مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
118. في الزاني كم مرة (يرد) وما يصنع به بعد إقراره؟
زانی کے بیان میں: اس کو کتنی مرتبہ لوٹایا جائے گا؟ اور اس کے اقرار کر لینے کے بعد اس کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا؟
ترقیم عوامۃ: 29361 ترقیم الشثری: -- 30682
٣٠٦٨٢ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابو خالد الاحمر عن المجالد عن الشعبي عن جابر قال: جاء ماعز بن مالك إلى النبي ﷺ (١) فقال: إنه قد زنى فقال:"اما لهذا احد" فرده، ثم جاء ثلاث (مرار) (٢) فقال:" (اما) (٣) لهذا احد" فرده، فلما كانت الرابعة قال:"ارجموه" (٤) ، فرماه ورميناه، وفر واتبعناه، قال عامر: فقال لي جابر: (فهاهنا) (٥) قتلناه (٦) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ك]: ﵇.
(٢) سقط من: [ط].
(٣) في [أ، ط، هـ]: (ما).
(٤) في [ط]: (لرجموه).
(٥) في [أ، ط، هـ]: (فها).
(٦) ضعيف؛ مجالد ضعيف، وأصل الخبر أخرجه البخاري (٦٨٢٠)، ومسلم (١٦٩١).
حضرت جابر فرماتے ہیں کہ حضرت ماعز بن مالک نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا: بیشک میں نے زنا کیا ہے آپ نے پوچھا کیا اس کا کوئی گواہ ہے؟ سو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں واپس لوٹا دیا پھر وہ تین مرتبہ آئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا اس کا کوئی گواہ ہے؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو واپس لوٹا دیا جب وہ چوتھی مرتبہ آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ اس کو سنگسارکر دو سو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اور ہم نے اسے پتھر مارے اور وہ بھاگنے لگے تو ہم نے ان کا پیچھا کیا۔ حضرت عامر نے فرمایا: حضرت جابر نے مجھ سے فرمایا: ہم نے یہاں ان کو مارا تھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحدود/حدیث: 30682]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30682، ترقيم محمد عوامة 29361)
ترقیم عوامۃ: 29362 ترقیم الشثری: -- 30683
٣٠٦٨٣ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع عن هشام بن سعد قال: حدثني يزيد ابن نعيم بن هزال عن ابيه قال: كان ماعز بن مالك في حجر ابي فاصاب جارية ⦗٤٩٠⦘ من الحي، فقال له ابي: ائت رسول الله ﷺ فاخبره بما صنعت يستغفر لك، وإنما يريد بذلك ليجعل له محرجا، فاتاه فقال: يا رسول الله، إني قد زنيت، فاقم علي كتاب الله (فاعرض عنه، ثم اتاه، حتى ذكر اربع مرات، ثم اتاه الرابعة فقال: يا رسول الله إني قد زنيت فاقم علي كتاب الله) (١) فقال: رسول الله ﷺ (٢) :"اليس قلتها اربع مرات فبمن؟" قال: بفلانة، قال:"هل ضاجعتها؟"، قال: نعم، قال:"باشرتها؟" قال: نعم، قال:"هل جامعتها؟" قال: نعم، قال: فامر به ليرجم، فاخرج إلى الحرة فلما وجد مس الحجارة خرج يشتد فلقيه عبد الله بن انيس وقد اعجز اصحابه فانتزع له بوظيف بعير فرماه به فقتله، ثم اتى النبي ﷺ (٣) فذكر ذلك له فقال:"هلا تركتموه لعله يتوب، فيتوب الله عليه" (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط ما بين القوسين من: [جـ، م، ع].
(٢) سقط من: [ك].
(٣) في [أ، ب، ك]: ﵇.
(٤) حسن؛ نعيم صحابي على الصحيح؛ وهشام بن سعد ويزيد صدوقان، أخرجه أحمد (٢١٨٩٠)، وأبو داود (٤٤١٩)، والنسائي في الكبرى (٧٢٧٨)، والحاكم ٤/ ٣٦٣، والطحاوي في شرح المشكل (٤٩٤٤)، وابن أبي عاصم في الآحاد (٢٣٩٣)، والدلابي ١/ ١٠٥، وابن قانع ٣/ ١٥٠، والروياني (١٤٦٨)، والطبراني ٢٢/ (٥٣١)، وابن عبد البر في التمهيد ٢٣/ ١٢٦، وعبد الرزاق (١٣٣٤٢)، والبيهقي ٣/ ٣٣٠.
حضرت نعیم بن ھزال فرماتے ہیں کہ ماعز بن مالک میرے والد کی پرورش میں تھے انہوں نے قبیلہ کی ایک باندی سے زنا کرلیا تو میرے والد نے ان سے کہا: تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جاؤ اور جو تم نے کیا ہے اس بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتلاؤ وہ تمہارے لیے استغفار کریں گے۔ اور میرے والد نے اس سے یہ ارادہ کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے لیے کوئی راستہ نکالیں گے۔ پس وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! بیشک میں نے زنا کیا ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھ پر کتاب اللہ کا حکم قائم فرما دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے اعراض کیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے یہاں تک کہ راوی نے چار مرتبہ کا ذکر کیا۔ پھر وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس چوتھی بار آئے اور کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! بیشک میں نے زنا کیا ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھ پر کتا باللہ کا حکم قائم فرما دیں اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کیا تم نے یہ بات چار مرتبہ نہیں کہی؟ پس کس عورت سے کیا؟ انہوں نے کہا: فلاں عورت سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم نے اس سے ہمبستری کی؟ انہوں نے کہا، جی ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: کیا تم نے اس سے وطی کی؟ انہوں نے کہا، جی ہاں، ٓپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پھر پوچھا! کیا تم نے اس سے جماع کیا؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، راوی کہتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے متعلق حکم دیا تو اس کو سنگسار کیا گیا اور اسے حرہ کی زمین کی طرف لے جایا گیا جب انہوں نے پتھروں کی سختی محسوس کی وہ کراہتے ہوئے تکلیف سے نکلنے لگے۔ حضرت عبداللہ بن انیس اس سے ملے اور تحقیق اس کو مارنے والے ساتھی عاجز آگئے تھے انہوں نے اپنے اونٹ کی پنڈلی کا پتلا حصہ اکھیڑا اور ان کو اس سے مار کر انہیں قتل کردیا۔ پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے اس بات کا ذکر کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم نے اس کو چھوڑ کیوں نہیں دیا شاید کہ وہ توبہ کرلیتا اور اللہ اس کی توبہ قبول کرلیتے؟ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحدود/حدیث: 30683]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30683، ترقيم محمد عوامة 29362)
ترقیم عوامۃ: 29363 ترقیم الشثری: -- 30684
٣٠٦٨٤ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا عباد بن العوام عن محمد بن عمرو عن ابي سلمة عن ابي هريرة قال: جاء ماعز بن مالك إلى النبي ﷺ (١) فقال: إني قد زنيت فاعرض عنه، حتى اتاه اربع مرار، فامر به ان يرجم، فلما اصابته الحجارة ادبر يشتد، فلقيه رجل بيده لحي جمل، (فضربه) (٢) فصرعه، فذكر ⦗٤٩١⦘ للنبي ﷺ (٣) فراره حين مسته الحجارة، فقال:"هلا تركتموه" (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ك]: ﵇.
(٢) سقط من: [جـ].
(٣) في [ك]: ﵇.
(٤) حسن؛ محمد بن عمرو صدوق، أخرجه أحمد (٩٨٠٩)، والترمذي (١٤٢٨)، والنسائي في الكبرى (٧٢٠٤)، وابن ماجه (٢٥٥٤)، وابن حبان (٤٤٣٩)، وابن الجارود (٨١٩)، والبيهقي ٨/ ٢٩٨، وأصله عند البخاري (٦٨١٥)، ومسلم (١٦٩١).
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ ماعز بن مالک نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آئے اور کہنے لگے: بیشک میں نے زنا کیا ہے! سو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے اعراض کیا یہاں تک کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس چوتھی مرتبہ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے بارے میں حکم دیاتو ان کو سنگسار کیا گیا جب انہں پ پتھروں کی تکلیف پہنچی تو وہ تکلیف سے بھاگنے لگے اتنے میں اسے ایک آدمی ملا جس کے ہاتھ میں اونٹ کا جبڑا تھا پس اس نے اسے مارا اور اسے نیچے گرا دیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے ان کے بھاگنے کا معاملہ ذکر کیا گیا جب انہیں پتھروں کی تکلیف محسوس ہوئی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم نے اس کو چھوڑ کیوں نہیں دیا؟ ’ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحدود/حدیث: 30684]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30684، ترقيم محمد عوامة 29363)
ترقیم عوامۃ: 29364 ترقیم الشثری: -- 30685
٣٠٦٨٥ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع عن إسرائيل عن جابر عن عامر عن ابن ابزى عن ابي بكر قال: اتى ماعز بن مالك النبي ﷺ، فاقر عنده ثلاث مرات فقلت: إن (اقررت) (١) عنده الرابعة، فامر به فحبس، يعني (يرجم) (٢) (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط]: (قررت).
(٢) في [هـ]: (ترجم)، ولعلها (ليرجم).
(٣) ضعيف؛ جابر هو الجعفي ضعيف؛ أخرجه أحمد (٤١)، والبزار (٥٥)، وأبو يعلى (٤٠)، والطحاوي ٣/ ١٤١، والمروزي في سنن أبي بكر (٧٩).
حضرت ابوبکر فرماتے ہیں کہ ماعز بن مالک نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تین مرتبہ اقرار کیا میں نے کہا: اگر تم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس چوتھی مرتبہ اقرار کرو تو سزا ہوگی! سو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم سے اسے قید کردیا گیا یعنی سنگسار کردیا گیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحدود/حدیث: 30685]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30685، ترقيم محمد عوامة 29364)
ترقیم عوامۃ: 29365 ترقیم الشثری: -- 30686
٣٠٦٨٦ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا جرير عن مغيرة عن الشعبي قال: شهد ماعز على نفسه اربع مرات انه قد زنى فامر به رسول الله ﷺ ان (يرجم) (١) (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، ط]: (رجم).
(٢) مرسل؛ الشعبي تابعي، وتقدم متصلًا في الذي قبله.
حضرت مغیرہ فرماتے ہیں کہ حضرت شعبی نے ارشاد فرمایا: ماعز بن مالک نے اپنے خلاف زنا کرنے کی چار مرتبہ گواہی دی تھی سو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم سے ان کو سنگسار کردیا گیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحدود/حدیث: 30686]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30686، ترقيم محمد عوامة 29365)
ترقیم عوامۃ: 29366 ترقیم الشثری: -- 30687
٣٠٦٨٧ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا شبابة بن سوار قال: حدثنا شعبة عن سماك عن جابر بن سمرة قال: رايت رسول الله ﷺ حين اتي بماعز بن مالك اتي برجل اشعر (ذي) (١) عضلات في إزاره، فرده مرتين، ثم امر برجمه (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، ط]: (في).
(٢) حسن؛ سماك صدوق، أخرجه مسلم (١٦٩٢)، وأحمد (٢٠٩٨٣).
حضرت جابر بن سمرہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا جب ماعز بن مالک کو لایا گیا تو ایک زیادہ بالوں والے اور مضبوط پیٹھے والے شخص کو لایا گیا جو تہہ بند پہنے ہوئے تھا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے دو مرتبہ واپس لوٹایا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو سنگسار کرنے کا حکم دیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحدود/حدیث: 30687]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30687، ترقيم محمد عوامة 29366)
ترقیم عوامۃ: 29367 ترقیم الشثری: -- 30688
٣٠٦٨٨ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا عبد الله بن نمير قال: حدثنا (بشير) (١) قال: حدثني عبد الله بن بريدة عن ابيه ان ماعز بن مالك الاسلمي اتى رسول الله ﷺ فقال: إني قد ظلمت نفسي وزنيت، و (إني) (٢) اريد ان تطهرني، فرده فلما كان (الغد) (٣) اتاه (ايضا) (٤) فقال: يا رسول الله إني قد زنيت فرده الثانية فارسل رسول الله ﷺ إلى قومه فقال:"اتعلمون بعقله باسا تنكرون منه شيئا؟ فقالوا: لا نعلمه إلا وفي العقل من صالحينا فيما نرى قال: فاتاه الثالثة فارسل إليهم (ايضا) (٥) فسال عنه فاخبروه انه لا باس به ولا بعقله، فلما كان الرابعة حفر له حفرة ثم امر به فرجم (٦) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، ط]: (أبي بشر)، وفي [جـ]: (ابن بشير)، وفي [ك]: (أبي بشير)، وفي [ط، هـ]: زيادة (بن مهاجر).
(٢) في [أ، ط، هـ]: (إنما).
(٣) في [هـ]: (الغداة).
(٤) في [ط]: (أيضة).
(٥) في [ط]: (أيضة).
(٦) ضعيف؛ لضعف بشير بن مهاجر.
حضرت بریدہ فرماتے ہیں کہ حضرت ماعز بن مالک اسلمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آئے اور عرض کی: بیشک میں نے اپنی جان پر ظلم کیا ہے اور میں نے زنا کیا ہے، اور میں چاہتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے پاک کردیں، سو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو واپس کردیا جب اگلا دن آیا تو وہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آگئے اور عرض کی: یا سول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)! بیشک میں نے زنا کیا ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو دوسری مرتبہ بھی واپس لوٹا دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی قوم کی طرف قاصد بھیجا اور فرمایا: کیا تم اس کی عقل میں کوئی حرج سمجھتے ہو؟ کیا تم اس میں کوئی غلط چیز دیکھتے ہو؟ انہوں نے کہا: ہم اس کے بارے میں نہیں جانتے مگر یہ کہ اس کی عقل ہمارے نیک لوگوں کی طرح ہے جیسا کہ ہمیں دکھائی دیا۔ راوی کہتے ہیں: پس وہ تیسری بار نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی قوم کی طرف پھر قاصد بھیجا اور اس کے بارے میں سوال کیا؟ ان لوگوں نے بتلایا کہ اس میں اور اس کی عقل میں کوئی حرج والی بات نہیں، پس جب وہ چوتھی مرتبہ آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے لیے ایک گڑھا کھودا اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم سے انہیں سنگسار کردیا گیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحدود/حدیث: 30688]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30688، ترقيم محمد عوامة 29367)
ترقیم عوامۃ: 29368 ترقیم الشثری: -- 30689
٣٠٦٨٩ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا معاوية بن هشام قال: حدثنا سفيان عن داود عن ابي نضرة عن ابي سعيد الخدري قال: جاء ماعز بن مالك فاعترف بالزنا ثلاث مرات، فسال عنه، ثم امر به فرجم، فرميناه بالخزف والجندل (والعظام) (١) ، وما حفرنا له، ولا اوثقناه فسبقنا إلى الحرة واتبعناه فقام إلينا، فرميناه حتى سكت، فما استغفر له النبي ﷺ ولا سبه (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (الغلام).
(٢) صحيح؛ أخرجه مسلم (١٦٩٤)، وأحمد (١١٥٨٩).
حضرت ابو سعید خدری فرماتے ہیں ماعز بن مالک آئے اور انہوں نے تین مرتبہ زنا کا اعتراف کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے متعلق سوال کیا؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم سے انہیں سنگسار کردیا گیا، سو ہم نے انہیں ٹھیکری، چھوٹے چھوٹے پتھر اور ہڈیاں ماریں اور نہ ہم نے ان کے لیے کوئی گڑھا کھودا اور نہ ہم نے ان کو باندھا پس وہ ہم سے آگے حرہ مقام کی طرف دورڑے اور ہم نے ان کاپیچھا کیا سوو ہ ہماری طرف متوجہ ہو کر کھڑے ہوگئے پھر ہم نے انہیں پتھر مارے یہاں تک کہ وہ ساکت ہوگئے اور نہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے لیے استغفار کیا اور نہ ہی ان کو برا بھلا کہا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحدود/حدیث: 30689]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30689، ترقيم محمد عوامة 29368)
ترقیم عوامۃ: 29369 ترقیم الشثری: -- 30690
٣٠٦٩٠ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابو خالد الاحمر عن حجاج عن عبد الملك بن مغيرة الطائفي عن ابن شداد عن ابي ذر قال: كنا مع النبي ﷺ في سفر، فجاء رجل فاقر انه قد زنا فرده النبي ﷺ (١) ثلاثا، فلما كانت الرابعة ونزل، امر به النبي ﷺ فرجم، (وشق) (٢) ذلك عليه، حتى (عرفته) (٣) في وجهه، فلما سري عنه الغضب قال:"يا ابا ذر إن صاحبكم قد غفر له" قال: وكان يقال: إن توبته ان يقام عليه الحد (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، ك]: ﵇.
(٢) في [ك]: (لشق).
(٣) في [ط، هـ]: (عرفت).
(٤) مجهول، ابن شداد هو نسعة مجهول، انظر: الإكمال ٧/ ٢٥٩، وتوضيح المشتبه ٩/ ٢٣٥، الحديث أخرجه أحمد (٢١٥٥٤)، والطحاوي ٣/ ١٤٢، والبزار (٤٠٣٦).
حضرت ابو ذر فرماتے ہیں کہ کسی سفر میں ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے کہ ایک آدمی آیا اور اس نے زنا کا اقرار کیا سو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس شخص کو تین بار واپس لوٹا دیا جب وہ چوتھی بار آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اترے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے متعلق حکم دیا سو اسے سنگسار کردیا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر یہ بات بہت ہی ناگوار گزری یہاں تک کہ اس کا اثر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرہ میں محسوس کیا جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا غصہ ختم ہوگیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابو ذر! تمہارے ساتھی کی مغفرت کردی گئی، راوی نے فرمایا: یوں کہا جاتا تھا، بیشک اس کی توبہ یہ ہے کہ اس پر حد قائم کردی جائے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحدود/حدیث: 30690]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30690، ترقيم محمد عوامة 29369)
ترقیم عوامۃ: 29370 ترقیم الشثری: -- 30691
٣٠٦٩١ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا علي بن مسهر عن الشيباني عن ابن ابي اوفى قال: قلت له: رجم رسول الله ﷺ؟ قال: نعم، (قال) (١) : قلت: (بعد ما) (٢) (انزلت) (٣) سورة النور او قبلها؟ قال: لا ادري (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [جـ، ط، هـ].
(٢) في [ك]: (حد ما).
(٣) في [أ، ح، ط، هـ]: (نزلت).
(٤) صحيح؛ أخرجه البخاري (٦٨١٣)، ومسلم (١٧٠٢).
حضرت شیبانی فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن ابی اوفی سے دریافت کیا: کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سنگسار کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: جی ہاں، میں نے دریافت کیا: سورة نور کے نازل ہونے کے بعد یا اس سے پہلے؟ انہوں نے فرمایا: مجھے نہیں معلوم۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحدود/حدیث: 30691]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30691، ترقيم محمد عوامة 29370)