مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
118. في الزاني كم مرة (يرد) وما يصنع به بعد إقراره؟
زانی کے بیان میں: اس کو کتنی مرتبہ لوٹایا جائے گا؟ اور اس کے اقرار کر لینے کے بعد اس کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا؟
ترقیم عوامۃ: 29376 ترقیم الشثری: -- 30699
٣٠٦٩٩ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابو خالد الاحمر عن محمد بن إسحاق عن محمد بن إبراهيم عن ابي عثمان بن نصر عن ابيه قال: كنت فيمن رجم ماعزا، فلما وجد مس الحجارة قال: ردوني إلى رسول الله ﷺ (فانكرت ذلك) (١) فاتيت عاصم ⦗٤٩٦⦘ ابن عمر فقال: قال الحسن بن محمد بن الحنفية: لقد بلغني فانكرته، فاتيت جابرا فقلت: لقد ذكر (الاسلمي) (٢) شيئا من قول ماعز بن مالك: ردوني، فانكرته فقال: انا فيمن رجمه فقال: إنه وجد مس الحجارة قال: ردوني إلى رسول الله ﷺ فإن قومي آذوني وقالوا: (ائت) (٣) (رسول الله ﷺ) (٤) فإنه غير قاتلك، فما (اقلعنا) (٥) عنه حتى قتلناه، فلما ذكر شانه للنبي ﷺ (فقال) (٦) :"الا تركتموه حتى انظر في شانه" (٧) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [هـ].
(٢) في [ط]: (أن سلمي).
(٣) في [ب]: (أتيت النبي).
(٤) سقط من: [ك].
(٥) في [ب]: (أقلعهما)، وفي: [هـ] (اقلعتا).
(٦) في [ك]: (قال).
(٧) مجهول؛ لجهالة أبي عثمان بن نضر، أخرجه أحمد (١٥٥٥٥)، والنسائي في الكبرى (٧٢٠٧)، والدارمي ٢/ ١٧٧، والطحاوي في شرح المشكل (٤٣٤)، وابن أبي عاصم في الآحاد والمثاني (٢٣٨١)، وقوله: (عن أبي عثمان) قال المزي: وهم صوابه عن أبي الهيثم، وقصة جابر أخرجها النسائي (٧٢٠٦)، وأبو داود (٤٤٢٠)، وأحمد (١٥٠٨٩)، وأصل حديث الرجم عن جابر عند البخاري (٦٨٢٠)، ومسلم (١٦٩١).
حضرت ابو عثمان بن نصر فرماتے ہیں کہ میرے والد نے ارشاد فرمایا: میں ان لوگوں میں تھا جنہوں نے حضرت ماعز کو سنگسار کیا تھا پس جب انہوں نے پتھروں کی تکلیف محسوس کی تو کہنے لگے: تم لوگ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس واپس لوٹا دو پس میں نے اس بات سے انکار کردیا راوی کہتے ہیں میں حضرت عاصم بن عمر کے پاس آیا اور کہا: حضرت حسن بن محمد ابن حنفیہ فرماتے ہیں: تحقیق مجھے خبر پہنچی ہے کہ! پس میں نے اس کا انکار کردیا میں پھر حضرت جابر کے پاس آیا اور میں نے کہا: تحقیق حضرت اسلمی نے ماعز بن مالک کے قول میں سے کچھ ذکر کیا ہے کہ؟ تم لوگ مجھے لوٹا دو میں اس کا انکار کرتا ہوں! سو انہوں نے جواب دیا: میں ان لوگوں میں تھا جنہوں نے ان کو سنگسار کیا تھا اور آپ نے فرمایا: بیشک انہوں نے پتھروں کی تکلیف محسوس کی اور کہا: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لوٹا دو بیشک میری قوم نے مجھے تکلیف میں ڈالا، اور لوگوں نے کہا: تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس چلے جاؤ وہ تمہیں قتل نہیں کریں گے پس ہم لوگوں نے انہیں نہیں چھوڑا یہاں تک کہ ہم نے ان کو مار دیا پھر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے ان کی حالت کا ذکر کیا گیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم نے اس کو چھوڑکیوں نہیں دیا یہاں تک کہ میں اس حالت میں غور کرلیتا؟ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحدود/حدیث: 30699]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30699، ترقيم محمد عوامة 29376)
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 30699 in Urdu