🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
53. في حد الخمر: كم هو؟ وكم يضرب شاربه؟
شراب کی سزا کے بیان میں کہ وہ کتنی ہے؟ اور اس کے پینے والے کو کتنے کوڑے مارے جائیں گے؟
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 29000 ترقیم الشثری: -- 30299
٣٠٢٩٩ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابن فضيل عن عطاء بن السائب عن ابي عبد الرحمن عن علي قال: شرب قوم من اهل الشام الخمر وعليهم يزيد بن ابي سفيان، وقالوا: هي لنا حلال وتاولوا هذه الآية: ﴿ليس على الذين آمنوا وعملوا الصالحات جناح فيما طعموا﴾ [المائدة: ٩٣] ، قال: وكتب فيهم إلى عمر فكتب ان ⦗٤٠٥⦘ ابعث بهم إلي قبل ان يفسدوا من قبلك، فلما قدموا على عمر استشار فيهم الناس، فقالوا: يا امير المؤمنين نرى انهم قد كذبوا على الله، وشرعوا في دينهم ما لم ياذن به الله، فاضرب رقابهم، وعلي ساكت فقال: ما تقول يا ابا الحسن فيهم؟ قال: ارى ان تستتيبهم، فإن تابوا جلدتهم ثمانين (ثمانين) (١) (لشربهم) (٢) الخمر، وإن لم يتوبوا ضربت (اعناقهم، فإنهم) (٣) قد كذبوا على الله وشرعوا في دينهم ما لم ياذن به الله، فاستتابهم فتابوا فضربهم ثمانين، ثمانين (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ح، ط، هـ].
(٢) في [هـ]: (لشرب).
(٣) في [أ، ط، هـ]: (رقابهم).
(٤) ضعيف؛ عطاء اختلط.

حضرت ابو عبدالرحمن فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: اہل شام میں سے چند لوگوں نے شراب پی۔ اس وقت ان پر یزید بن ابو سفیان امیر تھے اور ا ن لوگوں نے کہا: اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ایمان اور اعمال صالحہ والوں پر کوئی چیز کھانے میں کوئی حرج نہیں۔ یزید بن ابی سفیان نے اس بارے میں حضرت عمر کو خط لکھا۔ حضرت عمر نے فرمایا کہ قبل اس کے کہ یہ لوگ فساد مچائیں انہیں میرے پاس بھجوا دو۔ جب وہ آئے تو حضرت عمر نے ان کے بارے میں مشورہ کیا۔ آپ سے کہا گیا اے امیرالمومنین! ان لوگوں نے اللہ کے بارے میں جھوٹ بولا اور شریعت میں شریعت کے خلاف بات کی۔ لہٰذا انہیں قتل کروا دیں۔ اس دوران حضرت علی رضی اللہ عنہ خاموش رہے۔ حضرت عمر نے پوچھا اے ابوالحسن! آپ کیا کہتے ہیں؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر وہ توبہ کرتے ہیں تو انہیں اسی کوڑے لگائیں اگر توبہ نہ کریں تو قتل کردیں۔ انہوں نے اللہ پر جھوٹ گھڑا ہے۔ حضرت عمر نے ان سے دریافت کیا تو انہوں نے توبہ کا اظہار کیا اس پر انہیں صرف اسی کوڑوں کی سزا دی گئی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحدود/حدیث: 30299]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30299، ترقيم محمد عوامة 29000)


Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 30299 in Urdu