مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
1. كتاب أقضية رسول الله ﷺ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلوں کی کتاب
ترقیم عوامۃ: 29660 ترقیم الشثری: -- 31001
٣١٠٠١ - (حدثنا ابو بكر قال) (١) : حدثنا سفيان بن عيينة عن الزهري عن عبيد الله عن زيد بن خالد وشبل و (ابي) (٢) هريرة قالوا: كنا عند النبي ﷺ فاتاه رجل فقال: انشدك الله إلا قضيت بيننا بكتاب الله، فقال خصمه وكان افقه منه: اجل يا رسول الله اقض بيننا بكتاب الله وائذن لي حتى اقول، (قال:"قل" قال) (٣) : إن ابني كان عسيفا على هذا، والعسيف الاجير، وانه زنى بامراته فافتديت منه بمائة (شاة) (٤) وخادم، فسالت (رجالا) (٥) من اهل العلم فاخبرت ان على ابني جلد مائة وتغريب عام، وان على امراة هذا الرجم، فقال: النبي ﷺ:"والذي نفسي بيده لاقضين بينكما بكتاب الله: المائة شاة والخادم رد عليك، وعلى ابنك جلد مائة وتغريب عام، واغد يا انيس على امراة هذا، فإن اعترفت فارجمها" (٦) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب، جـ، ط، ك].
(٢) في [أ، ب، ط]: (أبو).
(٣) بياض في: [جـ].
(٤) بياض في [جـ]، وسقط من: [أ، ط].
(٥) في [أ، ب، ط]: (رجل).
(٦) صحيح؛ وهم ابن عينية في ذكر شبل فيه، أخرجه أحمد (١٧٠٤٢)، والترمذي (١٤٣٣)، والنسائي ٨/ ٢٤١، وابن ماجه (٢٥٤٩)، والشافعي في السنن (٥٣١)، والحميدي (٨١١)، وابن الجارود (٨١١)، وابن أبي عاصم في الآحاد (١١١٣)، والطحاوي ٣/ ١٣٤، والبيهقي ٨/ ٢٢٢، والطبراني (٥١٩٢)، وأصله عند البخاري (٦٨٢٧)، ومسلم (١٦٩٧).
حضرت زید بن خالد اور شبل اور ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تھے کہ ایک آدمی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میں آپ کو اللہ کا واسطہ دیتا ہوں مگر یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے مابین کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ فرمائیں۔ تو اس کا مخالف جو کہ اس سے زیادہ سمجھ دار تھا کہنے لگا! جی ہاں اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ ہمارے درمیان کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ فرمائیں اور مجھے اجازت دیجئے کہ میں کچھ کہوں! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کہو! اس نے کہا کہ میرا بیٹا اس شخص کے پاس ملازم تھا تو اس نے اس کی بیوی کے ساتھ زنا کیا تو میں نے اس کے فدیہ میں سو بکریاں اور خادم دیا پھر علماء سے اس کے متعلق پوچھا؟ تو انہوں نے مجھے بتایا کہ میرے بیٹے کو سو کوڑے سزا اور ایک سال کی جلا وطنی ہوگی اور اس شخص کی بیوی کو سنگسار کیا جائے گا۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے کہ میں ضرور بالضرور تمہارے درمیان کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ کروں گا! سو بکریاں اور خادم تمہیں واپس دیے جائیں گے اور تمہارے بیٹے کو سو کوڑے اور ایک سال کی جلا وطنی کی سزاملے گی۔ اور اے انیس! اس عورت کے پاس جاؤ اگر وہ زنا کا اقرار کرے تو اسے سنگسار کردو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب أقضية رسول الله ﷺ/حدیث: 31001]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31001، ترقيم محمد عوامة 29660)
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 31001 in Urdu