🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

21. ما يقال: في دبر الصلوات؟
نماز کے بعد جو کلمات کہے جاتے ہیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 29862 ترقیم الشثری: -- 31214
٣١٢١٤ - حدثنا اسباط عن عمرو بن قيس عن الحكم عن عبد الرحمن بن ابي ليلى عن كعب (١) بن عجرة قال: قال رسول الله ﷺ:"معقبات لا يخيب قائلهن (سبحان) (٢) الله في دبر كل صلاة ثلاثا وثلاثين، و (تحمد) (٣) ثلاثا وثلاثين، و (تكبر) (٤) اربعا وثلاثين" (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ح، ط، هـ]: زيادة (عن عبد الرحمن).
(٢) في [هـ]: (تسبح).
(٣) في [هـ]: (تحمده).
(٤) في [هـ]: (تكبره).
(٥) صحيح؛ أخرجه مسلم (٥٩٦)، والترمذي (٩٨١٢)، والنسائي في الكبرى (٩٩٨٣).

حضرت کعب بن عجرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: چند پیچھے آنے والے کلمات ایسے ہیں کہ ان کا کہنے والا کبھی خسارہ میں نہیں ہوتا، ہر نماز کے بعد، سبحان اللہ تینتیس مرتبہ (٣٣)، الحمد للہ تینتیس مرتبہ (٣٣)، اللہ اکبر چونتیس مرتبہ (٣٤)۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31214]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31214، ترقيم محمد عوامة 29862)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 29863 ترقیم الشثری: -- 31215
٣١٢١٥ - حدثنا وكيع عن شعبة عن الحكم عن عبد الرحمن بن ابي ليلى عن كعب بن عجرة قال: ثلاث لا يخيب قائلهن او قال: (قائلوهن) (١) : يسبح ثلاثا وثلاثين، (ويحمد) (٢) ثلاثا وثلاثين، ويكبر اربعا وثلاثين في دبر كل صلاة (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (فاعلهن)، وفي [أ، ب]: (قائلتهن).
(٢) في [ط]: (تحمد).
(٣) صحيح؛ أخرجه الطيالسي (١٠٦٠)، والبغوي في الجعديات (١٤٢)، وانظر: ما قبله وبعده.

حضرت حکم، حضرت عبد الرحمن بن ابی لیلی کے حوالے سے حضرت کعب بن عجرہ کا ارشاد نقل کرتے ہیں: تین کلمات ایسے ہیں کہ ان کا کہنے والا، یا فرمایا، ان کے کہنے والے، خسارہ میں نہیں ہوئے: تینتیس (٣٣) مرتبہ سبحان اللہ کہنا، اور تینتیس (٣٣) مرتبہ الحمد للہ کہنا، اور چونتیس (٣٤) مرتبہ اللہ اکبر کا کہنا، ہر نماز کے بعد، حضرت حکم فرماتے ہیں: پھر میں نے کبھی بھی ان کلمات کو نہیں چھوڑا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31215]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31215، ترقيم محمد عوامة 29863)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 31216
٣١٢١٦ - قال الحكم: فما (تركتهن) (١) بعد.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (تركهن).
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31216، ترقيم محمد عوامة ---)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 29864 ترقیم الشثری: -- 31217
٣١٢١٧ - حدثنا ابو الاحوص عن منصور عن الحكم عن عبد الرحمن بن ابي ليلى عن كعب قال: معقبات لا يخيب قائلهن ثم ذكر مثل حديث وكيع (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح؛ أخرجه عبد الرزاق (٣١٩٣)، والبخاري في الأدب المفرد (٦٢٢)، والنسائي في الكبرى (٩٩٨٤)، وانظر: ما قبله.
حضرت عبد الرحمن بن ابی لیلی فرماتے ہیں کہ حضرت کعب کا ارشاد ہے: چند کلمات پیچھے آنے والے ایسے ہیں ان کا کہنے والا خسارہ میں نہیں ہوتا، پھر حضرت ابو الاحوص نے حضرت وکیع والی حدیث جیسا مضمون نقل فرمایا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31217]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31217، ترقيم محمد عوامة 29864)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 29865 ترقیم الشثری: -- 31218
٣١٢١٨ - حدثنا وكيع عن يونس بن ابي إسحاق عن ابي بكر (بن) (١) ابي موسى عن ابي موسى انه كان يقول إذا فرغ من صلاته: اللهم اغفر لي ذنبي، ويسر لي امري، وبارك لي في رزقي (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (أن).
(٢) حسن؛ يونس بن أبي إسحاق صدوق.

حضرت ابوبکر بن ابی موسیٰ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو موسیٰ جب نماز سے فارغ ہوتے تو یوں دعا فرماتے تھے: اے اللہ! میرے گناہوں کو معاف فرما، اور میرے معاملہ کو آسان فرما، اور میرے رزق میں برکت عطا فرما۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31218]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31218، ترقيم محمد عوامة 29865)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 29866 ترقیم الشثری: -- 31219
٣١٢١٩ - حدثنا يزيد بن هارون اخبرنا مسعر عن محمد بن عبد الرحمن عن طيسلة عن ابن عمر قال: من قال (١) دبر كل صلاة وإذا اخذ مضجعه: الله اكبر كبيرا عدد الشفع والوتر وكلمات الله التامات الطيبات المباركات -ثلاثا، ولا إله إلا الله مثل ذلك، كن له في قبره نورا، وعلى الجسر نورا، وعلى الصرط نورا حتى يدخلنه الجنة -او يدخل الجنة (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ، ك]: زيادة (في).
(٢) صحيح.

حضرت طیسلہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا ارشاد ہے: جو شخص نماز پڑھنے کے بعد اپنی جگہ پر ہی بیٹھا رہے اور یہ کلمات کہے: اللہ بڑی کبریائی والا ہے، طاق اور جفت عدد کے مطابق، اور اللہ کے کلمات مکمل، پاکیزہ اور بابرکات ہیں۔ تین مرتبہ، اور اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، تین مرتبہ۔ تو یہ کلمات اس شخص کے لیے قبر میں نور بن جائیں گے، اور پل صراط پر نور بن جائیں گے، یہاں تک کہ اس بندے کو جنت میں داخل کروائیں گے یا فرمایا: وہ جنت میں داخل ہوجائے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31219]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31219، ترقيم محمد عوامة 29866)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 29867 ترقیم الشثری: -- 31220
٣١٢٢٠ - حدثنا وكيع عن سفيان عن ابي إسحاق عن عاصم بن ضمرة عن علي انه كان يقول: (١) تم نورك فهديت فلك الحمد، وعظم حلمك فعفوت فلك ⦗١٤٢⦘ الحمد، وبسطت يدك (فاعطيت) (٢) فلك الحمد، ربنا وجهك اكرم الوجوه، وجاهك خير الجاه، وعطيتك افضل العطية واهناها، تطاع ربنا (فتشكر) (٣) وتعصى ربنا فتغفر، تجيب المضطر، وتكشف الضر، وتشفي السقيم وتنجي من الكرب، وتقبل التوبة، وتغفر (الذنب) (٤) لمن شئت، لا يجزئ (بآلائك) (٥) احد، ولا يحصي (نعماءك) (٦) قول قائل -يعني (كل) (٧) يقول: بعد الصلاة (٨) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: زيادة (اللهم).
(٢) في [جـ]: (فأعطينا).
(٣) في [ط، ب]: (فتشكي).
(٤) في [ب]: (الذنوب).
(٥) في [هـ]: (آلاءك).
(٦) في [جـ، ك]: (نعماك).
(٧) سقط من: [ط، هـ].
(٨) حسن؛ عاصم بن ضمرة صدوق.

حضرت عاصم بن ضمرہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ یوں دعا فرماتے تھے: تیرا نور مکمل ہوا پھر تو نے ہدایت عطا فرمائی، پس تیرے لیے ہی تمام تعریفیں ہیں، اور تیری حلم و برد باری عظیم ہوئی پھر تو نے در گزر فرمایا، پس تمام تعریفیں تیرے ہی لیے ہیں، اور تیرا ہاتھ کشادہ ہوا، پھر تو نے عطا فرمایا پس تیرے لیے ہی تمام تعریفیں ہیں، ہمارے رب! تیرا چہرہ تمام چہروں میں معزز ترین ہے، اور تیرا مرتبہ سب مرتبوں والے سے بہتر ہے، اور تیرا عطیہ افضل ترین اور فائدہ مند عطیہ ہے، ہمارے رب کی اطاعت کی جائے تو وہ ممنون ہوتا ہے، اور ہمارے رب کی نافرمانی کی جائے تو وہ مغفرت کرتا ہے، اور مجبور و پریشان کی پکار کا جواب دیتا ہے، اور تو مصیبت و تکلیف کو دور کرتا ہے، اور تو بیماروں کو شفا دیتا ہے، اور جس کے لئے چاہتا ہے گناہوں کو معاف کردیتا ہے، کوئی شخص بھی تیری نعمتوں کا بدلہ نہیں دے سکتا، اور کہنے والے کی بات تیری نعمتوں کو شمار نہیں کرسکتی، یہ سب کلمات آپ فرض نماز کے بعد کہتے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31220]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31220، ترقيم محمد عوامة 29867)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 29868 ترقیم الشثری: -- 31221
٣١٢٢١ - حدثنا ابو معاوية عن الاعمش عن عمير بن (سعيد) (١) قال: كان عبد الله (يدعو) (٢) (٣) بهذه الدعوات بعد التشهد: اللهم إني اسالك من الخير كله ما علمت (منه) (٤) وما لم اعلم، (واعوذ بك من الشر كله ما علمت منه وما لم اعلم) (٥) ، (اللهم) (٦) إني اسالك خير ما سالك عبادك الصالحون، واعوذ بك من شر ما عاذ منه عبادك الصالحون، ربنا آتنا في الدنيا حسنة وفي الآخرة حسنة وقنا ⦗١٤٣⦘ عذاب النار، ربنا إننا آمنا فاغفر لنا ذنوبنا وكفر عنا سيئاتنا وتوفنا مع الابرار، ربنا (و) (٧) آتنا ما وعدتنا على رسلك ولا تخزنا يوم القيامة إنك لا تخلف الميعاد (٨) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ، هـ]: (سعد).
(٢) في [ط]: (يدع).
(٣) في [ط]: زيادة (هوا).
(٤) في [ط]: (منها).
(٥) سقط من: [أ، ب، ط].
(٦) سقط من: [ك، م].
(٧) سقط من: [جـ].
(٨) صحيح.

حضرت عمیربن سعید فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نماز میں تشھد کے بعد یہ دعائیں مانگا کرتے تھے: اے اللہ! میں آپ سے تمام بھلائی کا سوال کرتا ہوں چاہے میں جانتا ہوں یا نہ جانتا ہوں، اور میں آپ کی پناہ مانگتا ہوں مکمل شر سے، میں اس کو جانتا ہوں یا نہ جانتا ہوں، اے اللہ! میں آپ سے اس بھلائی کا سوال کرتا ہوں جس کا آپ کے نیک بندوں نے آپ سے سوال کیا ہے، اور میں اس شر سے آپ کی پناہ مانگتا ہوں جس کے شر سے آپ کے نیک بندوں نے پناہ مانگی ہے۔ اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں خوبی اور آخرت میں خوبی دے اور ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا، اے ہمارے رب! ہم ایمان لائے، اب ہمارے گناہ بخش دے، اور ہم سے ہماری برائیں دور کر دے، اور ہمیں قیامت کے دن رسوا نہ کرنا، یقینا تو اپنے وعدہ کے خلاف نہیں کرتا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31221]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31221، ترقيم محمد عوامة 29868)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 29869 ترقیم الشثری: -- 31222
٣١٢٢٢ - حدثنا غندر عن شعبة عن زياد بن فياض قال: سمعت (١) مصعب بن سعد يحدث عن سعد انه كان إذا تشهد قال: سبحان الله ملء السماوات وملء الارض وما بينهما وما تحت الثرى (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ك]: زيادة (رسول اللَّه ﷺ).
(٢) صحيح.

حضرت مصعب بن سعد فرماتے ہیں کہ حضرت سعد جب تشھد پڑھ لیتے پھر یہ دعا فرماتے: اللہ ہی کے لیے پاکی ہے جس سے آسمان بھر جائیں اور زمین بھر جائے اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے وہ بھر جائے اور جو کچھ زمین کے نیچے ہے وہ بھر جائے۔ حضرت شعبہ فرماتے ہں ہ: میں نہیں جانتا: پہلے اللہ سب سے بڑا ہے کہا یا یوں کہا: اللہ ہی کے لئے سب تعریفیں ہیں تعریف، پاکیزہ اور بابرکت ہے، نہیں ہے کوئی خدا سوائے اللہ کے جو اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے، اس ہی کا ملک ہے اور اس کے لیے ہی تعریف ہے، اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے، اے اللہ! میں آپ سے تمام بھلائی کا سوال کرتا ہوں، پھر حضرت سعد سلام پھیر دیتے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31222]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31222، ترقيم محمد عوامة 29869)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 31223
٣١٢٢٣ - قال (شعبة) (١) : لا ادري الله اكبر قبل او الحمد لله حمدا طيبا مباركا فيه لا إله إلا الله وحده لا شريك له، له الملك وله الحمد، وهو على كل شيء قدير اللهم إني اسالك من الخير كله، ثم يسلم.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ، ط، ك]: (سعيد)، وقد تقدم الخبر ١/ ٢٩٦ برقم [٣٠٥٣]، وفيه شعبة.
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31223، ترقيم محمد عوامة ---)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں