مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
124. في الشهادة على الزنا، كيف هي؟
زنا کی گواہی دینے کے بیان میں کہ وہ کیسے دی جائے گی؟
ترقیم عوامۃ: 29421 ترقیم الشثری: -- 30745
٣٠٧٤٥ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابو اسامة عن عوف عن قسامة بن زهير قال: لما كان من شان ابي بكرة والمغيرة بن شعبة الذي كان، قال ابو (بكرة) (١) : (اجتنب) (٢) او تنح عن صلاتنا، فإنا لا نصلي خلفك، قال: فكتب (إلى) (٣) عمر في شانه، قال: فكتب (عمر) (٤) إلى (المغيرة) (٥) : اما بعد، فإنه قد رقى إلي من حديثك حديثا (٦) ، فإن يكن مصدوقا عليك (فلان تكون) (٧) مت قبل اليوم خير لك، قال: فكتب إليه وإلى الشهود: ان يقبلوا إليه، فلما انتهوا إليه دعا الشهود، فشهدوا، فشهد ابو بكرة وشبل ابن معبد وابو عبد الله نافع، (قال) (٨) : فقال عمر حين (شهد) (٩) هؤلاء الثلاثة: (اودى) (١٠) المغيرة اربعة، وشق على عمر شانه جدا، ⦗٥١١⦘ فلما قام زياد قال: (لن) (١١) تشهد إن شاء الله إلا بحق، ثم شهد (فقال) (١٢) : اما الزنا فلا اشهد به، ولكني (قد) (١٣) رايت امرا قبيحا، فقال عمر: الله اكبر حدوهم، فجلدوهم، فلما فرغ من جلد ابي بكرة قام ابو بكرة فقال: اشهد انه زان، (فهم) (١٤) عمر (ان) (١٥) يعيد عليه الحد، فقال علي: إن جلدته فارجم صاحبك (١٦) ، فتركه فلم يجلد (في) (١٧) قذف مرتين بعد (١٨) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (بكر).
(٢) في [ط]: (إخشب).
(٣) سقط من: [أ، ب، ط].
(٤) سقط من: [جـ].
(٥) في [أ، ب، ط]: (المدينة).
(٦) كذا بالنصب في النسخ.
(٧) في [أ، ب]: (فلا يكون)، وفي [هـ]: (فلأن يكون).
(٨) سقط من: [ط، هـ].
(٩) في [أ، ب، جـ، ك، ط]: (شهدوا).
(١٠) في [أ، هـ]: (أود).
(١١) في [هـ]: (إن)، وفي [ط]: (لم).
(١٢) في [ط، هـ]: (قال).
(١٣) سقط من: [ط، هـ].
(١٤) في [جـ، ك]: (فذهب).
(١٥) سقط من: [جـ، ك].
(١٦) في هامش [أ]: صاحبك يعني المغيرة، وذلك أنه إذا ترتب حد القذف مرة أخرى بسبب قذفه مرة أخرى بعد الحد، كان ذلك دليلًا على أن قذفه الأخير بمثابة شاهد رابع، وبالشهود الأربعة يقوم الرجم على المغيرة لا محالة، واللَّه أعلم.
(١٧) في [هـ]: (فما).
(١٨) منقطع؛ قسامة بن زهير لم يدرك الواقعة.
حضرت قسامہ بن زھیر فرماتے ہیں کہ جب حضرت ابو بکرہ اور حضرت مغیرہ بن شعبہ کا معاملہ ہوا تھا تو وہ اس طرح تھا حضرت ابو بکرہ نے کہا: دور رہو ہماری نمازوں سے بیشک ہم تمہارے پیچھے نماز نہیں پڑھیں گے سو حضرت مغیرہ نے ان کے بارے میں حضرت عمر کو خط لکھا: حضرت عمر نے حضرت مغیرہ کو جواب لکھا کہ: حمدو صلوٰۃ کے بعد بیشک اس نے مجھے تمہاری باتوں میں سے ایک بات پہنچائی ہے پس اگر وہ تمہارے خلاف سچی ہے تو ضرور تمہارا آج کے دن سے پہلے مرجانا تمہارے لیے بہتر تھا۔ اور پھر آپ نے ان کو اور گواہوں کو خط لکھا کہ وہ سب میرے پاس آئیں۔ پس جب وہ سب لوگ حضرت عمر کے پاس پہنچ گئے تو آپ نے گواہوں کو بلایا سو انہوں نے گواہی دی پس حضرت ابو بکرہ، حضرت شبل بن معبد اور ابو عبداللہ نافع نے گواہی دی راوی کہتے ہیں: جب یہ تینوں گواہی دے چکے تو حضرت عمر نے فرمایا: مغیرہلاک ہوگیا چوتھے آدمی آئے! اور حضرت عمر پر ان کی یہ حالت بہت بھاری گزری۔ سو جب زیاد کھڑا ہوا تو آپ نے فرمایا: یہ ہرگز گواہی نہیں دے گا ان شاء اللہ مگر حق بات کی پھر اس نے گواہی دی اور کہا: جہاں تک زنا کا تعلق ہے تو میں اس کی گواہی نہیں دیتا لیکن تحقیق میں نے فحش معاملہ دیکھا ہے اس پر حضرت عمر نے فرمایا: اللہ اکبر ان تینوں کو کوڑے مارو سو آپ نے ان کو کوڑے مارے پس جب حضرت ابو بکرہ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے: میں گواہی دیتا ہوں کہ بیشک وہ زانی ہے! سو حضرت عمر ان پر دوبارہ حد جاری کرنے کے لیے جانے لگے اس پر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر تم اس کو کوڑے مارتے ہو تو اپنے ساتھی کو بھی سنگسار کرو! پس حضرت عمر نے ان کو چھوڑ دیا اور ایک تہمت میں دو مرتبہ اس کے بعد کوڑے نہیں مارے گئے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحدود/حدیث: 30745]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30745، ترقيم محمد عوامة 29421)
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 30745 in Urdu