مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
21. ما يقال: في دبر الصلوات؟
نماز کے بعد جو کلمات کہے جاتے ہیں
ترقیم عوامۃ: 29873 ترقیم الشثری: -- 31228
٣١٢٢٨ - حدثنا ابن فضيل عن عطاء بن السائب عن (ابيه) (١) قال: اتى علي بن ابي طالب ﵁ (٢) عند فاطمة ﵂ (٣) فقال: إني اشتكي صدري مما (امد بالغرب) (٤) قالت: وانا (والله) (٥) إني اشتكي يدي مما اطحن الرحا، فقال لها: (ائتي) (٦) النبي ﷺ فقد اتاه (سبي) (٧) ، (ائتيه) (٨) لعله يخدمك خادما، (فانطلقا) (٩) إلى النبي ﷺ، فاتاهما فقال:"إنكما جئتماني لاخدمكما خادما وإني ساخبركما بما هو خير لكما من الخادم، فإن شئتما اخبرتكما بما هو خير لكما من الخادم: (تسبحانه) (١٠) دبر كل صلاة ثلاثا وثلاثين، وتحمدانه ثلاثا وثلاثين، وتكبرانه اربعا وثلاثين، وإذا اخذتما مضاجعكما من الليل فتلك (مائة) (١١) ، قال علي ﵁ (١٢) : (فما) (١٣) (اعلمني) (١٤) (تركتها) (١٥) بعد؛ قال له ⦗١٤٦⦘ (عبد الله) (١٦) بن الكواء: ولا ليلة صفين؟ فقال له علي: قاتلكم الله يا اهل العراق، ولا ليلة (صفين) (١٧) (١٨) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ، ك]: (أمه).
(٢) سقط من: [أ، ب، جـ، ك].
(٣) سقط من: [أ، ب، جـ، ك].
(٤) في [أ، هـ]: (أجد بالقرب).
(٥) تكرر في: [ك].
(٦) في [أ، ب، جـ، ك]: (أيت)، وفي [ط]: (أبيت).
(٧) في [ط]: (صبي).
(٨) في [ب، ك]: (إينه).
(٩) في [جـ، ك]: (فانطلقنا)، وفي [ط، هـ]: (فانطلقت).
(١٠) في [ط]: (تسبحان).
(١١) سقط من: [ط].
(١٢) سقط من: [أ، ب، جـ، ك].
(١٣) سقط من: [ط].
(١٤) في [م]: (أعلم أني).
(١٥) في [ب]: (تركتهما)، وفي [جـ]: (تركها).
(١٦) سقط من: [هـ].
(١٧) في [ط، هـ]: (الصفين).
(١٨) مضطرب، رواية ابن فضيل عن عطاء متأخرة وفيها تخاليط، ولكن الحديث رواه المتقدمون عن عطاء فيصح، والحديث أخرجه أحمد (٧٣٨)، وابن ماجه (٤١٥٢)، وابن سعد ٨/ ٢٥، والبزار (٧٥٧)، والحميدي (٤٤)، والنسائي ٦/ ١٤٥، والضياء (٤٦٨)، وأصله عند البخاري (٥٣٦١)، ومسلم (٢٧٢٧)، وليس فيه دبر كل صلاة وإنما فيهما (إذا أخذتما مضاجعكما).
حضرت سیائب فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ حضرت فاطمۃ الزہرائ کے پاس تشریف لائے اور فرمانے لگے: کنویں کا ڈول کھینچنے کی وجہ سے میرا سینہ درد کر رہا ہے، تو حضرت فاطمۃ الزہرائ نے فرمایا: اللہ کی قسم! چکی پیسنے کی وجہ سے میرے ہاتھوں میں بھی درد رہتا ہے، پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا: تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جاؤ، تحقیق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس چند غلام آئے ہیں، تم ان کے پاس جاؤ تو شاید وہ تمہیں خدمت کے لیے کوئی خادم عطا فرما دیں۔ پھر یہ دونوں حضرات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف چلے جب دونوں پہونچے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم دونوں میرے پاس اس لیے آئے ہو کہ میں تمہیں خدمت کے لیے کوئی خادم عطا کروں، اور یقینا میں تمہیں عنقریب ایک ایسی چیز بتاؤں گا جو تمہارے لیے خادم سے بھی بہتر ہوگی، اور اگر تم چاہو تو میں تمہیں وہ چیز بتادوں جو تمہارے حق میں خادم سے بھی بہتر ہے: ”تم دونوں ہر نماز کے بعد اور جب رات کو بستر پر لیٹنے لگو تو تینتیس (٣٣) مرتبہ سبحان اللہ، تینتیس (٣٣) مرتبہ الحمد للہ، اور چونتیس (٣٤) مرتبہ اللہ اکبر کہہ لیا کرو، تو یہ پورے سو (١٠٠) ہوجائیں گے۔“ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: مجھے یاد نہیں اس کے بعد کبھی میں نے ان کلمات کو چھوڑا ہو، اس پر عبد اللہ بن الکواء کہنے لگا: جنگ صفین کی رات کو بھی نہیں، تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے عرا ق والو! اللہ تمہیں ہلاک کرے، جنگ صفین کی رات کو بھی نہیں چھوڑے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31228]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31228، ترقيم محمد عوامة 29873)
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 31228 in Urdu