🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
122. من قال: إذا فجرت -وهي حامل- انتظر بها حتى تضع، ثم ترجم
جو یوں کہے: جب عورت نے بدکاری کی درانحالیکہ وہ حاملہ تھی تو انتظار کیا جائے گا یہاں تک کہ وہ حمل وضع کردے پھر اسے سنگسار کردیا جائے گا
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 29405 ترقیم الشثری: -- 30728
٣٠٧٢٨ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابن نمير قال: حدثنا بشير بن المهاجر قال: حدثنا عبد الله بن بريدة عن ابيه قال: جاءت الغامدية فقالت: يا (نبي) (١) الله إني قد زنيت وإني اريد ان تطهرني، وانه ردها، فلما كان الغد قالت: يا نبي الله (لم) (٢) تردني، (فلعلك) (٣) (٤) ان (ترددني) (٥) كما رددت ماعز بن مالك، فوالله إني ⦗٥٠٥⦘ لحبلى، قال:"اما لا، فاذهبي حتى تلدي"، فلما ولدت اتته بالصبي في خرقة، قالت: هذا قد ولدته، قال:"اذهبي فارضعيه حتى تفطميه"، (فلما فطمته) (٦) اتته بالصبي وفي يده كسرة خبز فقالت: هذا، يا نبي الله قد فطمته، وقد اكل الطعام، فدفع الصبي إلى رجل من المسلمين، ثم امر بها (فحفر لها) (٧) إلى صدرها، وامر الناس فرجموا، فاقبل خالد بن الوليد بحجر (فرمى) (٨) راسها (فانتضخ الدم) (٩) على وجه خالد بن الوليد، فسمع نبي الله ﷺ (١٠) سبه إياها، فقال:"مهلا يا خالد ابن الوليد، فوالذي نفسي بيده لقد تابت توبة لو تابها صاحب مكس لغفر له"، ثم امر بها فصلى عليها ودفنت (١١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (رسول).
(٢) في [ز]: (كلم).
(٣) في [ك]: (فقلت).
(٤) في [هـ]: زيادة (تريد).
(٥) في [أ، ط، هـ]: (تردني).
(٦) سقط من: [ك].
(٧) في [ط]: (فحفر لي).
(٨) في [ط]: (فرماها).
(٩) في [جـ]: (فكما نضحا).
(١٠) سقط من: [أ، ط، هـ].
(١١) صحيح؛ أخرجه مسلم (١٦٩٥)، وأحمد (٢٢٩٤٩).

حضرت بریدہ فرماتے ہیں کہ ایک غامدیہ عورت آئی اور کہنے لگی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! میں نے زنا کیا ہے اور بیشک میں چاہتی ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے پاک کردیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو واپس لوٹا دیا پس جب اگلا دن ہوا اس نے کہا! یا نبی اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے کیوں لوٹا دیا جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ماعز بن مالک کو واپس لوٹا دیا تھا! اللہ کی قسم! بیشک میں حاملہ ہوں! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بالکل نہیں، تم جاؤ یہاں تک کہ تم بچہ پیدا کردو، پس جب اس نے بچہ جنا تو وہ بچہ کو پھٹے پرانے کپڑے میں لے کر آئی اور کہنے لگی: میں نے اس کو جن دیا ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم جاؤ اس کو دودھ پلاؤ یہاں تک کہ اس کا دودھ چھڑا دو پس جب اس عورت نے اس کا دودھ چھڑا دیا تو وہ اس بچہ کو لے کر آئی اس حال میں کہ اس کے ہاتھ میں روٹی کا ٹکڑا تھا۔ اس عورت نے کہا! اے اللہ کے نبی! تحقیق میں نے اس کا دودھ چھڑا دیا ہے اور تحقیق اس نے کھانا کھایا ہے سو اس بچہ کو مسلمانوں میں سے ایک آدمی کے حوالہ کردیا گیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم سے اس کے سینہ تک گھڑا کھودا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو حکم دیا تو لوگوں نے اسے پتھر مارے حضرت خالد بن ولید ایک پتھر لائے اور اس کے سر میں مارا تو اس کے خون کی چھینٹیں حضرت خالد بن ولید کے چہرے پر پڑیں تو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو اس عورت کو برا بھلا کہتے ہوئے سنا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ٹھہرواے خالد بن ولید! پس قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے تحقیق اس نے ایسی توبہ کی ہے اگر چنگی وصول کرنے والا بھی ایسی توبہ کرتا تو اس کی مغفرت کردی جاتی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم سے اس کی نماز جنازہ پڑھی گئی اور اس کو دفن کردیا گیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحدود/حدیث: 30728]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30728، ترقيم محمد عوامة 29405)


Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 30728 in Urdu