🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

122. من قال: إذا فجرت -وهي حامل- انتظر بها حتى تضع، ثم ترجم
جو یوں کہے: جب عورت نے بدکاری کی درانحالیکہ وہ حاملہ تھی تو انتظار کیا جائے گا یہاں تک کہ وہ حمل وضع کردے پھر اسے سنگسار کردیا جائے گا
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 29404 ترقیم الشثری: -- 30727
٣٠٧٢٧ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابو الاحوص عن سماك عن الحسن قال: جاءت امراة من بارق إلى (رسول) (١) الله ﷺ (٢) فقالت: إني قد زنيت فاقم في حد الله، قال: فردها النبي ﵇ حتى شهدت على نفسها شهادات، فقال لها النبي ﷺ (٣) :"ارجعي" (٤) ، فلما وضعت حملها امرها النبي ﷺ فتطهرت ولبست اكفانها ثم امر بها فرجمت، فاصاب خالد بن الوليد من دمها فسبها، فنهاه النبي ﷺ فقال:"لقد تابت توبة لو تابها صاحب مكس لقبل منه" (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ، ك]: (النجي).
(٢) في [ك]: (عليه سلم).
(٣) سقط من: [ك].
(٤) في [ب]: (ارجع).
(٥) مرسل؛ الحسن تابعي، أخرجه هناد في الزهد (٨٩١)، وأبو داود في المراسيل (٢٤٩).

حضرت حسن بصری فرماتے ہیں کہ بارق مقام سے ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور کہنے لگی: بیشک میں نے زنا کیا ہے سو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے بارے میں اللہ کی سزا نافذ فرما دیں! نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو لوٹا دیا یہاں تک کہ اس نے اپنے نفس کے خلاف بہت سی گواہیاں دیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: تم واپس جاؤ پس جب اس نے اپنا حمل وضع کردیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے حکم دیا تو وہ پاک ہوگئی اور اس نے اپنا کفن پہن لیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم سے اسے سنگسار کردیا گیا اس کا کچھ خون حضرت خالد بن ولید کو لگ گیا تو آپ نے اس کو برا بھلا کہا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو منع کیا اور فرمایا: تحقیق اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر چنگی وصول کرنے والا ایسی توبہ کرتا تو اس کی توبہ قبول کرلی جاتی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحدود/حدیث: 30727]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30727، ترقيم محمد عوامة 29404)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 29405 ترقیم الشثری: -- 30728
٣٠٧٢٨ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابن نمير قال: حدثنا بشير بن المهاجر قال: حدثنا عبد الله بن بريدة عن ابيه قال: جاءت الغامدية فقالت: يا (نبي) (١) الله إني قد زنيت وإني اريد ان تطهرني، وانه ردها، فلما كان الغد قالت: يا نبي الله (لم) (٢) تردني، (فلعلك) (٣) (٤) ان (ترددني) (٥) كما رددت ماعز بن مالك، فوالله إني ⦗٥٠٥⦘ لحبلى، قال:"اما لا، فاذهبي حتى تلدي"، فلما ولدت اتته بالصبي في خرقة، قالت: هذا قد ولدته، قال:"اذهبي فارضعيه حتى تفطميه"، (فلما فطمته) (٦) اتته بالصبي وفي يده كسرة خبز فقالت: هذا، يا نبي الله قد فطمته، وقد اكل الطعام، فدفع الصبي إلى رجل من المسلمين، ثم امر بها (فحفر لها) (٧) إلى صدرها، وامر الناس فرجموا، فاقبل خالد بن الوليد بحجر (فرمى) (٨) راسها (فانتضخ الدم) (٩) على وجه خالد بن الوليد، فسمع نبي الله ﷺ (١٠) سبه إياها، فقال:"مهلا يا خالد ابن الوليد، فوالذي نفسي بيده لقد تابت توبة لو تابها صاحب مكس لغفر له"، ثم امر بها فصلى عليها ودفنت (١١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (رسول).
(٢) في [ز]: (كلم).
(٣) في [ك]: (فقلت).
(٤) في [هـ]: زيادة (تريد).
(٥) في [أ، ط، هـ]: (تردني).
(٦) سقط من: [ك].
(٧) في [ط]: (فحفر لي).
(٨) في [ط]: (فرماها).
(٩) في [جـ]: (فكما نضحا).
(١٠) سقط من: [أ، ط، هـ].
(١١) صحيح؛ أخرجه مسلم (١٦٩٥)، وأحمد (٢٢٩٤٩).

حضرت بریدہ فرماتے ہیں کہ ایک غامدیہ عورت آئی اور کہنے لگی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! میں نے زنا کیا ہے اور بیشک میں چاہتی ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے پاک کردیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو واپس لوٹا دیا پس جب اگلا دن ہوا اس نے کہا! یا نبی اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے کیوں لوٹا دیا جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ماعز بن مالک کو واپس لوٹا دیا تھا! اللہ کی قسم! بیشک میں حاملہ ہوں! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بالکل نہیں، تم جاؤ یہاں تک کہ تم بچہ پیدا کردو، پس جب اس نے بچہ جنا تو وہ بچہ کو پھٹے پرانے کپڑے میں لے کر آئی اور کہنے لگی: میں نے اس کو جن دیا ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم جاؤ اس کو دودھ پلاؤ یہاں تک کہ اس کا دودھ چھڑا دو پس جب اس عورت نے اس کا دودھ چھڑا دیا تو وہ اس بچہ کو لے کر آئی اس حال میں کہ اس کے ہاتھ میں روٹی کا ٹکڑا تھا۔ اس عورت نے کہا! اے اللہ کے نبی! تحقیق میں نے اس کا دودھ چھڑا دیا ہے اور تحقیق اس نے کھانا کھایا ہے سو اس بچہ کو مسلمانوں میں سے ایک آدمی کے حوالہ کردیا گیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم سے اس کے سینہ تک گھڑا کھودا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو حکم دیا تو لوگوں نے اسے پتھر مارے حضرت خالد بن ولید ایک پتھر لائے اور اس کے سر میں مارا تو اس کے خون کی چھینٹیں حضرت خالد بن ولید کے چہرے پر پڑیں تو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو اس عورت کو برا بھلا کہتے ہوئے سنا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ٹھہرواے خالد بن ولید! پس قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے تحقیق اس نے ایسی توبہ کی ہے اگر چنگی وصول کرنے والا بھی ایسی توبہ کرتا تو اس کی مغفرت کردی جاتی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم سے اس کی نماز جنازہ پڑھی گئی اور اس کو دفن کردیا گیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحدود/حدیث: 30728]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30728، ترقيم محمد عوامة 29405)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 29406 ترقیم الشثری: -- 30729
٣٠٧٢٩ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا عفان بن مسلم قال: حدثنا ابان العطار قال: حدثني يحيى بن ابي كثير عن ابي قلابة عن ابي المهلب عن عمران بن حصين ان امراة من جهينة اتت النبي ﷺ (١) فقالت: إني اصبت حدا فاقمه علي، وهي حامل، فامر بها ان يحسن إليها حتى تضع، فلما (ان) (٢) وضعت جيء بها إلى رسول الله ﷺ فامر بها (فشكت) (٣) (عليها) (٤) ثيابها، ثم رجمها وصلى عليها فقال عمر: ⦗٥٠٦⦘ يا (نبي) (٥) الله اتصلي عليها (وقد زنت؟) (٦) (فقال) (٧) :"لقد تابت توبة لو قسمت بين سبعين من اهل المدينة لوسعتهم، وهل وجدت افضل من ان جادت بنفسها" (٨) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ك]: ﵇.
(٢) سقط من: [ب].
(٣) في [هـ]: (فسلب)، وفي [أ، ح]: (فسلبت).
(٤) في [ط، هـ]: (عنها).
(٥) في [جـ]: (يا رسول).
(٦) تكرر في: [هـ].
(٧) في [ك]: (قال).
(٨) صحيح؛ أخرجه مسلم (١٦٩٦)، وأحمد (١٩٩٥٤).

حضرت عمران بن حصین فرماتے ہیں کہ قبیلہ جھینہ کی ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور کہنے لگی بیشک مجھ پر حد لازم ہوگئی سو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کو مجھ پر قائم فرمادیں اس حال میں کہ وہ حاملہ تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے بارے میں حکم دیا کہ اس کے ساتھ اچھا سلوک کیا جائے یہاں تک کہ وہ حمل وضع کردے پس جب اس نے حمل وضع کردیا تو اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لایا گیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم سے اس پر کپڑے ڈال دیے گئے پھر اس کو سنگسار کیا اور اس کی نماز جنازہ پڑھی حضرت عمر نے فرمایا: اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کی نماز جنازہ پڑھیں گے حالانکہ اس نے زنا کیا ہے؟ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: البتہ تحقیق اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر اس کی توبہ مدینہ والوں میں سے ستر لوگوں کے درمیان تقسیم کردیا جائے تو وہ ان کو گھیر لے کیا تم کسی کو افضل پاؤ گے اس سے جس نے اپنی جان دیدی ہو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحدود/حدیث: 30729]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30729، ترقيم محمد عوامة 29406)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 29407 ترقیم الشثری: -- 30730
٣٠٧٣٠ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا علي بن مسهر عن الاجلح عن الشعبي قال: اتى علي بشراحة امراة من همذان وهي حبلى من زنا، فامر بها علي فحبست في السجن، فلما وضعت ما في بطنها اخرجها يوم الخميس فضربها مائة سوط ورجمها يوم الجمعة (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) حسن؛ الأجلح صدوق.
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس شراحہ قبیلہ ھمدان کی ایک عورت لائی گئی درآنحالیکہ وہ زنا سے حاملہ تھی حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس کے بارے میں حکم دیا تو اس کو جیل میں قید کردیا گیا پس جب اس نے اپنے پیٹ میں موجود حمل کو وضع کردیا تو اس کو جمعرات کے دن نکالا اور آپ نے اسے سو کو ڑے مارے اور اس کو جمعہ کے دن سنگسار کردیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحدود/حدیث: 30730]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30730، ترقيم محمد عوامة 29407)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 29408 ترقیم الشثری: -- 30731
٣٠٧٣١ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابو معاوية عن الاعمش عن ابي سفيان عن اشياخه ان امراة غاب عنها زوجها ثم جاء وهي حامل فرفعها إلى عمر، فامر برجمها فقال معاذ: إن يكن لك عليها سبيل فلا سبيل لك على ما في بطنها، فقال عمر: احبسوها حتى تضع، فوضعت غلاما له ثنيتان، فلما رآه ابوه قال: ابني (ابني) (١) فبلغ ذلك عمر فقال: عجزت النساء ان يلدن مثل معاذ، لولا معاذ هلك عمر (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ط، هـ].
(٢) مجهول؛ الأشياخ غير معروفين.

حضرت ابو سفیان اپنے شیوخ سے نقل کرتے ہیں کہ ایک عورت کا خاوند غائب ہوگیا تھا پھر وہ واپس آیا اس حال میں کہ اس کی بیوی حاملہ تھی سو اس نے اس عورت کو حضرت عمر کے سامنے پیش کردیا آپ نے اس کو سنگسار کرنے کا حکم دیا اس پر حضرت معاذ نے فرمایا: اگر چہ آپ کے پاس اس عورت کے خلاف جواز موجود ہے لیکن جو بچہ اس کے پیٹ میں موجود ہے اس کے خلاف تو آپ کے پاس کوئی جواز نہیں ہے، تو حضرت عمر نے فرمایا: اس عورت کو قید کردو یہاں تک کہ وہ بچہ جن دے اس عورت نے بچہ جنا درآنحالیکہ اس کے دو دانت تھے۔ جب اس کے باپ نے اسے دیکھا تو کہنے لگا۔ میرا بیٹا میرا بیٹا یہ خبر حضرت عمر کو پہنچی تو آپ نے فرمایا: عورتیں حضرت معاذ جیسے لوگ پیدا کرنے سے عاجز آگئی ہیں۔ اگر معاذ نہ ہوتے تو عمر ہلاک ہوجاتا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحدود/حدیث: 30731]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30731، ترقيم محمد عوامة 29408)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 29409 ترقیم الشثری: -- 30732
٣٠٧٣٢ - [حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابو خالد الاحمر عن حجاج عن الحسن ابن سعد عن عبد الرحمن بن عبد الله قال: اتى علي بامراة قد زنت فحبسها حتى ⦗٥٠٧⦘ وضعت و (تعلت) (١) من نفاسها] (٢) (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (نعلت)، وفي [ع]: (نقلت).
(٢) سقط الخبر من: [أ، ط، هـ].
(٣) منقطع حكمًا؛ حجاج مدلس.

حضرت عبدالرحمن بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس ایک عورت لائی گئی تحقیق اس نے زنا کیا تھا تو آپ نے اسے قید کردیا یہاں تک کہ اس نے بچہ جنا اور اس کے نفاس کا خون بند ہوا اور وہ پاک ہوگئی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحدود/حدیث: 30732]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30732، ترقيم محمد عوامة 29409)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 29410 ترقیم الشثری: -- 30733
٣٠٧٣٣ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابو خالد الاحمر عن حجاج عن القاسم عن ابيه عن علي مثله (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) منقطع حكمًا؛ حجاج مدلس.
حضرت عبدالرحمن سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا مذکورہ ارشاد بعینہ اس سند سے بھی منقول ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحدود/حدیث: 30733]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30733، ترقيم محمد عوامة 29410)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 29411 ترقیم الشثری: -- 30734
٣٠٧٣٤ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا عبيد الله بن موسى عن الحسن بن صالح عن سماك قال: حدثني (ذهل) (١) بن كعب قال: اراد عمر ان يرجم المراة التي فجرت وهي حامل، فقال له معاذ: إذا تظلمها ارايت الذي في بطنها ما ذنبه؟ علام تقتل نفسين بنفس واحدة؟ فتركها حتى وضعت حملها، ثم رجمها (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط، هـ]: (فضل).
(٢) مجهول؛ لجهالة ذهل بن كعب.

حضرت ذھل بن کعب فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے اس عورت کو سنگسار کرنے کا ارادہ کیا جس نے بدکاری کی تھی اور وہ حاملہ تھی حضرت معاذ نے آپ سے فرمایا: تب تو آپ اس پر ظلم کرو گے آپ کی کیا رائے ہے اس جان کے بارے میں جو اس کے پیٹ میں موجود ہے۔ اس کا کیا گناہ ہے؟ کس وجہ سے آپ ایک جان کے بدلے دو جانوں کو قتل کرو گے؟ سو آپ نے اس عورت کو چھوڑ دیا یہاں تک کہ اس نے اپنا حمل وضع کیا پھر آپ نے اسے سنگسار کیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحدود/حدیث: 30734]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30734، ترقيم محمد عوامة 29411)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 29412 ترقیم الشثری: -- 30735
٣٠٧٣٥ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع عن شعبة عن المنهال عن زاذان ان عليا امر بها فلفت في (عباءة) (١) (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ط، هـ]: (عباء).
(٢) صحيح.

حضرت زاذان فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے حکم سے عورت کو چوغہ میں مکمل لپیٹ دیا گیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحدود/حدیث: 30735]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30735، ترقيم محمد عوامة 29412)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 29413 ترقیم الشثری: -- 30736
٣٠٧٣٦ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا عبد الرحيم (بن سليمان) (١) عن صالح بن صالح عن عبد الرحمن بن سعيد الهمداني عن مسعود رجل من آل ابي الدرداء: ان عليا لما رجم شراحة جعل الناس يلعنونها فقال: ايها الناس، لا تلعنوها، فإنه من ⦗٥٠٨⦘ اقيم عليه عصا حد فهو كفارته، جزاء الدين بالدين (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ح، ط، هـ].
(٢) مجهول؛ لجهالة مسعود.

حضرت مسعود جو آل ابو الدرداء کے ایک فرد ہیں وہ فرماتے ہیں کہ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ نے شراحہ کو سنگسار کیا تو لوگوں نے اس پر لعن طعن کرنا شروع کردیا۔ اس پر آپ نے فرمایا اے لوگو! اس پر لعن طعن مت کرو۔ اس لیے کہ جس شخص پر سزا کا کوڑا مار دیا جائے تو وہ اس کا کفارہ ہوجاتا ہے قرض کی جزا قرض کے بدلے میں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحدود/حدیث: 30736]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30736، ترقيم محمد عوامة 29413)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں