مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
1. كتاب أقضية رسول الله ﷺ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلوں کی کتاب
ترقیم عوامۃ: 29715 ترقیم الشثری: -- 31063
٣١٠٦٣ - حدثنا محمد بن بشر (قال) (١) : (حدثنا) (٢) ابن ابي عروبة عن قتادة ⦗٨٨⦘ (ان) (٣) سليمان بن يسار (٤) قال: القسامة حق قضى بها النبي ﷺ: بينما الانصار عند رسول الله ﷺ إذ خرج رجل منهم، ثم خرجوا من عند رسول الله ﷺ فإذا هم (بصاحبهم) (٥) يتشحط في دمه، فرجعوا إلى رسول الله ﷺ فقالوا: قتلتنا (يهود) (٦) وسموا رجلا منهم ولم تكن لهم بينة، فقال لهم رسول الله ﷺ:"شاهدان من غيركم، حتى ادفعه إليكم برمته"، (فلم يكن لهم بينة فقال: استحقوا (بخمسين) (٧) قسامة، ادفعه إليكم برمته) (٨) ، قالوا: إنا نكره إن نحلف على غيب، فاراد رسول الله ﷺ ان ياخذ قسامة اليهود بخمسين منهم، فقالت الانصار: يا رسول الله، إن اليهود لا يبالون الحلف، متى نقبل هذا منهم ياتونا على آخرنا، فوداه رسول الله ﷺ من عنده (٩) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب، جـ، ز، ط، ك].
(٢) سقط من: [ز].
(٣) في [ط، هـ]: (عن).
(٤) في [هـ]: زيادة (و).
(٥) في [ط، هـ]: (بصاحبه).
(٦) في [ط، ع، هـ]: (اليهود).
(٧) سقط من: [أ، ط، هـ].
(٨) سقط من: [س].
(٩) مرسل؛ سليمان بن يسار تابعي، أخرجه البيهقي في المعرفة (١٦٣٧١)، وورد من حديث سليمان بن يسار عن رجل من الأنصار، أخرجه مسلم (١٦٧٠)، وأحمد (١٦٦٤٩).
حضرت سلیمان بن یسار فرماتے ہیں کہ قسامت کا معاملہ برحق ہے، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا فیصلہ فرمایا ہے۔ ہم انصار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تھے کہ انصار میں سے ایک آدمی نکل گیا، اچانک انہوں نے اپنے ساتھی کو دیکھا کہ وہ خون میں لت پت پڑا تڑپ رہا ہے! تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس واپس لوٹے اور کہنے لگے کہ یہود نے ہمارے آدمی کو قتل کردیا اور انہوں نے یہود کے ایک آدمی کا نام لیا، اور ان لوگوں کے پاس گواہی نہیں تھی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: تمہارے علاوہ اگر دو گواہ گواہی دیں تو میں اس کو تمہارے حوالے کر دوں؟ پس ان کے پاس گواہی نہیں تھی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ پچاس قسمیں اٹھا لو میں اس کو تمہارے حوالہ کر دوں گا؟ تو انصار کہنے لگے: ہم ناپسند کرتے ہیں کہ اَن دیکھی بات پر قسم اٹھائیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پچاس یہودیوں سے قسمیں لینا چاہیں تو انصار کہنے لگے: اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)! بیشک یہود قسم کی پروا نہیں کرتے ہم کس طرح ان کی قسمیں قبول کرلیں یہ تو پھر ہمارے دوسرے لوگوں کو مار دیا کریں گے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس مقتول کی اپنے پاس سے دیت عطاء فرمائی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب أقضية رسول الله ﷺ/حدیث: 31063]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31063، ترقيم محمد عوامة 29715)
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 31063 in Urdu