مں فضل کردیا تو اس کو چاہیے کہ وہ اس کو معروف طریقہ سے ادائیگی کرے۔ اور طالب احسن انداز میں اس کی پیروی کرے اللہ رب العزت کے قول { عَذَابٌ أَلِیمٌ} تک۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الديات/حدیث: 29818]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29818، ترقيم محمد عوامة 28552)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 29819
٢٩٨١٩ - قال: سفيان: ﴿فمن عفي له من اخيه شيء﴾ قال: فمن فضل له على اخيه شيء فليؤده بالمعروف وليتبعه الطالب ﴿بإحسان﴾ إلى (قوله) (١) : ﴿عذاب اليم﴾.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من [أ، ط، هـ].
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29819، ترقيم محمد عوامة ---)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں