🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

124. في الشهادة على الزنا، كيف هي؟
زنا کی گواہی دینے کے بیان میں کہ وہ کیسے دی جائے گی؟
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 29419 ترقیم الشثری: -- 30743
٣٠٧٤٣ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابن علية عن التيمي عن ابي عثمان قال: لما (شهد) (١) ابو بكرة وصاحباه على المغيرة، جاء زياد فقال له عمر: رجل لن يشهد إن شاء الله إلا بحق، قال: رايت انبهارا ومجلسا سيئا فقال عمر: هل رايت المرود دخل المكحلة؟ قال: لا، قال: فامر بهم فجلدوا (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ط، هـ]: (قدم).
(٢) صحيح.

حضرت ابو عثمان فرماتے ہیں کہ جب حضرت ابو بکرہ اور ان کے دو ساتھیوں نے حضرت مغیرہ کے خلاف گواہی دے دی تو زیاد آئے حضرت عمر نے ان سے فرمایا: ایک آدمی ہرگز گواہی نہیں دے گا ان شاء اللہ مگر حق بات کی۔ اس نے کہا: میں نے حیران کن بات اور بری مجلس دییھت اس پر حضرت عمر نے پوچھا کیا تو نے سلائی کو سرمہ دانی میں داخل ہونے کی طرح دیکھا؟ اس نے کہا نہیں حضرت عمر نے ان کے متعلق حکم دیا تو ان سب کو کوڑے مارے گئے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحدود/حدیث: 30743]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30743، ترقيم محمد عوامة 29419)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 29420 ترقیم الشثری: -- 30744
٣٠٧٤٤ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا يحيى بن آدم قال: حدثنا حماد بن زيد عن يحيى بن عتيق عن ابن سيرين ان اناسا شهدوا على رجل في زنا قال: فقال عثمان ⦗٥١٠⦘ بيده: هكذا تشهدون انه: (و) (١) جعل يدخل إصبعه السبابة في إصبعه اليسرى وقد عقدها عشرا (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب، ط].
(٢) منقطع؛ ابن سيرين لا يروي عن عثمان.

حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ چند لوگوں نے ایک آدمی کے خلاف زنا کی گواہی دی تو حضرت عثمان نے اپنا ہاتھ اس طرح کر کے فرمایا: تم اس بات کی گواہی دیتے ہو، اور آپ نے اپنی شہادت کی انگلی کو اپنی بائیں انگلی میں ڈالا اور دس کا عدد بنایا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحدود/حدیث: 30744]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30744، ترقيم محمد عوامة 29420)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 29421 ترقیم الشثری: -- 30745
٣٠٧٤٥ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابو اسامة عن عوف عن قسامة بن زهير قال: لما كان من شان ابي بكرة والمغيرة بن شعبة الذي كان، قال ابو (بكرة) (١) : (اجتنب) (٢) او تنح عن صلاتنا، فإنا لا نصلي خلفك، قال: فكتب (إلى) (٣) عمر في شانه، قال: فكتب (عمر) (٤) إلى (المغيرة) (٥) : اما بعد، فإنه قد رقى إلي من حديثك حديثا (٦) ، فإن يكن مصدوقا عليك (فلان تكون) (٧) مت قبل اليوم خير لك، قال: فكتب إليه وإلى الشهود: ان يقبلوا إليه، فلما انتهوا إليه دعا الشهود، فشهدوا، فشهد ابو بكرة وشبل ابن معبد وابو عبد الله نافع، (قال) (٨) : فقال عمر حين (شهد) (٩) هؤلاء الثلاثة: (اودى) (١٠) المغيرة اربعة، وشق على عمر شانه جدا، ⦗٥١١⦘ فلما قام زياد قال: (لن) (١١) تشهد إن شاء الله إلا بحق، ثم شهد (فقال) (١٢) : اما الزنا فلا اشهد به، ولكني (قد) (١٣) رايت امرا قبيحا، فقال عمر: الله اكبر حدوهم، فجلدوهم، فلما فرغ من جلد ابي بكرة قام ابو بكرة فقال: اشهد انه زان، (فهم) (١٤) عمر (ان) (١٥) يعيد عليه الحد، فقال علي: إن جلدته فارجم صاحبك (١٦) ، فتركه فلم يجلد (في) (١٧) قذف مرتين بعد (١٨) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (بكر).
(٢) في [ط]: (إخشب).
(٣) سقط من: [أ، ب، ط].
(٤) سقط من: [جـ].
(٥) في [أ، ب، ط]: (المدينة).
(٦) كذا بالنصب في النسخ.
(٧) في [أ، ب]: (فلا يكون)، وفي [هـ]: (فلأن يكون).
(٨) سقط من: [ط، هـ].
(٩) في [أ، ب، جـ، ك، ط]: (شهدوا).
(١٠) في [أ، هـ]: (أود).
(١١) في [هـ]: (إن)، وفي [ط]: (لم).
(١٢) في [ط، هـ]: (قال).
(١٣) سقط من: [ط، هـ].
(١٤) في [جـ، ك]: (فذهب).
(١٥) سقط من: [جـ، ك].
(١٦) في هامش [أ]: صاحبك يعني المغيرة، وذلك أنه إذا ترتب حد القذف مرة أخرى بسبب قذفه مرة أخرى بعد الحد، كان ذلك دليلًا على أن قذفه الأخير بمثابة شاهد رابع، وبالشهود الأربعة يقوم الرجم على المغيرة لا محالة، واللَّه أعلم.
(١٧) في [هـ]: (فما).
(١٨) منقطع؛ قسامة بن زهير لم يدرك الواقعة.

حضرت قسامہ بن زھیر فرماتے ہیں کہ جب حضرت ابو بکرہ اور حضرت مغیرہ بن شعبہ کا معاملہ ہوا تھا تو وہ اس طرح تھا حضرت ابو بکرہ نے کہا: دور رہو ہماری نمازوں سے بیشک ہم تمہارے پیچھے نماز نہیں پڑھیں گے سو حضرت مغیرہ نے ان کے بارے میں حضرت عمر کو خط لکھا: حضرت عمر نے حضرت مغیرہ کو جواب لکھا کہ: حمدو صلوٰۃ کے بعد بیشک اس نے مجھے تمہاری باتوں میں سے ایک بات پہنچائی ہے پس اگر وہ تمہارے خلاف سچی ہے تو ضرور تمہارا آج کے دن سے پہلے مرجانا تمہارے لیے بہتر تھا۔ اور پھر آپ نے ان کو اور گواہوں کو خط لکھا کہ وہ سب میرے پاس آئیں۔ پس جب وہ سب لوگ حضرت عمر کے پاس پہنچ گئے تو آپ نے گواہوں کو بلایا سو انہوں نے گواہی دی پس حضرت ابو بکرہ، حضرت شبل بن معبد اور ابو عبداللہ نافع نے گواہی دی راوی کہتے ہیں: جب یہ تینوں گواہی دے چکے تو حضرت عمر نے فرمایا: مغیرہلاک ہوگیا چوتھے آدمی آئے! اور حضرت عمر پر ان کی یہ حالت بہت بھاری گزری۔ سو جب زیاد کھڑا ہوا تو آپ نے فرمایا: یہ ہرگز گواہی نہیں دے گا ان شاء اللہ مگر حق بات کی پھر اس نے گواہی دی اور کہا: جہاں تک زنا کا تعلق ہے تو میں اس کی گواہی نہیں دیتا لیکن تحقیق میں نے فحش معاملہ دیکھا ہے اس پر حضرت عمر نے فرمایا: اللہ اکبر ان تینوں کو کوڑے مارو سو آپ نے ان کو کوڑے مارے پس جب حضرت ابو بکرہ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے: میں گواہی دیتا ہوں کہ بیشک وہ زانی ہے! سو حضرت عمر ان پر دوبارہ حد جاری کرنے کے لیے جانے لگے اس پر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر تم اس کو کوڑے مارتے ہو تو اپنے ساتھی کو بھی سنگسار کرو! پس حضرت عمر نے ان کو چھوڑ دیا اور ایک تہمت میں دو مرتبہ اس کے بعد کوڑے نہیں مارے گئے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحدود/حدیث: 30745]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30745، ترقيم محمد عوامة 29421)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 29422 ترقیم الشثری: -- 30746
٣٠٧٤٦ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابو داود الطيالسي عن ابي خلدة قال: لقيني سعيد بن (ارطبان) (١) عم (ابن عون) (٢) فقال: (اتريد) (٣) ان تاتي ابا العالية؟ (قلت) (٤) : نعم، قال: فقل له: شهد الحسن وابن سيرين وثابت البناني على امراة ورجل انهما زنيا، واقرت المراة وانكر الرجل، فسالت ابا العالية عن ذلك فقال: ⦗٥١٢⦘ لقيت رجلا من اهل الاهواء يجلد الحسن ثمانين ومحمدا ثمانين وثابتا ثمانين، وترجم المراة باعترافها، ويذهب الرجل ليس عليه شيء.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (أرطأة).
(٢) في [جـ، ك]: (ابن عوف)، وفي [أ، هـ]: (أبي عون).
(٣) في [أ، ط، هـ]: (تريد).
(٤) في [أ، ح، هـ]: (قال).

حضرت ابو خلدہ فرماتے ہیں کہ سعید بن ارطبان جو حضرت ابن عون کے چچا ہیں ان کی مجھ سے ملاقات ہوئی وہ کہنے لگے کیا تمہارا حضرت ابو العالیہ کے پاس جانے کا ارادہ ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں انہوں نے کہا! تم ان سے کہنا حضرت حسن بصری، حضرت ابن سیرین اور حضرت ثابت بنانی ان سب حضرات نے ایک آدمی اور ایک عورت کے خلاف گواہی دی ہے کہ ان دونوں نے زنا کیا ہے اور اس عورت نے اقرار کرلیا اور آدمی نے انکار کردیا تو کیا حکم ہے؟ راوی کہتے ہیں، پس میں نے حضرت ابو العالیہ سے اس کے متعلق سوال کیاٖ انہوں نے فرمایا: تمہاری نفس پرستوں میں سے کسی آدمی سے ملاقات ہوئی ہے حسن بصری کو اسی کوڑے مارے جائیں گے اور محمد کو اسی کوڑے مارے جائیں گے اور ثابت بنانی کو اسی کوڑے اور اس عورت کو اعتراف کرنے کی وجہ سے سنگسار کردیا جائے گا اور آدمی چلا جائے گا اور اس پر کوئی سزا لاگو نہیں ہوگی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحدود/حدیث: 30746]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30746، ترقيم محمد عوامة 29422)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 29423 ترقیم الشثری: -- 30747
٣٠٧٤٧ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا (هشيم) (١) عن مغيرة عن الشعبي ان اليهود قالوا للنبي ﵇ (٢) : ما حد ذلك -يعنون الرجم، قال:"إذا شهد) (٣) اربعة انهم راوه يدخل كلما يدخل الميل في المكحلة فقد وجب الرجم" (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، ط]: (هشام).
(٢) في [جـ]: ﷺ.
(٣) في [أ، ح، ز، ط، هـ]: (شهدوا).
(٤) مرسل؛ الشعبي تابعي.

حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ یہودیوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا: اس کی حد کیا ہے یعنی سنگسار کرنے کی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب چار آدمی گواہی دے دیں کہ بیشک انہوں نے اس شخص کو داخل کرتے ہوئے دیکھا ہے جیسا کہ سلائی سرمہ دانی میں داخل کرتے ہیں تو تحقیق رجم ثابت ہوگیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحدود/حدیث: 30747]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30747، ترقيم محمد عوامة 29423)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 29424 ترقیم الشثری: -- 30748
٣٠٧٤٨ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابن فضيل عن الشيباني عن الشعبي قال: إذا شهد اربعة على شيء منعوا ظهورهم وجازت شهادتهم.
حضرت شیبانی فرماتے ہیں کہ حضرت شعبی نے ارشاد فرمایا: جب چار آدمیوں نے کسی چیز کی گواہی دی تو انہوں نے اپیب پشتوں کی حفاظت کرلی اور ان کی گواہی جائز ہوگی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحدود/حدیث: 30748]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30748، ترقيم محمد عوامة 29424)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 29425 ترقیم الشثری: -- 30749
٣٠٧٤٩ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا حفص بن غياث عن جعفر عن ابيه قال: قال (علي) (١) : ما احب ان اكون اول الشهود الاربعة (٢) (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ح، ط، ك، هـ].
(٢) زيادة في [جـ]: (في الرجل يشهد عليه).
(٣) منقطع؛ أبو جعفر لم يدرك عليًّا.

حضرت جعفر کے والد فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: میں پسند نہیں کرتا کہ میں چار میں سب سے پہلا گواہ ہوں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحدود/حدیث: 30749]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30749، ترقيم محمد عوامة 29425)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں